Jan 7 2015
Islamic Question Answer in Urdu – 2
Islamic Question Answer in Urdu – 2
سوال:۔نہی کی چند مثالیں بتلائیے؟
جواب:۔جیسے جھوٹ مت بولئیے، چوری مت کیجئے،مانباپ کو مت ستائیے۔
سوال:۔سب احکام ایک ہی درجہ کے ہوتے ہیں، یاان کے درجے ہیں؟
جواب:۔ان میں درجات ہوتے ہیں،ان میں بعض احکام فرض، بعض واجب،بعض سنت، بعض مستحب، بعض نفل درجے کے ہوتے ہیں، بعض کو مکروہ اور بعض کو حرام کہا جاتا ہے، اس کی تفصیلات کیلئے بڑی کتابوں اور اپنے اساتذہ سے رجوع کیجئے۔
سوال:۔ایمان کن کن چیزوں پر لانا ہے؟
جواب:۔مختصر پیرائے میں اتنا ماننا بے حد اہم ہے جن کو ہم ایمانیات کے بیان میں ایمان مفصل سے تعبیر کرتے ہیں۔
سوال:۔ایمان مفصل سے مراد؟
جواب:۔(۱) اللہ (۲) فرشتے (۳) کتابیں (۴) رسول (۵) قیامت (۶) مرنے کے بعد اٹھایا جانا (۷) تقدیر پر یقین۔ ایمان مفصل کہلاتا ہے۔
سوال:۔ایمان کا بنیادی کلمہ کونسا ہے؟
جواب:۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
سوال:۔یہ کس کے الفاظ ہیں اور اس میں کس کا علم ہے؟
جواب:۔یہ اللہ کے الفاظ ہیں، قرآن کے الفاظ ہیں، اس میں اللہ کا علم ہے
سوال:۔کلمۂ طیبہ میں جو کوئی کا ترجمہ کیا جاتا ہے وہ کس لفظ کے معنیٰ ہیں؟
جواب:۔لا الٰہ کی ترکیب سے کوئی کے معنیٰ پیدا ہوتے ہیں۔
سوال:۔کوئی کا کیا مطلب؟
جواب:۔کوئی کا مصداق مخلوق ہے
سوال:۔اس کا مصداق خلق کوکیوں ٹہرایاجارہا ہے؟
جواب:۔اس لئے کہ اللہ کے سوا جوکوئی ہے وہ مخلوق ہے
سوال:۔اللہ اور الٰہ میں کیا فرق ہے؟
جواب:۔اللہ اسم ذات ہے اور الہ اسم صفت ہے جس کے مرادی معنیٰ لائق عبادت کے آتے ہیں۔
سوال:۔نفاق کس کو کہتے ہیں؟
جواب:۔کلمہ طیبہ کا بظاہر اقرار کرنا مگر دل سے انکار کرنانفاق کہلاتا ہے
سوال:۔منافقین کا انجام کیا ہوگا؟
جواب:۔منافقین کا انجام بہت بھیانک ہے وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں سخت عذابوں میں رہیں گے
سوال:۔ارتداد کیا ہے؟
جواب:۔اسلام کے عقائد و اعمال کو قبول کرنے کے بعد پھر اس کا انکار کردینا ارتداد کہلاتا ہے
سول:۔ ارتداد والے لوگوں کا انجام کیا ہے؟
جواب:۔کافروں، مشرکوں اور منافقوں کی طرح مرتد لوگ بھی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کی تکلیفوں میں مبتلا کردئیے جائینگے۔
سوال:۔ایمان کے معنیٰ کیا ہیں؟
جواب:۔ایمان کے معنیٰ یقین کے ہیں
سوال:۔یقین سے کس بات کا یقین مراد ہوتا ہے؟
جواب:۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذات اور ان کی بات پر یقین کو ایمان کہتے ہیں۔
سوال:۔ایمان کے کتنے رکن ہیں؟
جواب:۔ایمان کے دو رکن ہیں، (۱) اقرار باللسان (۲) تصدیق بالجنان (اقرار لسانی، تصدیق قلبی)
سوال:۔ایمان کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب:۔ایمان کی تین قسمیں ہیں (۱) اجمالی (۲)تفصیلی (۳) تحقیقی
سوال:۔ایمان اجمالی کاکیا مطلب؟
جواب:۔اجمالی ایمان وہ ہے جو ایمان مجمل کے نام سے لکھا پڑھا اور یاد کرایا جاتاہے
سوال:۔ایمان مجمل کیا ہے؟
جواب:۔
سوال:۔ان جملوں کا خلاصہ کیا ہے؟
جواب:۔ایمانِ اجمالی کا خلاصہ دو چیزیں ہیں۔ (۱) اللہ پر ایمان لانا جیسے کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفات کے ساتھ ہے
(۲) اللہ کے تمام احکام کو تسلیم کرنا











Jan 7 2015
Islamic Question Answer in Urdu – 3
Islamic Question Answer in Urdu – 3
سوال:۔ایمان کی تفصیل کیا ہے؟
جواب:۔وہی ایمان مفصل ہے جس میں سات چیزوں پر یقین کے نام سے اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے
سوال:۔ایمان تحقیقی کیا ہے؟
جواب:۔وہ صرف الفاظ کا نام نہیں یا چند لسانی جملوں کا نام نہیں بلکہ باعتبار عقیدہ مصداقات ایمان سے دل کی تصدیق متعلق ہوتی ہے۔
سوال:۔اللہ کے ساتھ شرک کے معنیٰ ہیں؟
جواب:۔جب مخلوقات میں سے کسی کو الٰہ مان لیا جائے تو یہی اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
سوال:۔الٰہ کس کو کہتے ہیں؟
جواب:۔الٰہ اس کوکہتے ہیں جس کی عبادت کی جائے اور جس سے رب یعنی پروردگار اور فاعل ومختار ہونے کے اعتبار سے مدد چاہی جائے اور جس سے حاجت و مراد پانے کیلئے نذر منت مانی جائے۔
سوال:۔دل سے شرک کو کس طرح نکالا جائے، اور توحید کوکس طرح حاصل کرنا چاہئے؟
جواب:۔کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے اقرار و تصدیق سے شرک نکل جاتا ہے اور توحید حاصل ہوتی ہے، یعنی جب بذریعہ لا الٰہ غیر اللہ کے الٰہ ہونے کا انکار اور نفی کردی گئی تو شرک نکل جاتا ہے، اور بذریعہ الا اللہ ، اللہ ہی کے الٰہ ہونے کا اقرار وتصدیق کی جائے تو توحید حاصل ہوتی ہے۔ مشرک اللہ کی معبودیت و عبادت اور ربوبیت و استعانت میں غیر اللہ کو شریک کرتے ہیں ، حالانکہ معبودیت اور ربوبیت خاص اللہ ہی کیلئے ہے، لہٰذا لا الٰہ الا اللہ میں تعلیم اس طرح دی جاتی ہے کہ کلمہ لا جملہ مخلوقات کی ذات سے معبودیت اور ربوبیت چھین لیتا ہے اور الا، اللہ ہی کیلئے ثابت کردیتا ہے جس کا وہ مستحق ہے اور یہ صدق محض ہے، اسلئے اللہ ہی الٰہ ہے غیراللہ الٰہ نہیں ہے۔
سوال:۔اللہ تعالیٰ اور مخلوقات کا باہمی ربط بتلائیے؟
جواب:۔اللہ تعالیٰ خالق ہیں، ساری کائنات مخلوق، اللہ تعالیٰ مالک ہیں، ساری کائنات مملوک، اللہ تعالیٰ حاکم ہیں، ساری کائنات محکوم، اللہ تعالیٰ رب ہیں، ساری کائنات مربوب، اللہ تعالیٰ معبود ہیں اور ساری کائنات اللہ کی غلام۔ پس ساری مخلوق اللہ ہی کی ہے ، لہذا فطرت اور انسانیت اور شرافت کی پکار یہ ہے کہ ہر انسان اپنا رخ خدا کی طرف کرے اور یہ اقرار کرے۔
یعنی میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
سوال:۔احسان کیا ہے؟
جواب:۔فکر و عمل کو اچھے سے اچھا بنانا احسان کہلاتا ہے۔
سوال:۔اولیاء کے پاس احسان کا مطلب کیا ہے؟
جواب:۔اللہ کی عبادت ایسی کرناگویا کہ خدا کو دیکھ رہے ہیں یا کم از کم یہ شعور رہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہے۔
سوال:۔احسان کے کتنے اجزاء ہیں؟
جواب:۔احسان کے دو نصف ہیں۔
سوال:۔احسان کا ثبوت جس میں آیا ہے وہ حدیث کیا ہے؟
احسان کیا ہے؟ پوچھے جانے پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسی کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم نہ دیکھ سکو تو یہ یقین رکھو اور شعور رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے۔
سوال:۔حدیث کے احسان کے ان دو اجزاء کو اولیاء کرام کس نام سے یاد کرتے ہیں؟
جواب:۔پہلے نصف کو مشاہدہ کہتے ہیں اور دوسرے جزء کو مراقبہ کہتے ہیں۔
سوال:۔مشاہدہ اور مراقبہ کا سادہ مطلب بتلائیے؟
جواب:۔اللہ کو دیکھنے کا استحضار مشاہدہ کہلاتا ہے اور اللہ کا بندے کو دیکھنا یہ شعور مراقبہ کہلاتا ہے۔
سوال:۔بزرگان دین حدیثِ جبرئیل ں کو تصوف کی بنیاد اور بناء پر درویشی کہتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:۔ہاں اس روایت کو بناء درویشی کہا جاسکتا ہے۔
سوال:۔اسلام اور ایمان عموماً کس طرح حاصل ہوتا ہے؟
جواب:۔ان چیزوں کا حصول بلاشرط بیعت علماء کرام اور اساتذۂ دین سے ہوتا ہے۔
سوال:۔احسان کا حصول کس طرح ہوسکتا ہے؟
جواب:۔تحصیل احسان علماء ربانی، عرفاء یزدانی، اولیاء اور مرشدین سے بیعت ہونے، ربط قائم کرنے اور کتاب و سنت کے مطابق بزرگوں کی تعلیم و تلقین سے ہوتا ہے۔
سوال:۔اخلاق کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب:۔اخلاق کی دو قسمیں ہیں (۱) اخلاق حسنہ (۲) اخلاق رذیلہ۔
سوال:۔اخلاق حسنہ کس کو کہتے ہیں؟
جواب:۔اچھی اور پسندیدہ عادتوں اور باطنی خوبیوں کو اخلاقِ حسنہ کہتے ہیں۔
سوال:۔اخلاقِ رذیلہ کس کو کہتے ہیں؟
جواب:۔بری عادتوں اور باطنی خرابیوں کو اخلاقِ رذیلہ کہا جاتا ہے۔
سوال:۔اچھے اور برے اخلاق کس سے متعلق ہیں؟
جواب:۔اچھے اور برے اخلاق کا زیادہ تر تعلق دل سے ہے۔
سوال:۔دل بگڑنے کا اصل سبب کیا ہے؟
جواب:۔دل بگڑنے کا اصل سبب دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت ہی تمام برائیوں اور خرابیوں کی جڑ ہے۔
سوال:۔حب دنیا کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:۔دنیا کی چیزوں سے غیرضروری تعلق اور بے جا لذت اور غیر ضروری دلچسپی لینے کا نام حب دنیا ہے۔
By silsilaekamaliya • Islamic Question and Answer • Tags: Islam Question and Answer, Islam Question Answer Urdu