Jan 30 2015
khutba e Sania 1
khutba e Sania 1
Ahle Mashriq Mein Khutba e Saniya Ki Ahmiyat
Hazrath Maulana Shah Mufti Mohammed Nawal ur Rahman Sahab Damat Barkatuhum

Jan 30 2015
Hazrath Maulana Shah Mufti Mohammed Nawal ur Rahman Sahab Damat Barkatuhum

Jan 29 2015
نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم۔ اللہ تعالٰی ہمارے خالق، مالک، حاکم، رب اور معبود ہیں۔ اس لئے الہ ہیں ۔ ایک سوال کہ جن کو ہم نے یہ سب یعنی “خالق، مالک، حاکم،رب، معبود” مانا ہے، کہاں ہے؟ سوال کرنے والے سب سن لیں اور توجہ سے سنیں ۔ اللہ تعالٰی نے
فرمایا وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔ ارشاد ہوا بے شک میں قریب ہوں۔ مجھ جیسےمعمولی سمجھ والے کے لئے یہ کافی ہے۔ پتہ مل گیا۔لیکن کچھ شعور والا بھائی ہو تو اس سے مطمئن نہں ہوگا۔ یہ سوال تو آئیگاکہ قریب تو ہیں لیکن کتنے قریب؟ اس تقاضہ کا، اس سوال کا جواب ارشاد ہوا۔ “نحن اقرب الہی من حبل الورید” ہم اسکی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اپنی جان کو دیکھ لیا؟ دیکھ لیا۔ تجھ سے تیری جان جتنی قریب ہے ہم اس سے زیادہ قریب ہیں ۔ اب پتہ مل گیا، راز کھل گیا۔ اطمنارن ہوگیا ۔ لیکن یہ حضرتِ انسان ہیں، پھر بھی اطمینان نہیں۔ پھر سوال ہوا کہ کب کب اقرب رہتے ہیں؟ نماز میں؟ مراقبہ میں؟ مشاہدہ میں؟ کب کب؟۔
جواب آیا “وھومعکم این ماکنتم” تو جہاں ہے وہیں ہوں۔ تو زمین پر ہے تو میں تیرے ساتھ، تو عبادت میں ہے تو میں تیرے ساتھ، تو معصیت میں ہے تو میں تیرے ساتھ۔ اور کچھ پوچھنا ہے؟ ایک اور بات سمجھ میں نہیں آئی کہ میرے ساتھ کیسے؟ تو سنو ! ” خبردار! ہوشیار ! دل کی آنکھ کھول کر بات سنو! ہوش سے سنو! “ ألا إنه بكل شيء محيط” پھر پوچھا کیسے محیط ہیں؟ اندر یا باہر؟ نیچے یا اوپر؟ آگے یا پیچھے؟ تو سنو! تمہارے اندر، باہر، نیچے، اوپر، آگے اور پیچھے ہم محیط ہیں۔ اب سوالات کے فطری تقاضے ختم ہوئے۔ اب میری طرف سے انعام کے طور پر سنو! “ھوالاول والآخر والظاھر والباطن وھو بکل شی محیط” اب فکرِ انسانی کوئی سوال اٹھا سکتی ہے تو اٹھائے۔ یہ فضل و کرم ہے، نوازش ہے۔ میں تیرا اول و آخر ظاہر و باطن! ہاں! یہی وہ مقام ہے جہاں بعض مشأیخین و صوفیا بھی چکر کھا رہے ہیں۔یُضِلُّ بِه مَنْ یَّشَآءُ کی تجلی نظر آرہی ہے۔ قرآن کی اسی آیت کو پڑھ کر دوزخ کا ایندھن بنتے جارہے ہیں۔
دل کی نمازیں، ھو حق کے نعرے چل رہے ہیں۔ تو کون ہے؟ جواب ملیگا “میں شئے ہوں”۔ تو فرمایا میں شئے کا اول و آخر اور ظاہر و باطن ہوں۔ اگر شئے ہی نہ ہو تو کس کے اول؟ کس کے آخر؟ کس کے ظاہر؟ کس کے باطن؟ پتہ بتا دیا۔ پوری پوری ہدایت بینہ ہے۔ واضح حقأیق ہیں۔ شئے کا علم دے کر یہ سارے اعتبارات کھولے گئے۔ اللہ علیم، اور شئے “معلوم”۔ ماشأاللہ! اگر شئے ہی نہیں ہے تو اولیت و آخریت، ظاہریت و باطنیت بے معنی ہو جأیں ہر بال شئے، اسکے اول و آخر ظاہر باطن اللہ۔ خون کا ہر قطرہ شئے، اس کے اول و آخر ظاہر باطن اللہ۔ شیطان سئے، اس کے اول آخر ظاہر باطن اللہ۔ جنت شئے، اس کے اول آخر ظاہر، باطن اللہ، دوزخ شئے، اس کے اول آخر ظاہر باطن اللہ دل چپ نہیں رہتا اس لئے کہ پوچھنے والے کا نام ہی دل ہے۔ اللہ تعالٰی آپ کو اور مجھے عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Jan 29 2015
Hazrath Maulana Shah Mufti Mohammed Nawal ur Rahman Sahab Damat Barkatuhum

Jan 26 2015
دنیا کی وہ تمام عظیم الشان قومیں جنہوں نے دنیا میں کوئی بڑا کام کیا ہے یا جو دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتی ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے پورے نظامِ ہستی کو کسی ایک قانون پر مبنی کریں اور اپنی تمام منتشر قوتوں کو کسی ایک اصول کے تحت مجتمع کریں، زندگی کے سینکڑوں شعبے اور بقائے ہستی اور ترقی کے ہزارہا شاخ در شاخ اعمال جو دیکھنے میں تمام تر منتشر، پراگندہ، متفرق اور ایک دوسرے سے الگ نظر آتے ہیں، ان سب کے درمیان ایک واحد نظام، ایک متحدہ اصول اور ایک مشترکہ جامعیت پیدا کریں، جن کا شیرازہ ان متفرق و پراگندہ اوراق کو ایک منظم کتاب بنادے۔

دنیا جب سے بنی ہے تب سے آج تک ہزارہا قومیں پیدا ہوئیں اور مریں؛ لیکن کسی قوم نے اس وقت تک ترقی نہیں کی جب تک کہ اس کے اندر اس کی زندگی کا کوئی واحد نظام نہیں پیدا ہوا، اور کسی واحد متخیلہ نے ان کے اندر یہ اہمیت نہیں پیدا کرلی ہے کہ وہ اس کے تمام افراد کی زندگی کی غرض و غایت اور اس کے تمام اعمال کا مرکز و مرجع اور جہت و قبلہ نہ بن گیا ہو، وہی واحد متخیلہ بڑھ کر واحد جماعت اور اس سے بھی زیادہ پھیل کر ایک واحد ملت کی تخلیق و تکوین کرتا ہے۔
ہم اس کو ایک مثال میں سمجھانا چاہتے ہیں، روم کی سلطنت کا آغاز گاؤں سے ہوا اور رفتہ رفتہ یہ نقطہ بڑھتا گیا، یہاں تک کہ صدیق میں ایک عظیم الشان سلطنت بن گئی، اس دائرہ کا نقطۂ خیال، مرکزِ اتحاد، جہتِ اشتراک، اساسِ جامعیت، رومیت قرار پائی، جس نے رومیت کے اصول کو تسلیم کیا اس کو شہرِ روم کے باشندوں کے حقوق عطا ہوئے اور جس نے قبول نہ کیا یا جس کو یہ شرف خود رومیوں نے عطا نہیں کیا وہ ان حقوق سے محروم رہا، صدیوں تک یہ رومیت رومی قوم کی زندگی کا شعلۂ حیات رہی اور اس کی روشنی سے پورا رومن امپائر اسپین سے لے کر شام تک جگمگاتا رہا، مگر جیسے جیسے یہ روشنی ماند پڑتی گئی اندھیرا چھاتا گیا اور جیسےسے رومی عمارت کی یہ مستحکم بنیاد کمزور پڑتی گئی ڈہتی گئی، یہاں تک کہ ایک دن یہ عمارت گر کر زمین کے برابر ہوگئی۔
الغرض قوموں کی موت و حیات کسی ایک ’’متخیلہ‘‘ کی موت و حیات پر موقوف ہے، جس کی زندگی سے زندگی اور جس کی موت سے موت ہے، گذشتہ جنگ میں اور اس جنگ میں بھی آپ سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ انگریز، جرمن یا جرمن انگریز سے لڑ رہے ہیں، نہیں!انگریزیت جرمنیت سے یا جرمنیت انگریزیت سے لڑ رہی تھی اور لڑ رہی ہے، قوم قوم سے نہیں لڑ رہی ہے بلکہ ایک یقینی تخیل دوسرے یقینی تخیل سے لڑتا ہے۔
قوم کی زندگی کا وہ یقینی تخیل اس کے تمام کاموں کی اساس و بنیاد بن جاتا ہے، پوری قوم اور قوم کے تمام افراد اس ایک نقطہ پر جمع ہوجاتے ہیں، وہ نقطۂ ماسکہ ان کی پوری زندگی کا محور بن جاتا ہے، اسی ایک تخیل کا رشتہ منتشر افراد کو بھائی بھائی بناکر ایک قوم کے مشترکہ افراد ترتیب دیتا ہے اور ایک واحد، متحد، منظم اور قوی قوم بناکر کھڑا کردیتا ہے۔
جب کبھی دو قوموں کا مقابلہ ہوگا تو ہمیشہ اس کو فتح ہوگی جس کا نقطۂ تخیل زبردست ہوگا اور جس کے افراد اس رشتۂ حیات میں سب سے زیادہ مستحکم بندھے ہوں گے اور جو اس مشترک اساس و بنیاد پر سب سے زیادہ متفق و متحد ہوں گے، عربوں نے اسی قوت سے قیصر و کسریٰ کو شکستِ فاش دی، عربوں کے پاس ایرانیوں کے خزانے اور نہ رومیوں کے اسلحہ تھے، مگر ان کے پاس وہ قوتِ ایمانی تھی جس سے ایرانی اور رومی محروم تھے۔
جب کوئی قوم تنزّل پذیر ہوتی ہے تو اس کی وہی قوتِ ایمانی کمزور ہوجاتی ہے، اس کی وہی مشترک اساس و بنیاد منہدم ہونے لگتی ہے اور قوم کی زندگی کا مقصد اس مشترکہ قومی غرض و غایت سے ہٹ کر اپنے اپنے نفس، اپنے اپنے خاندان، اپنی اپنی جماعت میں بٹ جاتا ہے، اس لئے اس میں قومی خائن پیدا ہوتے ہیں جن کے پیشِ نظر اس مشترکہ جامعیت کے فوائد و نقصانات کے بجائے خود اپنی ذات و خاندان کا فائدہ و نقصان ہوتا ہے۔
مٹھی بھر انگریزوں نے ہندوستان کے روپئے سے اور ہندوستان ہی کے سپاہیوں سے خود ہندوستان کو فتح کیا، حالانکہ اس وقت پورے ملک میں اودھ، روہیل کھنڈ، بنگال، مرہٹہ، میسور اور حیدرآباد کی ایسی عظیم الشان طاقتیں تھیں جن کے بس میں تھا کہ انگریزوں کو پوری طرح شکست دے دیں، مگر ایسا نہ ہوسکا، اس لئے کہ انگریزوں کے سامنے ایک متحدہ و مشترکہ تخیل تھا جس پر پوری قوم متفق تھی، جو انگریز جہاں بھی تھا چاہے وہ سپاہی ہو، یا گودام کا کلرک ہو، یا سوداگر ہو، یا ڈاکٹر ہو، یا جنرل ہو یا گورنر ہو ہر ایک کے سامنے ایک ہی بلند مقصد تھا اور وہ انگلستان کی سربلندی اور عظمت، لیکن ہندوستانیوں کے سامنے باوجود طاقت و قوت کے کوئی ایک متحدہ غرض، مشترکہ جامعیت، واحد اساسِ کار اور متفقہ بنیادِ عمل نہ تھی جس کا بچاؤ، جس کی حفاظت اور جس کا اِعلاء پوری قوم کی غرض و غایت اور بنیاد و اساس ہوتی، ہر نواب، ہر رئیس، ہر سپہ سالار، ہر سپاہی اور ہر نوکر کا مقصد اپنی فکر اور اپنی ترقی تھی، اس حالت میں نتیجہ معلوم۔
اب ایک اور حیثیت سے نظر ڈالئے، دنیا کی ہر متمدن قوم کے پورے نظامِ زندگی کا ایک اصل الاصول ہوتا ہے، فرض کرو کہ آج روسی بالشوسٹ کے سارے نظام کا ایک واحد نقطۂ خیال ہے، اور وہ سرمایہ داری کی مخالفت ہے جو اس نظام کی اصل اساس ہے، اب جس قدر اس نظام کی شاخیں، شعبے، صیغے اور کام ہیں سب ایک اصل الاصول یعنی ’’سرمایہ داری کی مخالفت‘‘ پر مبنی ہیں، اسی طرح ہر ترقی یافتہ قوم کے تمدن اور نظامِ ہستی کا ایک اصولی نقطہ ہوتا ہے جس کے تحت میں اس تمدّن اور نظامِ ہستی کے تمام شعبہ اور فروع ہوتے ہیں۔
اسی طرح آج انگریزی جد و جہد کی بنیاد، انگریزی سرمایہ داری، امریکن تمدّن کی بنیاد امریکن سرمایہ داری، نازی تمدّن کی بنیاد جرمن قوم کی سربلندی اور فسست کی بنیاد پرانی رومی قیصریت کی دوبارہ تعمیر پر ہے، اگر کسی تمدّن اور نظام کا یہ سرا نکال دیا جائے تو اس تمدن کے تمام اجزاء اور اس نظام کے تمام شعبے بے معنیٰ، بے سود اور بے اساس ہوکر رہ جائیں، اور چند ہی روز میں وہ تمام سر رشتے تارِ عنکبوت ہوکر نابود ہوجائیں، اسی لئے ہر قومی تمدّن اور نظامِ ملت کو سمجھنے کے لئے اس کے اس اساسِ کار، سر رشتۂ خیال اور اصل الاصول کو سمجھنا چاہئے، جب تک وہ سِرا ہاتھ نہ آئے گا اس نظامِ ملت کا الجھاؤ سلجھ نہیں سکتا۔
اس نقطہ کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا میں گو ہزاروں ملتیں اور قومیتیں ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک ملت و قومیت کا اصل انفرادی تشخص اور امتیازی وجود اس کے گوشت پوست، ہڈی اور رنگ و روغن سے نہیں یہ اوپری سطح اور ظاہری قشر پر کے نشانات اور خطوط ہیں، ان کا اصل انفرادی اور مستقل تشخص اور امتیازی وجود ان ایمانیات اور یقینیات سے ہے جو ہر ایک کے دل میں بسے اور ہر ایک کے رگ و ریشہ میں رچے ہوئے ہیں۔
آج ہندوستان میں ہندو، مسلمان، عیسائی، پارسی، جین، سکھ اور ہزاروں قومیں آباد ہیں، شکل و صورت اور رنگ و روپ کے لحاظ سے ان میں کوئی تفاوت نہیں، اگر ہے تو ہر ایک کے اس متخیلہ میں ہے جس سے اس کی ملت کی تعمیر ہوئی ہے، اس لئے کسی ملت کے متخیلہ کو بدل دینے کے معنیٰ اس ملت کو مٹادینے کے مترادف ہے، دنیا میں جو کمزور قومیں فناء ہوئی ہیں ان کی صورت یہی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنا متخیلہ ایمانی چھوڑ کر کسی دوسری طاقتور قوم کے متخیلۂ ایمانی کو قبول کرلیا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قوم مٹ گئی اور دوسری قوم میں ضم ہوکر وہ خود فناء ہوگئی، ہندوستان کے یونانی، سیتھین اور بودھ کیا ہوئے؟ ایرین ہندوؤں میں سما گئے، ایران کے مجوسی کدھر گئے؟ مسلمانوں میں مل گئے، مصر کے قبطی کہاں گئے؟ عربوں میں شامل ہوگئے، سسلی اور اسپین کے عرب کیا ہوئے؟ اٹلی اور اسپین والوں میں گھل گئے۔
کسی قوم و ملت کی اس تعمیری حقیقت سے باخبر رہنا صرف اس لئے ضروری نہیں کہ وہ ہے اور وہ اس سے بنی ہے، بلکہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی تجدید و اصلاح کی جب کبھی ضرورت پیش آئے تو اس حقیقت کا واقف اسی کے ذریعہ سے اس کی تجدید و مرمّت کرے، اس کی وہ تعمیری حقیقت وہ ساز ہوتا ہے جس کے چھیڑنے سے اس قومیت و ملت کا ہر تار اپنی جگہ پر حرکت کرنے لگتا ہے، اہلِ توحید کے لئے توحید کی آواز اہلِ صلیب کے لئے صلیب کی پکار، گاؤ پرست کے لئے گاؤ کی آواز سحر و طلسم کا حکم رکھتی ہے، جس سے ایک ایک لمحہ میں قوم کی قوم میں جان پڑ جاتی ہے اور سست و ناکارہ قوم بھی کروٹیں بدلنے لگتی ہے، اور آواز کی طاقت کے مطابق سر گرمِ عمل ہوجاتی ہے۔
فرض کرو دنیا میں آج چالیس کروڑ کی تعداد میں ایک ملت آباد ہے جس کا نام مسلمان ہے، اس ملت کی حقیقت کیا ہے؟ توحیدِ الٰہی اور رسالتِ محمدیؐ پر ایمان، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اگر کوئی اس ملت کی حقیقتِ تعمیری کو مٹا ڈالے تو یہ چالیس کروڑ ملت واحدہ چالیس کروڑ قومیتوں میں منقسم ہوکر دم کے دم میں فناء ہوجائے گی اور یہ چالیس کروڑ افراد کا کارواں جو ایک صدائے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے جرس پر حرکت کر رہا ہے، اب اس کی حرکت کے لئے مختلف آوازوں کے چالیس کروڑ جرسوں کی ضرورت پیش آئے گی جس سے دنیا کی قوموں کا تصادم بجائے کم ہونے کے حدّ قیاس سے زیادہ بڑھ جائے گا اور ان کے باہمی جنگ و جدول کو کوئی ایک متحدہ آواز روک نہیں سکتی۔
الغرض ملت کی یہ تعمیری حقیقت ہر ملت کی روح ہوتی ہے، اس کی بقاء سے اس کی زندگی اور اس کی موت سے اس کی فناء ہوتی ہے، یہی ملت کے جسم کا گرم خون ہے جس سے رگ رگ میں زندگی کی لہر دوڑتی ہے اور سعی و عمل کی قوت بیدار ہوتی ہے۔
کسی قوم کی اس اساسِ ملت اور بنیادِ تعمیر سے ہٹ کر جب کبھی اس تجدید کا کام کیا جائے گا تو وہ ساری کوشش بیکار جائے گی، فرض کرو کہ ایک ہندو قوم ہے اس کی قومیت کی بنیاد وہ خاص تخیلات و جذبات ہیں جو ہزار سال سے اس میں پیدا ہوکر اس کی حقیقت کے اجزاء بن گئے ہیں، ذات پات، چھوت چھات، گائے اور گنگا وہ مسالے ہیں جن سے اس کی قومیت کی تعمیر ہوئی ہے، بودھ کے عہد سے آج تک مختلف وقتوں میں بیسیوں ریفارمر اس قوم میں پیدا ہوئے جنہوں نے اس قوم کی ماہیت کے ان اجزاء کو بدل دینا چاہا، مگر یہ کیا آج تک ممکن ہوا؟ اور جب کبھی اس آواز میں عارضی کامیابی ہوئی تو بودھ، جین، کبیر پنتھی اور سکھ قومیں الگ الگ بن گئیں، مگر ہندو قومیت اپنی جگہ پر قائم رہی۔
مسلمانوں میں اسلامی حکومت کے زوال کے بعد سے آج تک بیسیوں تحریکیں مسلمانوں کی تجدید اور نشأۃ ثانیہ کے نام سے اٹھیں اور پھیلیں، مگر جو کامیابی مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کو حاصل ہوئی اور اس نے مسلمانوں کی ذہنی و عملی قویٰ کو بیدار کرنے میں جو عظیم الشان کام کیا، اس کی صرف یہی وجہ تھی کہ وہ تجدید اسلام کے اصل و اساس، نظامِ حقیقی کو سامنے رکھ کر شروع کی گئی تھی اور اس کے بعد بھی موجودہ زمانہ تک اسی تحریک کو فروغ ہوسکا جو اسی اساسِ ملت کے نام سے پیش کی جاتی رہی، اس کامیابی کا عارضی اور ہنگامی ہونا در اصل خود کارکنوں اور تحریک کے علم برداروں کے عارضی یقین اور ہنگامی ایمان کا نتیجہ ہے۔
اب اس تشریح کے بعد اس کے تسلیم کرنے میں کسی کو عذر نہ ہوگا کہ دنیا میں کوئی ترقی یافتہ قوم یا ترقی چاہنے والی قوم ممکن ہی نہیں جس کے پاس چند ایمانیات نہ ہوں یا یوں کہو کہ چند اصولِ کار، اصولِ حیات یا اصولِ نظام نہ ہوں، جن سے اس کی قومیت کی تخلیق ہوتی ہے اور جن سے اس کی ملت و تمدن و حیاتِ اجتماعی کی عمارت قائم ہوتی ہے اور جو اس کے منتشر افراد کے درمیان رشتۂ اشتراک کا کام دیتے ہیں، اور جن کے تحت میں اس قوم کے نظامِ حیات کے تمام شعبے مکمل ہوتے ہیں، یہاں تک کہ کافر و مشرک قومیں بھی اس سے خالی نہیں، ان کے بھی تمام اعمال و افعال ان کے چند یقینی تخیلات اور عقائد کے تحت ہی میں آجاتے ہیں، اس حالت میں یہ کہنا کہ ایمانیات کے بغیر ترقی کے حسنِ عمل یا انسانیت کی نیکئ کردار کا وجود ہوتا ہے، حقائق سے نامحرمی کا ثبوت ہے، ایمان کے بغیر حسنِ عمل اور نیکئ کردار کیا بلکہ نفسِ عمل اور نفسِ کردار ہی کا وجود ممکن نہیں، اب اگر بحث ہوسکتی ہے تو اس میں نہیں کہ ایمانیات کے بغیر حسنِ عمل اور نیکی کردار کا وجود ہوسکتا ہے یا نہیں؟ بلکہ اس میں کہ ان ایمانیات کے تحت میں حسنِ عمل اور نیکی کردار کا وجود زیادہ بہتر ہوسکتا ہے، یا ان ایمانیاں کے تحت میں؟ لیکن یہ نہیں کوئی کہہ سکتا کہ کسی ’’ایمان‘‘ کے بغیر کوئی عمرل، کسی نظامِ حیات کے بغیر کوئی بلند کارنامۂ حیات اور کسی بنیاد کے بغیر کوئی مستحکم عمارت قائم ہوسکتی ہے، آپ اس کا نام انسانیت رکھیں، قومیت رکھیں، وطنیت رکھیں، بالشوزم رکھیں، بت پرستی رکھیں یا توحید یا خدا شناسی رکھیں، جو چاہے رکھیں اور جو چاہے قرار دیں، بہر حال یہ مقدمہ اپنی جگہ پر مسلَّم ہے کہ ’’ایمان کے بغیر عملِ صالح کا وجود ممکن ہی نہیں‘‘، اب سوال یہ ہے کہ ہمارا وہ اساسی خیال جس پر ہماری ملت کی بنیاد ہو اور جو ہمارے تمام اعمال کا سرچشمہ بنے کیا ہونا چاہئے؟
دنیا کی قوموں نے اساسِ ملت کی بنیاد جغرافیائی حدود اور نسلی خصوصیت کو قرار دیا، رومیوں کی ہزار سالہ حکومت رومی وطنیت کے سہارے پر قائم رہی، ہندوؤں، پارسیوں اور یہودیوں کی قومیت نسلی امتیاز پر مبنی ہے، یورپ کی موجودہ قومیتیں، نسل و وطن کی دوہری دیواروں پر کھڑی ہیں، لیکن خود غور کرو کہ جغرافیائی حدود اور نسلی و وطنی خصوصیات نے قوموں کو کتنا تنگ، محدود خیال اور متعصب بنادیا ہے، دنیا کی اکثر خونریزیاں، لڑائیاں اور قومی منافرتیں انہی جذبات نے پیدا کی ہیں، قدیم تاریخ میں ایران و روم کی صد سالہ جنگ اور خود یورپ کی گذشتہ عالمگیر جنگ جس میں انسانوں نے انسانوں کو درندوں کی طرح چیرا اور پھاڑا، اسی نسلی و وطنی جذبات کی شعلہ افروزی تھی اور آج کا خونی تماشا بھی اسی جذبہ کا نتیجہ ہے۔
یہ نسلی اور وطنی افتراق قوموں کے درمیان و ہ خلیج ہے جس کو انسانوں کے ہاتھ کبھی پاٹ نہیں سکتے، نہ تو فطرۃً کسی نسل و قومیت کا کوئی پیدا شدہ انسان دوسری نسل و قومیت میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ ایک مقام کا پیدا شدہ دوسرے مقام کا پیدا شدہ بن سکتا ہے، نہ کالا گورا بن سکتا ہے، نہ گورا کالا اور نہ فرنگی زنگی بن سکتا ہے، نہ زنگی فرنگی، نہ جرمن کو انگریز بنایا جاسکتا ہے اور نہ انگریز کو جرمن، نہ افغانی ہندوستانی بن سکتا ہے اور نہ ہندوستانی افغانی، آج پولینڈ کے کھنڈروں سے لے کر رومانیا کے روغنی چشموں تک جو زمین خون سے لالہ زار ہے اس کا سینہ کیا اسی نسلی و وطنی خونخواریوں سے داغ دار نہیں؟
غرض نسل و وطن کے دائرے اس مضبوطی سے فطرۃً محدود ہیں کہ ان کے اندر تمام دنیا تو کیا، چند قوموں کے سمانے کی بھی وسعت نہیں ہے، ان دونوں کے جذبات و احساسات صرف ایک مختصر و محدود قوم کی جامعیت کا کام دے سکتے ہیں، کسی عالمگیر امن و صلح اور انسانی اخوّت و برادری کی بنیاد اس پر رکھی ہی نہیں جاسکتی۔
پھر ان دونوں محدود تصورات کے ذریعہ سے اگر انسانوں میں کچھ شریفانہ جذبات پیدا ہوسکتے ہیں تو وہ انہی تنگ جغرافیائی اور نسلی دائروں تک محدود رہیں گے اور کبھی تمام دنیا کے اس کے اندر سماجانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، علاوہ ازیں ان اساسی تصورت کے ذریعہ جن بلند انسانی اخلاق اور کیرکٹر کا پیدا کرنا مقصود ہے، ان میں سے صرف نسل و وطن کی حفاظت کی خاطر شجاعت، ایثار و قربانی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں ،مگر عمومی نیکی، تواضع، خاکساری، رحم و شفقت، عفت و عصمت، صدق اور امانت و دیانت وغیرہ سینکڑوں ایجابی اور سلبی اخلاق ہیں جو ان کے ذریعہ نہ کبھی پیدا ہوئے ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔
آج کل یورپ کی تمام جنگ و جدل اور باہمی ہنگامہ آرائی اور تقابل کا وہ پتھر جس سے ان کی دولت اور تہذیب و تمدن کا شیشہ چور چور ہو رہا ہے یہی تنگ و محدود وطنیت و قومیت کا عقیدہ ہے، یہ وہ دیوتا ہے جس پر یورپ کی تمام قومیں بھینٹ چڑھ رہی ہیں، ہر قوم کے تمام دولت مندوں کی دولتیں، تمام عالموں کا علم، تمام سائنس والوں کی سائنس، تمام صنّاعوں کی صنعتیں، تمام موجدوں کی ایجادیں، اپنی قوم کے سواء دنیا کی دوسری انسانی قوموں کی گرفتاری، محکومی، بربادی اور ہلاکت میں صرف ہورہی ہیں۔
آج نازازم اور فسزم کا دور ہے، جس نے ایک بدترین مذہب کی صورت اختیار کرلی ہے، جس میں ہر قسم کی حیوانی قوّت کی نمائش، ہر قسم کی ہلاکت اور انسانی بربادی کا مہیب ترین منظر اور قوت کے دیوتا کے سامنے ہر اخلاقی اور قانونی آئین کی قربانی کا تماشا سب کے سامنے ہے، یہ جو کچھ ہے یہ وہی قومیت اور وطنیت کی خونخوارانہ بُت پرستی کا عبرتناک نظارہ ہے، جس سے نوعِ انسانی کی کسی بھلائی کی توقع نہیں ہوسکتی۔
سوشلزم اور بالشوزم اور دوسرے اقتصادی خیالات سے بھی بھلائی کی توقع نہیں کہ اس نے خود انسانوں کو سرمایہ دار و غیر سرمایہ دار دو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے وہ سب کچھ کیا ہے اور کرنا چاہتی ہے جو کبھی کسی مذہب اور مذہبی محکمۂ تفتیش نے انجام دیا ہے، قوموں کے ساتھ ان کی ناانصافی کا تماشا آج بھی دنیا ترکستان سے لے کر فین لینڈ تک دیکھ رہی ہے، اگر زبردستی کوئی بری چیز ہے تو مذہب سے زبردستی روکنا بھی اتنی ہی بری چیز ہے جتنا زبردستی سے کسی مذہب کو پھیلانا، اگر مسلمانوں کا گرجاؤں کا توڑنا اور عیسائیوں کا مسجدوں کا منہدم کرنا ناجائزہے تو ملحدوں کا ان دونوں کو مسمار کرنا بھی ناجائز ہے۔
پھر ان تخیلات میں جن کی بنیاد محض پیٹ اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہے، کسی اخلاقی نصب العین بننے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے، اسی لئے ان کا محدود اقتصادی نظریہ پورے نظامِ ہستی اور نظامِ زندگی کا معمہ حل نہیں کرسکتا۔
ان سب کے ماوراء یہ ہے کہ ضرورت تو یہ ہے کہ نسلیت و وطنیت کے تنگ دائروں سے نکل کر جس عمومی تصور کو اساسِ ملت بنایا جائے، ان میں بقاء اور دوام کی صلاحیت ہو، سوسائیٹیاں اور جماعتیں جن کی بنیاد کسی مادّی خود غرضی اور منفعت اندوزی پر رکھی جائے وہ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتیں، چنانچہ جب سے دنیا بنی ہے خدا جانے مادّی اغراض کی بناء پر کتنی جماعتی اور مجلسیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، انجمنیں روز بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں، اور سوسائیٹیاں روز پیدا ہوتی ہیں اور مرتی ہیں، ایسی ناپائیدار اور سطحی چیزیں جامعیتِ ملت کی بنیاد اور اساس نہیں بن سکتیں اور نہ وہ ہمارے نظامِ حیات کا اصول اور معیار قرار پاسکتی ہیں۔
غرض عالمگیر اور دائمی اساسِ ملت اور صحیح بنیادِ عمل بننے کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز اساس و بنیاد قرار دی جائے اس میں حسبِ ذیل خصوصیتیں ہوں:
(۱) وہ کوئی مادّی غرض و غایت کی چیز نہ ہو جو ہمیشہ بدل جاتی رہے۔
(۲) وہ کوئی محدود وطنی، نسلی بُت نہ ہو جو اپنے نسل و وطن سے باہر جاکر زندہ نہ رہ سکے۔
(۳) وہ قومی، نسلی اور وطنی منافرتوں اور تفرقوں کو بیخ و بنیاد سے اکھاڑ کر عالمگیر اتحاد اور اخوت کی بنیاد ڈال سکے۔
(۴) وہ تخیل عقیدہ بنکر ہمارے نیک افعال کا محرّک اور بُرے افعال کا مانع بنے، وہ انسانوں کو نیکی کے لئے اُبھارے اور برائی سے روک سکے۔
(۵) وہ ایک ایسا دائمی صحیح اور سچا عقیدہ ہو جس کو مان کر اس برادری میں داخل ہونے میں کسی کو دقت نہ ہو۔
(۶) وہ ایک طرف اپنے بندوں اور اپنے خالق کے ساتھ گرویدگی اور بندگی کا تعلق پیدا کرے اور دوسری طرف اپنی ہم جنس مخلوقات کےساتھ محبت اور ادائے حقوق کا جذبہ پیدا کرے۔
ان چند عقلی مبادی کے ثبوت کے بعد اب آئیے اسلام کے اصول عقائد و مبادی کا جائزہ لیں، اسلام میں جس حقیقت کو عقائد کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ در حقیقت یہی چند ذہنی اصول و مبادی ہیں جو جماعت کا کریڈ اور تمام انسانی افکار و خیالات کی بنیاد و اساس ہیں، ان کے تمام افعال، اعمال اور حرکات اسی محور کے گرد چکر کھاتے ہیں، یہی وہ نقطہ ہے جس سے انسانی عمل کا ہرخط نکلتا ہے اور اس کے دائرۂ حیات کا ہر خط اسی پر جاکر ختم ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے تمام افعال اور حرکات ہمارے ارادہ کے تابع ہیں، ہمارے ارادہ کا محرک ہمارے خیلات اور جذبات ہیں، اور ہمارے خیالات اور جذبات پر ہمارے اندرونی عقائد حکومت کرتے ہیں، عام بول میں انہیں چیزوں کی تعبیر ہم ’’دل‘‘ کے لفظ سے کرےت ہیں، اسلام کے معلم نے بتایا کہ انسان کے تمام اعضاء میں اس کا دل ہی نیکی اور بدی کا گھر ہے، فرمایا:
انسان کے بدن میں گوشت کا ٹکڑا ہے جو اگر درست ہے تو تمام بدن درست ہے اور اگر وہ بگڑ گیا تو تمام بدن بگڑ گیا، ہاں وہ ٹکڑا دل ہے۔قرآن پاک نے دل (قلب) کی تین کیفیتیں بیان کی ہیں، سب سے پہلے قلبِ سلیم (سلامت رَو دل) ہے، جو ہر گناہ سے پاک رہ کر بالطبع نجات اور سلامت روی کے راستہ پر چلتا ہے، دوسرا اس کے مقابل میں قلبِ اثیم (گنہگار دل) ہے، یہ وہ ہے جو ہمیشہ گناہوں کی راہ اختیار کرتا ہے، اور تیسرا قلبِ منیب (رجوع ہونے والا دل) ہے، یہ وہ ہے جو اگر کبھی بھٹکتا اور بے راہ بھی ہوتا ہے تو فوراً نیکی اور حق کی طرف رجوع ہوجاتا ہے۔
غرض یہ سب نیرنگیاں اسی ایک بے رنگ ہستی کی ہیں جس کا نام دل ہے، ہمارے اعمال کا ہر محرم ہمارے اسی دل کا ارادہ اور نیت ہے، اسی بھاپ کی طاقت سے اس مشین کا ہر پُرزہ چلتا اور حرکت کرتا ہے، اسی لئے آپؐ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ (صحیح بخاری:آغازِ کتاب) تمام کاموں کا مدار نیت پر ہے۔
اسلام نے چونکہ علم و عمل، تصور اور فعل، عقلیت اور عملیت میں لزوم ثابت کیا ہے اور عقائد کے اتنے ہی حصہ کا یقین و اقرار ضروری قرار دیا جو عمل کی بنیا اور اخلاق و عبادات کی اساس قرار پاسکے اور دل کی اصلاح و تزکیہ میں کام آسکے، اور اسی لئے اس نے عقائد کے فلسفیانہ الجھاؤ اور تصوّرات و نظریات کی تشریح و تفصیل کرکے عملیت کو برباد نہیں کیا، چند سیدھے سادے اصول ہیں جو تمام ذہنی سچائیوں اور واقعی حقیقتوں کا جوہر اور خلاصہ ہیں اور انہی پر یقین کرنے کا نام ایمان ہے، اور صریح الفاظ میں اس ایمان کے صرف پانچ اصول تقلین کئے: (۱) خدا پر ایمان، (۲) خدا کے فرشتوں پر ایمان، (۳) خدا کے رسولوں پر ایمان، (۴) خدا کی کتابوں پر ایمان، اور (۵) اعمال کی جزاء اور سزاء کے دن پر ایمان۔
(۱) اللہ تعالیٰ پر ایمان کہ وہ اس دنیا کا تنہاء خالق اور مالک ہے اور ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے تاکہ وہی ہمارے تمام کاموں کا قبلۂ مقصود قرار پاسکے اور اس کی رضا جوئی اور اس کی مرضی کی تعمیل ہمارے اعمال کی تنہاء غرض وغایت ہو، اور ہم جلوت کے سواء خلوت میں بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ سکیں، اور ہر نیکی کو اس لئے کریں ار وہر برائی سے اس لئے بچیں کہ یہی ہمارے خالق کا حکم ہے اور یہی اس کی مرضی ہے، اس طرح اعمال ناپاک اغراض اور ناجائز خواہشات سے مبرّا ہوکر خالص ہوسکیں، اور جس طرح ہمارے جسمانی اعضاء گناہوں سے پاک ہوں، ہمارا دل بھی ناپاک خیالات اور ہوا و ہوس کی آمیزش سے پاک ہو اور اس کے احکام اور اس کے پیغام کی سچائی پر دل سے ایسا یقین ہو کہ ہمارے ناپاک جذبات، ہمارے غلط استدلالات، ہماری گمراہ خواہشیں بھی اس یقین میں شک اور تذبذب پیدا نہ کرسکیں۔
(۲) خدا کے رسولوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ خدا کے ان احکام اور ہدایات اور اس کی مرضی کا علم انہی کے واسطے سے انسانوں کو پہنچا ہے، اگر ان کی صداقت، سچائی اور راستبازی کو کوئی تسلیم نہ کرے تو پیغامِ ربانی اور احکامِ الہٰی کی صداقت اور سچای بھی مشکوک و مشتبہ ہوجائے اور انسانوں کے سامنے نیکی، نزاہت اور معصومیت کا کوئی نمونہ موجود نہ رہے، جو انسان کے قوائے عملی کی تحریک کا باعث بن سکے، پھر اچھے اور بُرے، صحیح اور غلط کاموں کے درمیان ہماری عقل کے سواء ہمارے جو جذبات کی محکوم ہے کوئی اور چیز ہمارے سامنے ہماری رہنمائی کے لئے نہیں ہوگی۔
(۳) خدا کے فرشتوں پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولوں کے درمیان قاصد اور سفیر ہیں، مادیت اور روحانیت کے مابین واسطہ ہیں، مخلوقات کو قانونِ الٰہی کے مطابق چلاتے ہیں اور ہمارے اعمال و افعال کے ایک ایک حرف کو ہر دم اور ہر لحظہ ریکارڈ کرتے جاتے ہیں، تاکہ ہم کو ان کا اچھا یا بُرا معاوضہ مل سکے۔
(۴) خدا کے احکام و ہدایات جو رسولوں کے ذریعہ انسانوں کو پہنچائے گئے ہیں ان کو دور دراز ملکوں اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوا کہ وہ تحریری شکلوں میں یعنی کتابوں اور صحیفوں میں یا لفظ و آواز سے مرکب ہوکر ہماری سینوں میں محفوظ رہیں، اس لے خدا کی کتابوں اور صحیفوں کی صداقت اور جو کچھ ان میں ہے اس کی سچائی پر ایمان لانا ضروری ہے، ورنہ رسولوں کے بعد خدا کے احکام اور ہدایتوں کے جاننے کا ذریعہ مسدود ہوجائے اور ہمارے لئے نیکی اور بدی کی تمیز کا کوئی ایسا معیار باقی نہ رہے جس پر تمام ادنیٰ و اعلیٰ، جاہل و عالم اور بادشاہ و رعایا سب متفق ہوسکیں۔
(۵) اعمال کی باز پرس اور جواب دہ کا یقین اور اس کے مطابق جزاء اور سزاء کا خیال نہ ہو تو دنیاوی قوانین کے باوجود دنیائے انسانیت سراپا درندگی اور بہیمیت بن جائے، یہی وہ عقیدہ ہے جو انسانوں کو جلوت و خلوت میں ان کی ذمہ داری محسوس کراتا ہے، ا سلئے روز جزاء اور یومِ آخرت پر ایمان رکھے بغیر انسانیت کی صلاح و فلاح ناممکن ہے اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے اس پر بے حد زور دیا ہے؛ بلکہ مکی وحی کا بیشتر حصہ اسی کی تلقین اور تبلیغ پر مشتمل ہے۔
یہی پانچ باتیں اسلام کے ایمانیات کے اصلی عناصر ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ پر اس کے تمام رسولوں پر اس کی کتابوں پر، اس کے فرشتوں پر اور روزِ جزاء پر ایمان لانا یہ عقائدِ خمسہ یکجا طور پر سورۂ بقرہ میں متعدد دفعہ کہیں مجمل اور کہیں مفصل بیان ہوئے ہیں۔
وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ۔ (البقرۃ:۱۷۷)
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ۔ (البقرۃ:۲۸۵)
پیغمبر پر جو کچھ اتارا گیا اس پر وہ خود اور تمام مومن ایمان لائے، یہ سب لوگ خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔
سورۂ نساء میں ان ہی عقائد کی تعلیم ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا۔ (النساء:۱۳۶)
سچا ایمان اور حسنِ عمل در حقیقت لام و ملزوم ہیں، اگر کوئی یہ کہے کہ ایک مومن بدکار ہوسکتا ہے یا نہیں؟ تو یہ سوال حقیقت میں خود تضاد کو مستلزم ہے، اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ کوئی مومن ہو کر بدکاری اور چوری نہیں کرسکتا، اگر کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان مسلوب ہوجاتا ہے، اور یہ بالکل واضح ہے کہ جب کوئی مومن برائی کرنا چاہتا ہے تو اس کے ایمان یعنی اصول اور جذباتِ فاسدہ کے درمیان کش مکش ہوتی ہے، تھوڑی دیر یہ لڑائی قائم رہتی ہے، اگر ایمان اور اصول نے فتح پائی تو وہ اپنے کو بچالیتا ہے اور اگر جذبات غالب آتے ہیں تو ایمان اور اصول کا تخیل اس وقت دب کر اس کی نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے اس پر بناء پر سچا مومن اور بدکردار ہو یہ ممکن ہی نہیں ہے، اگر ہے تو حقیقت میں ایمان ہی کامل نہیں، یہاں بحث رسمی ایمان و مومن سے نہیں بلکہ اس ایمان سے ہے جس کے معنیٰ غیر متزلزل یقین اور ناقابلِ شک اعتقاد کے ہیں،جہاں کہیں رسمی و ظاہری ایمان کے ساتھ برائی اور بدکرداری کا وجود ہے، وہ در حقیقت ایمان کا نقص اور یقین کی کمی بھی ایمان ہی کی کمی کا نتیجہ ہے۔
لیکن بہر حال عقلی فرض اور رسمی ایمان کے لئے لحاظ سے یہ سوال ہوسکتا ہے، اور یہ مانا جاسکتا ہے کہ ایک بدکردار مومن اور نیک اخلاق کافر و مشرک میں اگر پہلا نجات کا مستحق ہے اور دوسرا نہیں ہے تو ایسا کیوں؟ اس کا جواب شرعی اور عقلی دونوں حیثیتوں سے بالکل ظاہر ہے، اسلام نے نجات کا مدار ایمان اور عمل دنوں پر رکھا ہے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
اس تفصیل سے معلوم ہوگا کہ ایک بدکردار رسمی مومن کے لئے نجات کی امید ممکن ہے، لیکن ایک حقیقی کافر و مشرک کے لئے نہیں، اور اس کی عقلی وجہ ظاہر ہے، لیکن ایک حقیقی کافر و مشرک کے درمیان وہی فرق ہے جو ایک چور اور ڈاکو کے درمیان ہے، ہر قانون دان جانتا ہے کہ ان دونوں میں قانون کی نظر میں کون مجرم زیادہ ہے، چور گو برائی کرتا ہے تاہم حکومت کا خوف اس کے دل میں ہے، مگر ڈاکو حکومت سے برسرِ پیکار ہوکر قتل و غارت کا مرتکب ہوتا ہے، اس لئے ڈاکو چور سے زیادہ سزاء کا مستحق ہے، بدکردار رسمی مومن گو گنہگار ہے مگر کبھی کبھی خوف الٰہی سے تھرّا جاتا ہے، کبھی کبھی خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑاتا ہے اور کبھی اپنے گناہوں پر خدا کے حضور میں شرمندہ اور نادم بھی ہوتا ہے، مگر کافر و مشرک اگر کچھ اچھے کام بھی کریں، تاہم اپنی دوسری برائیوں کے استغفار کے لئے خدا کے سامنے سرنگِوں نہیں ہوتے۔
وہ خدا نام کسی کے قائل ہی نہیں جس کے خوف سے وہ تھرّائیں، جس کی بارگاہ میں وہ گڑ گڑائیں اور جس کی محبت سرشار ہوکر وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں، اس لئے اس مجرم کے لئے جس نے کسی مجبوری سے معذور ہوکر چھپ کر کسی قانونِ سلطنت کی نافرمانی کی رحم و بخشش کا موقع ہے، لیکن اس باغی کے لئے جو سرے سے سلطانِ وقت کو اور اس کے قانون ہی کو تسلیم نہیں کرتا رحم و بخشش کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
لیکن یہ محض ایک تمثیل تھی، ورنہ ظاہر ہے کہ خدا کو اس کی حاجت نہیں کہ اس کے بندے اس کی حکومت کو تسلیم کریں: فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ۔ ’’بے شک خدا دنیا سے بے نیاز ہے‘‘۔
بلکہ اصل یہ ہے کہ ایک کافر و مشرک اس اصولِ کار کو تسلیم نہیں کرتا جس پر مذہبی نیکیوں کی بنیاد ہے اور ایک رسمی مومن اس اصول کو تسلیم کرتا ہے، اس کی نسبت توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آج نہیں تو کل عمل بھی کرے گا، لیکن جو ہنوز اصول کا مخالف ہے اس کے لوٹنے کے لئے ابھی بڑی دشوار منزل باقی ہے۔
اس خالص مذہبی نقطۂ نظر سے ہٹ کر بھی اگر مومن و کافر کے باہمی فرق و امتیاز پر غور کیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ گو بہت سے بظاہر نیک لوگوں کو جو کافر ہیں اپنے سے الگ کرنا پڑتا ہے اور بہت سے بظاہر بُرے لوگوں کو جو مومن ہیں اپنے اندر داخل کرنا پڑتا ہے، تاہم اس موقع پر اس نکتہ کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ اس ’’اپنے‘‘ اور ’’غیر‘‘ کی وجہ تقسیم کیا ہے؟ جب اس وجہِ تقسیم کو ہم سامنے رکھیں گے تو ہم کو ناگزیر طور پر ایسا کرنا ہی پڑے گا، وجہ تقسیم خیرات کرنےوالا اور نہ خیرات کرنے والا یا جھوٹ بولنے والا اور نہ جھولنے والا نہیں ہے؛ بلکہ ایک خدا پر ایمان والا اور ایک دستور العمل (قرآن مجید) کو صحیح ماننے والا ہے، اس بناء پر اس وجہِ تقسیم کی رُو سے ایسا ہونا لازم ہے۔
یہ طریقۂ امتیاز کچھ اسلام یا مذہب ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر تحریک، ہر جماعت اور ہر اصولِ سیاست؛ بلکہ تمام انسانی تحریکات اور جماعتوں کا اصولِ تقسیم یہی ہے، ہر تحریک کا ایک صب العین اور ہر جماعت کا ایک عقیدہ (کریڈ) ہوتا ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس کریڈ کے مطابق پورے جوش و خروش کے ساتھ عمل کرتے ہیں، یہ اس مذہب کے مومنین صالحین ہیں، دوسرے وہ ہیں جو اس کریڈ کے مطابق عمل نہیں رکھتے، یہ اس مذہب کے غیر صالح مومنین ہیں، لیکن ایک تیسری جماعت ہے جو سرے سے اس کریڈ ہی کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ اس کو بنیادِ عمل قرار دیتی ہے، گو اس تیسری جماعت کے بعض افراد بڑے فیاض و مخیّر ہوں یا بڑے عالم و فاضل ہوں، تاہم اس جماعت کے دائرہ کے اندر جس کا وہ کریڈ ہے ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، کیا یہی وجہ نہیں کہ ایک سیاسی جماعت کے کریڈ پر یقین رکھنے والا اس کے مطابق کرنے والا اور وہ بھی جو نفس کریڈ کو تسلیم کرتا ہے، مگر اس کے مطابق عمل پیرا نہیں، اس جماعت کے پنڈال میں جگہ پاسکتا ہے، مگر وہ جو اس کریڈ ہی کو صحیح باور نہیں کرتا اس کے احاطہ میں کوئی جگہ پانے کا مستحق نہیں ہے؟ اسی پر ہر جماعت کے اصول کو قیاس کیا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب تک کوئی جماعت اپنے اصولِ کار، اساس جماعت اور عقیدہ کو اتنی اہمیت نہ دے گی، اس کی اہمیت جو سب اہمیتوں کو بڑھ کر ہونی چاہئے قائم نہیں رہ سکتی، اور ملت کی وہ دیوار جس کو اس قدر سخت اور مستحکم ہونا چاہئے کہ باہر کے سیلاب کا ایک قطرہ بھی اس کے اندر نہ جاسکے، اگر اس میں اصول و عقیدہ پر ایمان کا مطالبہ کئے بغیر ہر کس و ناکس کو داخلہ کی اجازت دے دی جائےتو اس مستحکم دیوار میں یقیناً رخنے پر جائیں گے اور وہ ایک لمحہ کے لئے بھی کسی سیلاب کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور وہ جماعت ایسے پراگندہ اصول و افراد کا مجموعہ ہوگی جس کو کسی اتحاد و اشتراک اور جامعیت کا رشتہ باہم متحد و مجموع نہیں کرتا۔
مستحکم جماعتیں وہ ہیں جو اپنے کریڈ پر شدت کے ساتھ جمی رہتی ہیں اور جو اس کریڈ کو تسلیم نہیں کرتا، رکنِ جماعت نہ ہونے کی حیثیت سے وہ ان کی جماعتی برادری میں کوئی اعزاز نہیں رکھتا، کیا ایک مسلمان جبکہ کسی سیاسی جماعت کا رکن ہو تو اس کے لئے تو اصولِ کار کی یہ سخت جائز بلکہ مستحسن ہو، مگر وہی اسلامی جماعت کےممبر کی حیثیت سے اپنے اخلاقی اصول کار، اساس ملت اور مذہبی بِنائے وحدت میں یہ شدت رَوا رکھے تو کس عقل سے وہ ملات کے قابل ٹھہرایا جائے، حالانکہ ہر دلی عقیدہ کا لازمی نتیجہ اسی قسم کی شدّت اور استحکام ہونا چاہئے، پھر اگر ایک جگہ وہ ہو اور دوسری جگہ نہ ہو تو اس کے صاف معنیٰ ہیں کہ ایک کو دل کے ساتھ جو تعلق ہے وہ دوسرے کو نہیں۔
اب اگر اسلام اور اسلام کے قانون اور مذہب کو سمجھنا ہے تو اس کی اصل بنیاد پر نظر رکھنا چاہئے، جس پر اس کی پوری عمارت تعمیر ہوئی ہے، وہ بنیاد اقتصادیات کا کوئی نکتہ، دولت کا کوئی خزانہ، نسل و رنگ کا کوئی امتیاز اور ملک و وطن کی کوئی تجدید نہیں ہے بلکہ صرف ایک ہے اور وہ دنیا کی سب سے بڑی، لازوال اور وسیع و عالمگیر صداقت یعنی خدائے واحد پر ایمان ہے، یہ ہے اسلام کی ملت اور برادری کا اصل رشتہ اسی سے اس کی مذہب اور اس کے قانون کی تمام تقسیمیں اور امتیازات کی حدیث قائم ہوئی ہیں، اس کی حیثیت اسلام کی مملکت میں وہ ہے جو کل روم میں رومیت کی اور آج روس میں اصول بالشویت کی ہے۔
اس برادری کے دینی اور دنیاوی حقوق کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس جماعت کے فارمولے پر دستخط کرے اور اس کے کریڈ کو دل وجان سے قبول کرے، آج تمام مہذّب دنیا کسی عالمگیر برادری کی بنیاد کو تلاش کرنے میں حیران و سرگرداں ہے، مگر نہیں ملتی، حالانکہ ساڑھے تیرہ سو برس پہلے کی طرح آج بھی اسلام یہ آواز بلند کر رہا ہے کہ:
<
’’اے اہل کتاب آؤ! ہم اس ایک بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے نزدیک یکساں ہے کہ خدائے واحد کے سواء کسی اور کی پرستش نہ کریں اور خدا کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں‘‘۔
یہی توحیدِ اسلام کا وہ نظام نامہ ہے جس پر اس کے دین اور اس کی دنیا دونوں کی بنیاد ہے۔
یہ توحید یعنی عرصۂ ہستی کا صرف ایک فرمانروائے مطلق ماننا جس کے سامنے ہر جسمانی و روحانی طاقت ادب سے جھکی ہوئی ہے اور اس کی بندۂ فرمان ہے، اور ساری دنیا اسی ایک کی مخلوق و محکوم ہے اور دنیا کی ساری قومیں اس کے آگے بحیثیت مخلوق کے برابر حیثیت رکھتی ہیں، دنیا کی وہ عظیم الشان حقیقت ہے جو سر تا پا صداقت اور حق ہے، اور ایسی عالمگیر ہے جو عرصۂ وجود کے ایک ایک ذرّہ کو محیط ہے اور ایسی لا زوال ہے کہ جس کو کبھی فناء نہیں اور ایسی کھلی اور واضح کہ جس کے تسلیم کرنے میں کسی کو عذر نہیں، اور ایسی خیرِ مجسم ہے جو ہمارے اندر ہر قسم کی نیکیوں کی تحریک کرتی ہے اور جو ایسی تسکین اور تسلی ہو جو ہر مصیبت اور مشکل کے وقت ہمارے لئے صبر و استقلال کی چٹان بن جاتی ہے اور ایسا مضبوط اور مستحکم سر رشتہ جو کسی وقت ٹوٹ نہیں سکتا اور اس قدر وسیع کہ جس کے احاطۂ عام کے لئے اندر مخلوقات کی ایک ایک فرد داخل ہوکر اخلاقی حقوق و واجبات کی برادری قائم کرسکتی ہے اور خالق و مخلوق دونوں کی وابستگی اور محبت کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔
غرض یہ ایسی عالمگیر حقیقت ہے جو سر تا پا صداقت اور حق ہے، جو کبھی نہ بدل سکی اور نہ بدلے گی، زبانوں میں جو انقلاب ہو خیالات میں جو تغیر ہو تمدّنوں میں جو اُتار چڑھاؤ ہو، قوموں میں جو تفرقے پیدا ہوں، مجازی حقیقتوں، مادی فائدوں اور سیاسی غایتوں میں جو اختلاف بھی پیدا ہو، مگر وہ ایک حقیقت ہے جو اپنی جگہ مسلم رہے گی اور جس میں کوئی تغیر اور انقلاب پیدا نہ ہوگا، کیونکہ اس کی بنیاد ایک ایسی لازوال ہستی کے یقین پر ہے جو مادّیات کی دنیا کی طرح دم بدم مٹتی اور بنتی ہے، لحظ بہ لحظہ متغیر اور منقلب نہیں۔
وہ ایک ایسی عالمگیر اور محیط ہستی کا تخیل ہے جس کے احاطۂ عام کے اندر تمام قومیں اور تمام مملکتیں بلکہ تمام مخلوقات یکساں استحقاق کے ساتھ داخل ہیں، اس کی ملکیت میں سیاہ و سپید، زنگی و رومی، ہندی و فرنگی، عربی و عجمی، امیر و غریب، عورت ومرد، شاہ پسند و جمہوریت پسند، حاکم و محکوم، آقا و غلام اور عالم و جاہل سب برابری کے ساتھ یکساں شامل ہیں، اور اس سے ایسی برادری کا رشتہ قائم ہوتا ہے جو قوموں میں میل، مملتوں میں اتحاد اور مخلوقات میں فرائض و واجبات کا احساس پیدا کرتا ہے۔
وہ خود مجسم خیر اور سر تا پا نیکی ہے، اس کی عقیدت اور محبت ہماری اندر نیکیوں کی تحریک اور برائیوں کی نفرت پیدا کرتی ہے، تاریکی میں بھی اس کی دیکھنے والی آنکھوں اور خلوتوں میں بھی اس کی جھانکنے والی نگاہوں کا سچا عقیدہ نازک سے نازک موقع پر بھی ہم کو برائیوں سے بچاتا اور نیکیوں کے لئے اُبھارتا ہے۔
جب ہمارا سہارا ٹوٹ جاتا ہے، ہر اعتماد شکست کھاجاتا ہے اور ہر امید منقطع ہوجاتی ہے اور جب افراد و قوم کے صبر و استقلال کے پاؤں ڈگمگا جاتے ہییں اور ان کے وجود کی کشتی منجدھار میں پھنس جاتی ہے، اس وقت اسی ایک کی مدد کا سہارا کام آتا ہے اور اسی ایک کی نصرت کا وثوق فتح و ظفر سے ہمکنار کرتا ہے اور مایوسیوں اور ناامیدیوں کے ہر بادل کو چھانٹ کر رحمتِ الٰہی کے نور سے آنکھوں کو پُر نور اور دلوں کو مسرور کردیتا ہے۔
اب کوئی بتائے کہ کسی ایسی قوم کے لئے جو اپنے کو دائمی اور ہمیشہ کے لئے روئے زمین پر آئی ہو وار آخر الامم اور غیر منسوخ ملت ہونے کی مدعی ہو، اس کی اساسِ ملت بننے کے لئےہر روز بدل جانے والے اور ہر صدی میں منقلب ہوجانے والے تخیلات اور نظریات کبھی اساسِ ملت قرار پاسکتے ہیں، اور ایسی قوم کے لئے جوکسی نسل، کسی رنگت اور کسی قطعۂ زمین میں اپنے کو محدود نہ کرے، اس عالمگیر خدائی برادری سے بڑھ کر کوئی برادری نہیں مناسب ہوسکتی ہے۔
پھر ایسا عقیدہ جو تنہاء ہماری ملت کا اساس ہی نہ ہو بلکہ ہمارے عمل کی بنیاد ہو اس خلّاقِ عالم اور علّام الغیوب کے ایمان کے سواء کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا، یہ لازوال اور زندۂ جاوید ہستی ہماری ملت کی لازوال اور زندۂ جاوید بناتی ہے، یہ عالمگیر اور محیط ہستی ہمارے اندر عالمگیر اخوت اور عمومی برادری کا رشتہ قائم کرتی ہے، وہ خیرِ مجسم اور سرا پا نیک ہستی ہم کو خیر کی دعوت اور نیکی کی صدا دیتی ہے، اس کے کمالی اوصاف ہم کو اپنے اخلاقی کمال کا نصب العین عطا کرتے ہیں، اس کے اسماءِ حسنیٰ اور صفاتِ کاملہ کا عقیدہ ہم کو ہر حیثیت سے حسین اور کامل بننے کا درس دیتا ہے۔
اس سے ظاہر ہوگا کہ خدا وار اس کی ذات و صفات پر اعتقاد محض نظریہ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی حیثیت تمام تر عملی ہے، اس کی صفاتِ عالیہ ہمارے اوصافِ حسنہ کے لئے نمونہ ہیں، اور اس کے محامد کریمہ ہمارے اعمال و اخلاق کی تصحیح کے لئے تحریرِ اوراق کا مسطر ہیں۔
خیر و شر کی تمیز:
جس طرح دنیا کی دوسری چیزیں فی نفسہٖ نہ خیر ہیں اور نہ شر ہم ان کو خیر یا شر صرف ان کے موقعِ استعمال کے لحاظ سے کہتے ہیں، آگ فی نفسہٖ نہ خیر ہے نہ شر، لیکن جب کوئی ظالم اس آگ سے کسی غریب کا جھونپڑا جلاکر خاکِ سیاہ کردیتا ہے تو وہ شر ہوجاتی ہے،لیکن جب اسی آگ سے کوئی رحم دل انسان چولہا گرم کرکے کسی بھوکے لئے کھانا پکاتا ہے تو وہ خیر ہوجاتی ہے، اسی طرح نیک و بد اعمال بظاہر یکساں ہیں اور ان میں نیک و بد کی تمیز نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اس غرض و غایت کا لحاظ نہ کیا جائے جس کے لئے وہ کام کیا جاتا ہے، ایک ڈاکو کا ایک مسافر کو قتل کردینا اور ایک حکومت کا کسی ڈاکو کو پھانس دینا یکساں اتلافِ جان کا فعل ہے؛ لیکن پھر دنیا کاگر ایک کو خیر اور ایک کو شر کہتی ہے تو وہ اس غرض و غایت کی بناء پر ہے جس کے لئے یہ دونوں قتل کئے گئے ہیں، ڈاکو جس قتل کا مرتکب ہوا ہے اس سے اس کا مقصود مسافر کے مال پر ظالمانہ قبضہ تھا اور اس راہ میں اس کے مالک کے ناحق قتل کا آخری نتیجہ راستہ کی بد امنی ور ملک کی ویرانی ہے، اور سزا دینے والی حکومت کی غرض لوگوں کی جان و مال کی حفاظت، راستہ کا امن اور ملک کو آباد کرنا ہے، اس لئے پہلا فعل شر اور دوسرا خیر ہے۔
خیر و شر کی فلسفیانہ تحقیق اور ان کی باہمی تمیز نہایت مشکل ہے، جس کو نہ ہر عامی وجاہل سمجھ سکتا ہے اور نہ اس سے متاثر ہوسکتا ہے، حالانکہ خیر و شر کے اکثر امور پر تمام دنیا متفق ہے، اس لئے مذہب نے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک کے لئے ایک آسان اصول یہ بنادیا ہے کہ وہ تمام باتیں جن کو خدائے تعالیٰ پسند کرتا ہے خیر ہے اور جن کو ناپسند کرتا ہے وہ شر ہے، اس کے اس اصول سے نہ خیر و شر کی حقیقت بدلتی ہے اور نہ ان کے نفع و ضرر کا پہلو بدلتا ہے، نہ دنیا کے فائدے اور نقصان میں کمی بیشی ہوتی ہے، ہاں یہ ہوتا ہے کہ اس اصول کی تاثیر دلوں میں ایسی راسخ ہوجاتی ہے کہ جنگلی اور صحرائی سے لے کر مہذب و تعلیم یافتہ تک اس اصول کے ماتحت خیر پر عمل کرنے اور شر سے بچنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے، چنانچہ آج دنیا میں جس قدر بھی خیر کا وجود ہے اور شر سے احتراز ہے وہ اسی پیغمبرانہ تعلیم کا نتیجہ ہے فلسفیانہ نکتہ آفرینیوں کا نہیں، ارسطو اور اسپنسر کے اصولِ اخلاق کو پڑھ کر اور سمجھ کر کتنے نیک اور خوش اخلاق پیدا ہوئے اور حضرت مسیح و حضرت علیہما الصلوٰۃ و السلام کی تعلیم و تاثیر نے کتنوں کو خوش اخلاق اور نیک کردار بنایا، اور آج دنیا میں لندن و نیویارک کے بازاروں سےلے کر افریقہ کے صحراؤں اور جنگلوں اور ہندوستان کے دیہاتوں تک میں نیکی کی اشاعت اور برائی سے پرہیز کی تعلیم انبیاء کے پیروؤں کے ذریعہ ہو رہی ہے یا فلسفیوں کے بالشویکوں کے ذریعہ انجام پارہی ہے یا نازیوں کے؟ سوشلسٹوں کے ذریعہ یا فسسٹوں کے؟ دل کا چین اخلاق کی طاقت اور عالمگیر انسانی برادری کی دولت اگر ممکن ہے تو وہ صرف اس توحید کے ذریعہ جس کی دعوت اسلام دیتا ہے اور اس ایمان کی بدولت جس کو اسلام دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، جس کی وسعت میں ساری دنیا آرام کرسکتی ہے اور جس کے سایہ میں انسانوں کے بنائے ہوئے سارے امتیازات مٹ جاتے ہیں اور جس کی بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ آسمان و زمین کی بنیادیں اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو ہٹ جائیں مگر وہ اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکتی۔
بہ شکریہ انوارِ اسلام
Jan 26 2015
الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی امابعد ۔ عبد اور رب کے تعلق کو سمجھنے کے لئے سورج اور چاند کی مثال کو سمجھ لینا کافی ہے۔ ان دونوں کا باہمی تعلق عجیب ہے چاند کی روشنی اسکی اپنی ذاتی نہیں ، بلکہ سورج کی روشنی سے چاند روشن نظر آتا ہے یہی حال اللہ اور بندہ کی ذاتوں کاہے۔ دونوں ذوات الگ الگ ہیں۔ ۔ ایک معدوم ایک موجود۔ ایک ناقص ایک کامل ۔ اللہ بالذات موجود۔ ساری مخلوقات اللہ سے وجود لے رہی ہیں۔ ازل سے ابد تک ساری مخلوقات اللہ کے وجود سے موجود۔ مخلوقات باذات موجود نہیں۔ البتہ موجود نظر آتی ہیں۔ جیسے چاند اپنی ذات سے منور نہ ہو کر بھی منور نظر آتا ہے۔
ِ
اسی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ایک اور بعینہ مثال سینما کی ہے۔ مراتبِ ظہور کے انکشاف کے لئے بڑی واضح مثال۔
سینما میں ایک ریل ہوتا ہے۔ جس میں مختلف صورتیں بند ہوتی ہیں۔ چھوٹی، بڑی جماد و نبات، انسان وحیوان سبھی کی صورتیں، بوڑھی جوان، اندھی،گونگی، اور بہری سبھی کی شکلیں ہیں۔ اسی طرح اللہ کے علم کی ریل میں معلومات ہیں۔ ان کو معلوماتِ الٰہیہ، اعیانِ ثابتہ، اور شاکلات کہتے ہیں۔ اللہ کے علم میں مخلوقات کی جس طرح شکلیں محفوظ ہیں، اسی طرح ان شکلوں کی ذاتی قابلیات بھی محفوظ ہیں۔ ان ہی ذاتی قابلیات کو معلوماتِ الٰہیہ کے اقتضاآت یا استردات بھی کہتے ہیں۔
یہ معلومات ریل سے پردہ پر کیسے آرہے ہیں؟ ریل کے پیچھے روشنی ڈالی جارہی ہے۔ یعنی پیچھے سے ہر صورت پر نور کی تجلی ہورہی ہےتوپردہ پر صورت نظر آرہی ہے۔ نور بند ہوجائے تو ریل کی تصویر پردہ پر ہر گز ظاہر نہیں ہوتی۔ یہاں نکتہ کی بات یہ ہے کہ نہ نور صورت بنتا اور نہ صورت نور بنتی۔ نور، نور ہے، صورت ،صورت ہے۔ ہر ایک کی ذات الگ۔ نور کا کام ظاہر کرنا اور صورت کا کام ظاہر ہونا۔ نورِ الٰہی کی تجلی سے معلومات وجود پاتے چلے جارہے ہیں۔ زمین، آسمان، انسان، شیطان، جو ظاہر و موجود ہورہے ہیں وہ سب اللہ کے نور کے باعث موجود ہورہے ہیں۔ نور کے سامنے اجسام آرہے ہیں تو انکا ظہور ہورہا ہے نور کے سامنے ارواح آرہی ہیں تو ان کا ظہور ہو رہاہے۔ پھر سب اس شان سے ہورہاہے کہ اللہ میں یعنی ذاتِ الٰہی میں نہ تغیر نہ تبدل، نہ تعدد نہ تکثر۔
ریل میں صورت کی جیسی قابلیت یا استعدادِ ذاتی ہو ویسی ہی پردہ پر ظاہر ہورہی ہے۔ انسان جانور، فرشتہ، شیطان، زندہ،مردہ، اچھا، برا ،غرض جو ریل میں ہوگا وہی پردہ پر ظاہر ہوگا۔ جس طرح پردہ پر صورتوں کا ظہور ریل کی تصویروں کے مطابق ہے، اسی طرح کائنات کے پردہ پر مخلوقات کا ظہور ٹھیک معلوماتِ الٰہیہ کے مطابق ہے۔ اسی ظہور کو تخلیق کہا جاتا ہے۔
ریل کی صورت جب تک ریل میں ہے “معلوم” کہلاتی ہے۔ لیکن جب وہی ریل کی صورت پردہ پر ظاہر ہوتی ہے تو “مخلوق” کہلاتی ہے۔ ایک اور نکتہ یہ کہ ریل میں جو صورت محفوظ ہے وہ پردہ پر ظاہر ہونے کے بعد ریل سے غائب نہیں ہوجاتی بلکہ ریل میں علٰی حالہ محفوظ ہے۔ اسی طرح مخلوق ظاہر ہونے کے باوجود علمِ الٰہی میں ثابت یعنی معلوم کی معلوم۔ معلوماتِ الٰہیہ تخلیق کے بعد علم سے خارج نہیں ہوجاتے۔ اسی ایک حقیقت سے بہت سے اعتراضات حل ہوجاتے ہیں۔ ریل میں لنگڑے اور اندھےکی جوصورتیں اور قابلیتیں تھیں وہی پردہ پر ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر ریل چلانے والے سے پردے پر ظاہر ہونے والی صورت پوچھے کے مجھے لنگڑا یا اندھا کیوں بنایا؟ یہ سوال بیوقوفی کی دلیل ہے۔ حولاپن ہے۔ جواب یہ ہے کہ تو جیسا تھا ویسا ہی ظاہر کردیا گیا۔ جوں کا توں ظاہر کرنا ہی تخلیق ہے۔ جیسے کو ویسا ظاہر کرنا ہی عدل ہے۔
سرِ ظہور ایک واضح اور کھلا ہوا مسلہ ہے۔ سرِ ظہور کے حقائق و معارف کے لئے سینما کی مثال قریب ترین مثال ہے۔ جب تک روشنی پڑتی رہے گی۔ اس وقت تک ہی تصویریں نظر آتی رہینگی۔ جیسے ہی روشنی موقوف ہوجائے تصویریں ختم ہوجائیں گی۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی عطأ و وجود کا ہے۔ جوں ہی عطائے وجود کا سلسلہ منقطع ہوا، انسان مردہ ہے۔
اللہ لاالٰہ الاھوالحی القیوم۔ قیومیت قأیم رکھنے والی صفت کا نام ہے۔ جو ذات قأیم رکھنے والی ہے وہی ہے قیوم۔ اور وہی اللہ کی ذات۔ مشرق اور مغرب کو، انسانوں اور جانوروں کو،فرشتوں اور شیطانوں کو غرض ہشدہ ہزار عالموں کو قأیم رکھنے والی ذات قیوم۔ ایک آن کے لئے بھی قیومیت کی تجلی ہٹ جائے قصہ ہی ختم۔ ہرآن قیومیت کی تجلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ مسلسل روح کے قیوم، اللہ مسلسل دل کے قیوم، اللہ مسلسل جسم کے قیوم، اللہ مسلسل سب کے قیوم۔ از عرش تا فرش۔ حیات، علم، ارادہ، قدرت، سماعت، بصارت اور کلام ہر صفت کے قیوم۔
تسلسلِ قیومیت کی فہم کے لئے (ہاتھ میں کاغذ لے کر فرمایا)۔ یہ کاغذ ہاتھ میں قأیم ہے۔ اونگھ یا نیند کا غلبہ ہو تو کاغذ ہاتھ سے گرجائے۔ اگر تسبیح ہاتھ میں ہو اور اونگھ آجائے تو تسبیح گرجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لا تا خذہ سنۃ ولا نوم۔ میں سب کو قأیم رکھنے والا، اگر میں اونگھ گیا تو تمہاری خیر نہیں۔ سب فنا ہوجائیں گے۔ پہچان مل گئی جس کو اونگھ نہ آئے وہی قیوم۔ ذرا سا اللہ کی توجہ ہم سے ہٹی کہ اسی کا نام موت، فنا، قیامت، یا صور۔ جدھر سے توجہ ہٹالیں ادھر فنا۔ آنِ واحد میں فنا طاری۔
خبر بھی ہے کہ کس کو قأیم رکھے ہوئے ہیں؟ محض فضل و کرم ہے کہ ماننے والوں کو اور نہ ماننے والوں کو، رحم کرنے والوں کو اور ظلم کرنے والوں کو سب کو قأیم رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے تخلیق “کن” سے ہے ویسے ہی فنا بھی “کن” سے ہے۔ قیومیت کا مسلہ اس شان اور قوت کا ہے کہ علما کی جماعت کے سامنے بلا ججھک استعمال کر لیجئے۔ مانے بغیر ،تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔ اور اسکا جواب نہیں۔ اسی قیومیت کا اصطلاحی نام “وحدۃالوجود” ہے۔ لیکن وحدۃالوجود کا تو حلیہ بگاڑا گیا، بدنام کیا گیا۔ اگر پوچھا جائے کہ قیومیت کیسی ہے تو علما کہینگے بہت اچھی بات ہے، ضرور بات کرنی چاہئیے۔ یہ اصطلاح سمجھنے، غور کرنے، اور پانے کی ہے۔
آخری بات یہ کہ سرکارﷺ نے بڑا پیارا اعلان فرمایا ایک اسلام کا، ایک ایمان کا، اور ایک احسان کا۔ پوچھا گیا۔ وماالاحسان؟ جواب ملا الاحسان ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم یکن تراہ فانہ یراک۔ (احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کر گویا تو اللہ کو دیکھ رہاہے)۔ یعنی حاضر و موجود کا ادراک قائیم کرے اگر کسی بھائی سے یہ نہ ہو سکے تو یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رے ہیں۔ بزرگوں کی اصطلاح میں پہلا ادراک مشاہدہ کہلایا دوسرا ادراک مراقبہ۔ بلی چوہوں کو پکڑنے کیلئے مراقبہ کرتی ہے۔ یہ مثال مراقبہ کی آسانی پر دلیل ہے۔ اگر زندگی میں آپ یہ سمجھ رہے ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہے ہیں تو کل زندگی احسانی ہوجائے۔ ایک شیخ صاحب ایک نوجوان مرید کو زیادہ چاہتے تھے۔ دوسرے مریدوں نے وجہ پوچھی تو شیخ صاحب نے ہر ایک کے ہاتھ میں چاقو اور کبوتر دیکر فرمایاکہ، ایسی جگہ ذبح کریں جہاں کوئی نہ دیکھتا ہو تعمیلِ حکم میں بعضوں نے غاروں اور ویرانوں میں ذبح کیا، بعضوں نے بیت الخلأ اور بعضوں نے گھر کے پچھلے حصہ میں کاٹا۔ نوجوان نے ذبح کئے بغیر چھری اور کبوتر شیخ کو واپس کئے۔ شیخ نے وجہ پوچھی تو کہا کہ ہر جگہ اللہ موجود ہے اس لئے کہیں ذبح نہ کر سکا۔ اللہ کے دیکھتے رہنے کا حال طاری کرنے کے بعد گناۃ مشکل ہوجأیگا۔ اللہ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
Jan 23 2015
In this bayan, Hazrat Maulana Shah Mufti Mohammed Nawal ur Rahman Sahab explains islah e batin.
The bayan describes pride, envy, love of the world and showing off, and how to cure them.
Jan 21 2015
Bahr e Ma‘rifat by Hazrat Shah Sufi Ghulam Mohammed Sahab (RA) is a book on ma‘rifat, knowing Allah.
Read it online or download the full book using the links below. More books by the mashaikh of Silsila e Kamaliya are listed in the Books section.
Jan 16 2015
(۳) خلق خدا کے ساتھ نیکی کرنے سے جس قدر شکر گذاری ہوتی ہے وہ اور کسی صورت ممکن نہیں۔
(۴) جب مومن کا خلق اچھا ہو تو کلام لطیف ہوجاتا ہے۔
(۵) جب کسی کے احسان کا بدلہ اتارنے سے تمہارے ہاتھ قاصر رہیں تو زبان سے ضرور اس کا شکریہ ادا کرو۔
(۶) جو حقوق تمہارے نفس کے ذمہ ہیں ان کے ادا کرنے کا تم خود سے تقاضا کرو، تاکہ تم اواروں کے تقاضے سے محفوظ رہو۔
(۷) انسان کے چہرے کا حسن اللہ تعالیٰ کی عمدہ عنایت ہے۔
(۸) کارخانۂ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے۔
(۹) دوسروں کے حال پر غور کرنے سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
(۱۰) عقلمند آدمی ہمیشہ فکر اور غم میں مبتلا رہتا ہے۔
(۱۱) برائیوں سے پرہیز کرنا نیکیاں کمانے سے بہتر ہے۔
(۱۲) اگرچہ کوئی قدر شناس نہ ملے مگر تم اپنی نیکی بند نہ کرو۔
(۱۳) عقیدہ میں شک رکھنا شرک کے برابر ہے۔
(۱۴) صدق دل کے ساتھ سو رہنا اس نماز سے کہیں اچھا ہے جو شک کے ساتھ ادا کی جائے۔
(۱۵) جب تک آدمی کا حال پوری طرح معلوم نہ ہو اس کی نسبت بزرگی کا اعتقاد نہ رکھو۔
(۱۶) قابلِ صحبت بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔
(۱۷) بدکاروں کی صحبت سے بچو کیونکہ برائی برائی سے جلد مل جاتی ہے۔
(۱۸) بے موقع حیاء بھی باعثِ محرومی ہے۔
(۱۹) گناہوں سے نادم ہونا بھی گناہوں سے معافی مانگنے جیسا ہے۔
(۲۰) گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹادیتا ہے اور نیکیوں پر غرور کرنا نیکیوں کو برباد کردیتا ہے۔
(۲۱) برا کام لوگوں کے سامنے کرنا مناسب نہیں بلکہ اُسے چھپ کر بھی نہ کرو۔
(۲۲) مشورہ باعث تقویت ہے۔
(۲۳) شکر نعمت کا باعث اور ناشکری حصولِ زحمت کا باعث ہے۔
(۲۴) کسی دوسرے کے گرنے سے خوش مت ہونا، تمہیں کیا معلوم کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟
(۲۵) ادب بہترین کمالات اور خیرات افضل ترین عبادات میں سے ہے۔
(۲۶) سخاوت کے ساتھ احسان رکھنا نہایت کمینگی ہے۔
(۲۷) بہترین بخشش وہ ہے جو سوال سے پہلے کی جائے۔
(۲۸) مال فتنوں کا سبب، حوادت کا ذریعہ، تکلیف کا باعث اور رنج و مصیبت کی سواری ہے۔
(۲۹) بےشک لوگ سونے چاندی کی نسبت اچھے ادب کے زیادہ بخیل ہو وہ اپنی عزت کے دینے میں اسی قدر سخی ہوتا ہے۔
(۳۰) دولتمندی کی مستی سے اللہ کی پناہ مانگو، یہ ایسی لمبی مستی ہے کہ اس ےس بہت دیر میں ہوش آتا ہے۔
(۳۱) جو شخص مال دینے میں زیادہ بخیل ہو وہ اپنی عزت کے دینے میں اسی قدر سخی ہوتا ہے۔
(۳۲) دولت، حکومت اور مصیبت میں انسان کی عقل کا امتحان ہوتا ہے۔
(۳۳) کمینوں کی دولت تمام مخلوق کے لئے مصیبت ہے۔
(۳۴) تنگ دستی جسے لوگ معیوب سمجھیں اس مالداری سے اچھی ہے جس سے انسان گناہوں اور خرابی میں مبتلا ہوکر ذلیل و خوار ہو۔
(۳۵) تنگ دست آدمی جو رشتہ داروں سے میل ملاپ رکھے اس مالدار سے اچھا ہے جو ان سے قطع تعلق رکھے۔
(۳۶) تنگ دستی میں سخاوت کی کوئی صورت نہیں اور کھانے کی حرص کے ساتھ اچھی صحت کی کوئی دلیل نہیں۔
(۳۷) حرص سے روزی بڑھ نہیں جاتی، مگر آدمی کی قدر گھٹ جاتی ہے۔
(۳۸) تواضع علم کا ثمر ہے۔
(۳۹) لوگوں کے پاس عاجزی کرنے سے ان سے نا امید ہونا اچھا ہے ۔
(۴۰) آدمی اگر عاجز ہو اور نیک کام کرتا رہے تو اس سے اچھا ہے کہ قوت رکھے اور بُرے کام نہ چھوٹے۔
(۴۱) ظلم نعمتیں دور کرتاہے اور سرکشی موجب عذابِ الٰہی ہے۔
(۴۲) بے قراری کچھ تقدیر ِ الٰہی کو نہی مٹاتی مگر اجر اور ثواب کو ضرور ضائع کردیتی ہے۔
(۴۳) غضب سے بچو کہ اس کا شروع جنون اور آخر ندامت ہے۔
(۴۴) تمام لوگوں میں نیک کام پر سب سے زیادہ قادر وہ شخص ہے جس کو جلد غصہ نہ آئے۔
(۴۵) دنیا ایک ایسا گھر ہے جس کا اول تکلیف اور اس کا آخر فناء ہے۔
(۴۶) دنیا اگر آنے لگے تو آتی رہتی ہے اور اگر پیٹھ پھیر لے تو چلی ہی جاتی ہے۔
(۴۷) دنیا ایسی مصیبتوں اور اموات کا مجموعہ ہے جو سخت تکلیف دہ اور غیر مختتم ہیں۔
(۴۸) دین کی دوستی دنیا کا نقصان کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
(۴۹) خدا کی رحمت سے نا امید ہونا نہایت نقصاندہ ہے۔
(۵۰) انسان کی سب آرزوئیں کبھی پوری ہونے والی نہیں۔
(۵۱) لمبی آرزو اور خلوصِ عمل کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
(۵۲) فضول امیدوں پر بھروسہ کرنے سے بچو، کہ یہ احمقوں کا سرمایہ ہے۔
(۵۳) سب سے بڑی مصیبت امید کا منقطع کردینا ہے۔
(۵۴) جو شخص بہت بڑی بڑی امیدیں باندھتا ہے وہ موت کو بہت کم یاد کرتا ہے۔
(۵۵) جب تم امیدیں باندھتے باندھتے دور جا پہنچو تو موت کی ناگہانی آمد کو یاد کرو۔
(۵۶) کسی چیز سے اچھی طرح ناامید ہوجانا اس کی طلب میں ذلت اٹھانے سے بہتر ہے۔
(۵۷) موت ایک بے خبر ساتھی ہے۔
(۵۸) مال امیدوں کو مضبوط کرتا ہے اور موت آرزوؤں کی جڑ کاٹتی ہے۔
(۵۹) تکلیف اور تنگی آرام سے موت و حیات سے نہایت قریب ہے۔
(۶۰) موت سے بڑھ کر کوئی چیز سچی نہیں اور امید سے بڑھ کر کوئی چیز جھوٹی نہیں۔
(۶۱) زمانے کے پل پل کے اندر آفات پوشیدہ ہیں۔
(۶۲) دنیا مسافر خانہ ہے، مگر بدبختوں نے اُسے اپنا وطن بنا رکھا ہے۔
(۶۳) عادت پر غالب آنا کمالِ فضیلت ہے۔
(۶۴) خواہش پرستی ہلاک کرنے والا ساتھی ہے اور بری عادت ایک مور آور دشمن ہے۔
(۶۵) خواہش کی تابعداری ایک لا علاج مرض ہے۔
(۶۶) عقلمند آدمی اپنے آپ کو پست کرکے بلندی حاصل کرتا ہے اور نادان اپنے آپ کو بڑھا کر ذلت اٹھاتا ہے۔
(۶۷) عقلمند وہ ہے جو غیروں سے عبرت حاصل کرے نہ کہ خود باعث عبرت بن جائے۔
(۶۸) ہوشیار وہ ہے جو زمانہ کی روشنی پر چلے۔
(۶۹) عقلمندی کا ایک نصف بردباری اور دوسرا نصف چشم پوشی ہے۔
(۷۰) کمینے کے ساتھ بھلا کرنا نہایت بُرا فعل ہے۔
(۷۱) فاسق کی برائی بیان کرنا غیبت نہیں۔
(۷۲) بُرا آدمی کسی کے ساتھ نیک گمان نہیں رکھتا، کیونکہ وہ ہر ایک کو اپنے جیسا خیال کرتا ہے۔
(۷۳) فسق و فجور کے مقامات سے دور رہو، کہ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مقام اور اس کے عذاب کے محلات ہیں۔
(۷۴) فرصت کو کھونا بڑی مصیبت ہے۔
(۷۵) علم مالدار کی زینت اور تنگدستوں کے لئے فراخی کا ذریعہ ہے۔
(۷۶) علم بے عمل ایک آزار اور عمل بغیر اخلاص بیکار ہے۔
(۷۷) علم مال سے بہتر ہے، کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور تم مال کی۔
(۷۸) علم کی خوبی اس پر عمل کرنے اور احسان کی خوبی اس کے جتلانے پر منحصر ہے۔
(۷۹) جس بات کا عالم نہ ہو اُسے بُرا مت سمجھو، ہوسکتا ہے کہ کئی باتیں ابھی تک کان تک نہ پہنچی ہوں۔
(۸۰) خود ستائی کے برابر کوئی حماقت اور علم سے زیادہ کوئی رہنما نہیں۔
(۸۱) تھوڑا علم فساد علم کا موجب ہے اور صحت عمل اور صحتِ علم پر منحصر ہے۔
(۸۲) علم کے بیان کرنے والے بہت ہیں، لیکن بہت کم عمل کرنے والے ہیں۔
(۸۳) اپنی لاعلمی کے اظہار کو کبھی بُرا نہ سمجھو۔
(۸۴) دوستی ایک خود پیدا کردہ رشتہ ہے۔
(۸۵) دشمن ایک بھی بہت ہے اور دوست زیادہ بھی تھوڑے ہیں۔
(۸۶) دنیاداروں کی دوستی ایک ادنیٰ بات سے دور ہوجاتی ہے۔
(۸۷) اگر کوئی قابل شخص دوستی کے لائق نہ ملے تو کسی نااہل سے دوستی مت کرو۔
(۸۸) دوست سے دھوکہ کھانے اور دشمن سے مغلوب ہونے سے بچو۔
(۸۹) انسان جو حالت اپنے لئے پسند کرے اُسی حالت میں رہتا ہے۔
(۹۰) تجربہ سے پہلے کسی پر اطمینان کرنا عقلمندی کے خلاف ہے۔
(۹۱) تجربے کبھی ختم نہیں ہوتے، عقل مند وہ ہے جو ان میں ترقی کرتا ہے۔
(۹۲) بات کی جانچ کرو اور کہنے والے کی طرف خیال نہ کرو کہ کون ہے۔
(۹۳) جب تک کسی آدمی سے بات چیت نہ ہو اس کو حقیر نہ سمجھو۔
(۹۴) حق نہایت زبردست مددگار اور جھوٹ بہت ہی کمزور معاون ہے۔
(۹۵) سچائی میں اگرچہ خوف ہو مگر باعثِ نجات ہے اور جھوٹ میں گو اطمینان ہو مگر موجبِ ہلاکت ہے۔
(۹۶) سچا آدمی سچائی کی بدولت اس مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے جسے جھوٹا اپنے مکر و فریب سے نہیں پاسکتا۔
(۹۷) جیسے جہالت کی بات کہنے میں کوئی خوبی نہیں، ایسا ہی حق سے چپ رہنے میں کوئی بھلائی نہیں۔
(۹۸) صبر ایک ایسی سواری ہے جو کبھی ٹھوکر نہیں کھاتی۔
(۹۹) صبر کی بہ نسبت بے قراری زیادہ تکلیف دہ ہے۔
(۱۰۰) مصائب کا مقابلہ صبر سے اور نعمتوں کی حفاظت شکر سے کرو۔
(اقوال کا خزانہ)
۱۔ ہرانسان کی قیمت اس کام سے لگائی جاتی ہے جس کو وہ(دوسروں کے مقابلہ میں اوراپنے دوسرے کاموں کے مقابلہ میں)بہتر طریقہ پر انجام دیتا ہے ۔(انسان کی قیمت اس کے خاص ہنر سے لگائی جاتی ہے)
۲۔لوگوں سے ان کی ذہنی سطح اورفہم کے مطابق بات کرو کیا تمہیں پسند ہے کہ کوئی (اپنے فہم اورادراک سے بالا ہونے کی وجہ سے)اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلائے۔
۳۔ایک شریف آدمی اس وقت بے قابو ہوتا ہے،جب بھوکا ہو اورایک پست فطرت انسان اس وقت بے قابو اورجامہ سے باہر ہوتا ہے،جب شکم سیر ہو(اس کو کسی کی ضرورت نہ ہو)
۴۔ان دلوں کو بھی آرام دو،ان کے لئے حکمت آمیزلطیفے تلاش کرو،کیونکہ جسموں کی طرح دل بھی تھکتے اوراکتاجایا کرتے ہیں۔
۵۔نفس خواہشات کو ترجیح دیتا ہے،سہل اورسست راہ اختیار کرتا ہے،تفریحات کی طرف لپکتا ہے،برائیوں پر ابھارتا ہے،بدی اس کے اندر جاگزیں رہتی ہے،راحت پسند ہے،کام چور ہے،اگر اس کو مجبور کروگے،تولاغر ہوجائے گا اوراگر چھوڑوگےتوہلاک ہوجائے گا۔
۶۔خبردار ہوشیار! اللہ کے سوا قطعاً تم میں سے کوئی کسی سے امید نہ قائم کرے،اپنے گناہوں کے سوا کسی بات سے نہ ڈرے،اگر کوئی چیز نہ آتی ہو تو سیکھنے سے شرم نہ محسوس کرے،اوراگر اس سے کوئی ایسی بات دریافت کی جائے جس کونہیں جانتا ہو تو کہہ دے مجھے معلوم نہیں۔
۷۔غربت ذہانت کو کند کردیتی ہے،ایک غریب آدمی اپنے وطن میں رہ کر بھی پردیسی ہوتاہے۔
۸۔ناکارگی آفت ہے،صبر بہادری ہے،زہد خزانہ ہے،خوف ِخدا ڈھال ہے۔
۹۔اخلاق وآداب ایسے جوڑے ہیں جو بار بار نئے نئے پہنے جاتے ہیں،ذہن ایک صاف و شفاف آئینہ ہے۔
۱۰۔جب کسی کااقبال ہوتا ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اس سے منسوب کردی جاتی ہیں اورجب زوال آتا ہے تو اس سے اُس کی ذاتی خوبیوں کا بھی انکار کردیا جاتا ہے۔
۱۱۔جب کوئی بات آدمی دل میں پوشیدہ رکھتا ہے تو زبان سے اس کے اشارے مل جاتے ہیں،چہرہ کے اتار چڑھاؤ سے معلوم ہوتا ہے۔
۱۲۔کسی دوسرے کے غلام مت بنو،جب کہ اللہ تعالی نے تم کو آزاد پیدا کیا ہے۔
۱۳۔جھوٹی تمناؤں پر بھروسہ کرنے سے بچتے رہو، تمنائیں بیوقوفوں کا سرمایہ ہیں۔
۱۴۔تم کو بتاؤں کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟وہ جو بندگانِ خدا کو معصیت کی باتیں حسین بناکر نہ دکھائے اورخدا کی کاروائی سے بے خطر نہ رکھے اور اس کی رحمت سے مایوس بھی نہ کرے۔
۱۵۔لوگ محوخواب ہیں جب مریں گے تو ہوش آجائے گا۔
۱۶۔لوگ جن باتوں کو نہیں جانتے ان کے دشمن ہوجاتے ہیں۔
۱۷۔لوگ اپنے آباء واجداد سے زیادہ اپنے زمانہ کے مشابہ ہوتے ہیں (یعنی لوگوں پر وقت اورماحول کا اثر زیادہ پڑتا ہے)
۱۸۔انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے (یعنی جب تک آدمی بولے نہیں اس کی علمیت اورحقیقت پوشیدہ رہتی ہے)
۱۹۔جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس کے لئے کوئی بڑا خطرہ یادھوکہ کا اندیشہ نہیں۔
۲۰۔کبھی زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نعمتوں کو چھین لیتا ہے۔
(المرتضیٰ از مولانا ابوالحسن علی ندوی:۲۸۶،۲۹۱)
۲۱۔آپ اپنے یقین کو شک نہ بنائیں (یعنی روزی کا ملنا یقینی ہے اس کی تلاش میں اس طرح اور اتنا نہ لگیں کہ گویا آپ کو اس میں کچھ شک ہے)اوراپنے علم کو جہالت نہ بنائیں (جو علم پر عمل نہیں کرتا وہ اورجاہل دونوں برابر ہوتے ہیں)اوراپنے گمان کوحق نہ سمجھیں (یعنی آپ اپنی رائے کو وحی کی طرح حق نہ سمجھیں)اوریہ بات آپ جان لیں کہ آپ کی دنیا تو صرف اتنی ہے جو آپ کو ملی اورآپ نے اسے آگے چلا دیا یا تقسیم کرکے برابر کردیا پہن کر پرانا کردیا۔
(کنز العمال:۸/۲۲۱)
۲۲۔خیریہ نہیں ہے کہ تمہارا مال اورتمہاری اولاد زیادہ ہوجائے ؛بلکہ خیر یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ ہو اورتمہاری بردباری کی صفت بڑی ہو اوراپنے رب کی عبادت میں تم لوگوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔
۲۳۔اگر تم سے نیکی کا کام ہوجائے تو اللہ تعالی کی تعریف کرو اوراگر برائی کا کام ہوجائے تو اللہ تعالی سے استغفار کرو۔
۲۴۔دنیا میں صرف دو آدمیوں کے لئے خیر ہے ایک تو وہ آدمی جس سے کوئی گناہ ہوگیا اورپھر اس نے توبہ کرکے اس کی تلافی کرلی دوسرا وہ آدمی جو نیک کاموں میں جلدی کرتا ہو۔
۲۵۔جو عمل تقویٰ کےساتھ ہو وہ کم شمار نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ جو عمل اللہ کے ہاں قبول ہو وہ کیسے کم شمار ہوسکتا ہے۔(کیونکہ قرآن میں ہے کہ اللہ متقیوں کے عمل کو قبول فرماتے ہیں)
(مذکورہ اقوال کے لئے دیکھئے،حلیۃ الاولیاء:۱/۷۵)
۲۶۔سب سے بڑی مالداری عقلمندی ہے ؛یعنی مال سے بھی زیادہ کام آنے والی چیز عقل اور سمجھ ہے اورسب سے بڑی فقیری حماقت اوربے وقوفی ہے،سب سے زیادہ وحشت کی چیز اورسب سے بڑی تنہائی عجب اورخود پسندی ہے اورسب سے زیادہ بڑائی اچھے اخلاق ہیں۔
۲۷۔بے وقوف کی دوستی سے بچنا؛ کیونکہ وہ فائدہ پہنچاتے پہنچاتے تمہارا نقصان کردے گا اورجھوٹے کی دوستی سے بچنا ؛کیونکہ جو تم سے دور ہے یعنی تمہارا دشمن ہے اسے تمہارے قریب کردے گا اور جو تمہارے قریب ہے یعنی تمہارا دوست ہے اسے تم سے دور کردے گا(یا وہ دور والی چیز کو نزدیک اورنزدیک والی چیز کو دور بتائے گا اورتمہارا نقصان کردے گا)اورکنجوس کی دوستی سے بھی بچنا ؛کیونکہ جب تمہیں اس کی سخت ضرورت ہوگی وہ اس وقت تم سے دور ہوجائے گا اوربد کار کی دوستی سے بچنا ؛کیونکہ وہ تمہیں معمولی سی چیز کے بدلے میں بیچ دے گا۔
(حیاۃ الصحابۃ:۳/۵۴۹)
۲۸۔توفیق خداوندی سب سے بہترین قائد ہے اور اچھے اخلاق بہترین ساتھی ہیں،عقلمندی بہترین مصاحب ہے ،حسن ادب بہترین میراث ہے اور عجب وخود پسندی سے زیادہ سخت تنہائی اوروحشت والی کوئی چیز نہیں۔
حیاۃ الصحابۃ:۳/۵۴۹)
۲۹۔اسے مت دیکھو کہ کون بات کررہا ہے ؛بلکہ یہ دیکھو کہ کیا بات کہہ رہا ہے۔
۳۰۔ہربھائی چارہ ختم ہوجاتا ہے صرف وہی بھائی چارہ باقی رہتا ہے جو لالچ کے بغیر ہو۔
۳۱۔اللہ کی قسم! اہل حق کا اکٹھا ہونا ہی اصل میں اکٹھا ہونا ہے چاہے وہ تعداد میں کم ہوں اوراہل باطل کا اکٹھا ہونا حقیقت میں بکھر جانا ہے چاہے وہ مقدار میں زیادہ ہوں۔
(حیاۃ الصحابۃ:۲/۲۰،کنزالعمال:۱/۶۹)
۳۲۔بیشک مومن تو ایسے لوگ ہیں کہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے وطن اورجسم دور ہوں اورمنافقین ایسے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔
(کنز العمال:۳/۱۴۱)
۳۳۔ میں کسی مسلمان کی ایک ضرورت پوری کردوں یہ مجھے زمین بھر سونا چاندی ملنے سے زیادہ محبوب ہے۔
(کنزالعمال:۳/۳۱۷)
۳۴۔تواضع کی بنیاد تین چیزیں ہیں،آدمی کو جو بھی ملے اسے سلام میں پہل کرے اورمجلس کی اچھی جگہ کے بجائے ادنی جگہ میں بیٹھنے پر راضی ہوجائے اور دکھاوے اورشہرت کو بُرا سمجھے۔
(کنزالعمال:۲/۱۴۳)
۳۵۔جو آدمی بھی اللہ تعالی پر بھروسہ کرے اور یہ سمجھے کہ اللہ تعالی جو حالت بھی اس کے لئے پسند فرماتے ہیں وہ خیر ہی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی حالت کے علاوہ کسی اور حالت کی کبھی تمنا نہ کرے گا اور یہ کیفیت رضا بر قضا کے مقام کا آخری درجہ ہے۔
(کنزالعمال:۲/۱۴۵)
۳۶۔جو اللہ کے فیصلہ پر راضی ہوگا تو اللہ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تو ہوکر رہے گا ؛لیکن اسے (اس پر راضی ہونے کی وجہ سے)اجر ملے گا اورجو اس پر راضی نہ ہوگا تو بھی اللہ کا فیصلہ ہوکر رہے گا؛ لیکن اس کے نیک عمل ضائع ہوجائیں گے۔
(کنز العمال:۲/۱۴۵)
۳۷۔جہاد کی تین قسمیں ہیں ایک ہاتھ سے جہاد کرنا دوسرا زبان سے جہاد کرناتیسرا دل سے جہاد کرنا،سب سے پہلے ہاتھ والا جہاد ختم ہوگا، پھر زبان والا ختم ہوگا پھر دل والا،جب دل کی یہ کیفیت ہوجائے کہ وہ نیکی کو نیکی نہ سمجھے اوربرائی کو برائی نہ سمجھے تو اسے اوندھا کردیا جاتا ہے یعنی اس کے اوپر والے حصے کو نیچے کردیا جاتا ہے۔ (پھر خیر اورنیکی کا جذبہ اس میں نہیں رہتا )
(حیاۃ الصحابۃ:۲/۸۱۲)
۳۸۔زبان سارے بدن کی اصلاح کی بنیاد ہے، جب زبان ٹھیک ہوجائے تو سارے اعضاء ٹھیک ہوجاتے ہیں اورجب زبان بے قابو ہوجاتی ہے تو تمام اعضاء بے قابوہوجاتے ہیں۔
(حیاۃ الصحابۃ:۲/۷۹۷)
۳۹۔اپنا بھید اپنے تک محفوظ رکھو اورکسی پر ظاہر نہ کرو؛ کیونکہ ہر خیرخواہ کے لئے کوئی نہ کوئی خیر خواہ ہوتا ہے۔
(حیاۃ الصحابۃ:۲/۷۹۷ٌ)
۴۰۔میں نے گمراہ انسانوں کو دیکھا ہے کہ وہ کسی آدمی کو بے داغ صحیح نہیں رہنے دیتے۔
(حیاۃ الصحابۃ:۲/۷۹۷)
۴۱۔جیسے تم خوف کے وقت عمل کرتے ہو ایسے ہی دوسرے اوقات میں بھی شوق اوررغبت سے عمل کیاکرو۔
۴۲۔میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی جو جنت جیسی ہو اور پھر بھی اس کا طالب سویا ہوا ہو اورنہ ہی ایسی کوئی چیز دیکھی جو جہنم جیسی ہو اورپھر بھی اس سے بھاگنے والا سوتا رہے۔
۴۳۔غورسے سنو!جو حق سے نفع نہیں اٹھاتا اسے باطل ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔
۴۴۔جسے ہدایت سیدھے راستے پر نہ چلاسکی،اسے گمراہی سیدھے راستہ سے ضرور ہٹا دے گی۔
(مذکورہ اقوال کے لئے دیکھئے: البدایۃ والنھایۃ:۷۱۸)
۴۵۔جو جان بوجھ کر محتاج بنتا ہے وہ محتاج ہوہی جاتا ہے۔
۴۶۔جو بلا اورآزمائش کے لئے تیاری نہیں کرتا جب اس پر آزمائش آتی ہے تو وہ صبر نہیں کرسکتا۔
۴۷۔جو کسی سے مشورہ نہیں کرتا اسے ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔
۴۸۔آدمی کو سیکھنے میں حیا نہیں کرنی چاہیے اورجس آدمی سے ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ نہیں جانتا تو اسے یہ کہنے میں حیا نہیں کرنی چاہے کہ میں نہیں جانتا۔
(مذکورہ اقوال کے لئے دیکھئے: کنزالعمال:۸/۲۱۸)
۴۹۔علم مال سے بہتر ہے،علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے،علم عمل کرنے سے بڑھتا ہےاور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے ،عالم کی محبت دین ہے جس کا اللہ کے ہاں سے بدلہ ملے گا،علم کی وجہ سے عالم کی زندگی میں اس کی بات مانی جاتی ہے اوراس کے مرنے کے بعد اس کا اچھائی سے تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(حیاۃ الصحابۃ:۳/۱۸۰،۱۸۱)
۵۰۔حقیقی عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے نا امید نہ کرے اورنہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی انہیں کھلی چھٹی دے اور نہ انہیں اللہ کی پکڑسے بے خوف اوربے فکر ہونے دے اور نہ قرآن کے علاوہ کسی اورچیز میں ایسا لگے کہ قرآن چھوٹ جائے۔
(حیاۃ الصحابۃ:۳/۲۳۷)
۵۱۔اس عبادت میں خیر نہیں ہے جس میں دینی علم نہ ہو اور اس دینی علم میں خیر نہیں ہے جسے آدمی سمجھا نہ ہو یا جس کے ساتھ پرہیزگاری نہ ہو اورقرآن کی اس تلاوت میں کوئی خیر نہیں جس میں انسان قرآن کے معنی اورمطلب میں غوروفکر نہ کرے۔
(حیاۃ الصحابۃ:۳/۲۳۷)
۵۲۔حضرت علیؓ نے استاد کے آداب کو ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا:
۱۔تمہارے استاد کا یہ حق ہےکہ تم اس سے سوال زیادہ نہ کرو اوراسے جواب دینے کی مشقت میں نہ ڈالو یعنی اسے مجبور نہ کرو۔
۲۔جب وہ تم سے منہ دوسری طرف پھیرلے تو پھر اس پر اصرار نہ کرو اور جب وہ تھک جائے تو اس کے کپڑے نہ پکڑو اورنہ ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرو اورنہ آنکھوں سے۔
۳۔اس کی لغزشیں تلاش نہ کرو اوراگر اس سے کوئی لغزش ہوجائے تو تم اس کے لغزش سے رجوع کا انتظار کرو اور جب وہ رجوع کرلے تو تم اسے قبول کرلو۔
۴۔اپنے استاد سے یہ نہ کہو کہ فلاں نے آپ کی بات کے خلاف بات کہی ہے۔
۵۔اس کے کسی راز کا افشاء نہ کرو۔
۶۔اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرو اس کے سامنے اوراس کے پیٹھ پیچھے دونوں حالتوں میں اس کے حق کا خیال کرو۔
۷۔تمام لوگوں کو سلام کرو ؛لیکن استادکو خاص طور پرسلام کرو۔
۸۔اس کے سامنے بیٹھو اگر اسے کوئی ضرورت ہوتو دوسروں سے آگے بڑھ کر اس کی خدمت کرو۔
۹۔اس کے پاس جتنا وقت بھی تمہارا گزرجائے تنگدل نہ ہونا ؛کیونکہ یہ عالم کھجور کے درخت کی طرح ہے جس سے ہر وقت کسی نہ کسی فائدے کے حصول کا انتظار رہتا ہے،یہ عالم اس روزہ دار کے درجہ میں ہے جو اللہ کے راستہ میں جہاد کررہا ہو جب ایسا عالم مرجاتا ہے تو اسلام میں ایسا شگاف پڑجاتا ہے جو قیامت تک پر نہیں ہوسکتا۔
(حیاۃ الصحابۃ:۳/۲۳۸)
۵۳۔((الأیام صحائف اعمار کم فخلدوھاصالح اعمالک))
‘‘یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں،اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو’’
(متاع وقت اورکاروان علم :۵۵)
۵۴۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد مجھے جتنا فائدہ حضرت علیؓ کے اس خط سے ہوا اتنا فائدہ اورکسی چیز سے نہیں ہوا،آپ نے میری طرف خط میں لکھا تھا:
‘‘اما بعد!یہ بات شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ آدمی کو اس چیز کے حاصل کرنے سے خوشی ہوتی ہے جو کبھی اس سے ضائع نہ ہو اورآدمی اس چیز کے ضائع ہونے پر غمگین اورنادم ہوتا ہے،جس کا حاصل کرنا اس کے لئے ممکن نہیں،پس آپ کی خوشی ہمیشہ آخرت کی چیزوں کے حصول اورآپ کا غم آخرت کی چیزوں سے محرومی سے وابستہ ہونا چاہیے،دنیا کی کوئی چیز ضائع ہوجائے تو افسوس مت کرنا اوراگر دنیا کی کوئی چیز مل جائے تو خوشی کی وجہ سے تکبراورخود پسندی کا شکار مت ہونا،تمہارے زیر نظر آخرت کی زندگی ہی ہونی چاہئے’’
(نفحۃ العرب:۱۳۱)
۵۵۔کچھ لوگ اللہ کی عبادت جنت کی رغبت اورلالچ کی وجہ سے کرتے ہیں ‘ فتلک عبادۃ التجار’ یہ تاجروں والی عبادت ہے،کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خوف اورڈر کی وجہ سے اللہ کی عبادت میں مصروف نظر آتے ہیں ‘فتلک عبادۃ العبید’ یہ غلاموں والی عبادت ہے اور اللہ کی مخلوق میں کچھ ایسے بلند ہمت لوگ بھی ہیں جو اللہ کی عبادت جنت کی لالچ اورجہنم کے خوف سے بے نیاز ہوکر صرف اورصرف اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے کرتے ہیں‘فتلک عبادۃ الاحرار’ یہ آزاد اور بلند حوصلہ لوگوں کی عبادت ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح:۳/۱۴۲)
۵۶۔جس شخص کی زبان اس پر حاکم بن جائے وہ ذلیل ہوکر رہتا ہے۔
۵۷۔عقل مند کا سینہ اس کے رازوں کا صندوق ہوتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۳۹)
۵۸۔انسان پر تعجب کرو جو چکنائی سے بنی ہوئی چیز(آنکھ)سے دیکھتا ہے،گوشت (زبان)سے بولتا ہے،ہڈی (کان)سے سنتا ہے اور ایک خالی جگہ(ناک)سے سونگھتا ہے۔
۵۹۔جب دنیا کسی کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے مل جاتی ہیں اورجب کسی سے رخ پھیرتی ہے تو اس کی خوبیوں سے بھی اسے محروم کردیتی ہے۔
۶۰۔لوگوں کے ساتھ ایسا طرز زندگی اختیار کرو کہ تمہارے مرنے پر وہ آبدیدہ ہوجائیں اورتمہاری زندگی میں وہ تمہارے ہم نشین رہیں۔
۶۱۔سب سے کمزورآدمی وہ ہے جو لوگوں کو دوست نہ بناسکے اوراس سے بھی کمزور وہ شخص ہے جو لوگوں کو دوست بنانے کے بعد ضائع کردے۔
۶۲۔جس کے قریبی لوگ اس کی قدر نہیں کرتے تو دور والے اس کی توقیر وتعظیم میں لگ جاتے ہیں۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۰)
۶۳۔ہیبت وخوف سے ناکامی اورحد سے زیادہ حیاء کرنے سے محرومی ملتی ہے۔
۶۴۔مواقع بادلوں کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں پس اگر کسی خیر کا موقع مل جائے تو اسے ضائع مت کرو۔
۶۵۔اے ابن آدم !تو دیکھ رہا ہے کہ تیرا رب تجھ پر ہر آن ہر گھڑی نعمتیں برسارہا ہے ؛جبکہ تو اس کی معصیت پر ڈٹا ہوا ہے،ان نعمتوں کو دیکھ کر تجھے گناہوں سے باز آجانا چاہیئے۔
۶۶۔جب کوئی کسی بات کو چھپاتا ہے تو وہ اس کی زبان کی لغزشوں اورچہرے کے خدوخال سے ظاہر ہوجاتی ہے۔
۶۷۔جب تک بیماری کے ساتھ کام کرنا ممکن ہو کرتے رہو۔
۶۸۔سب سے افضل زہد،زہدکوچھپانا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۲)
۶۹۔سب سے بڑی مال داری امید کو خیربادکہنا ہے۔
۷۰۔جس کی امید لمبی ہوگی اس کا عمل خراب ہوجائے گا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۵)
۷۱۔اگر نفلی عبادت فرائض میں نقصان کا سبب بن رہی ہوں تو ایسے نوافل سے ثواب حاصل نہ ہوگا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۶)
۷۲۔وہ گناہ جو آپ کو غمگین کردے اس نیکی سے بہتر ہے جو آپ کو عجب اورخود پسندی میں مبتلا کردے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۷)
۷۳۔سخاوت تو وہ ہے جو بن مانگے عطا کیا جائے،جو چیز مانگ کر دی جائے وہ حیاء اورشرمندگی سے بچنے کے لئے ہے۔
۷۴۔عقل جیسی مالداری نہیں،جہالت جیسی ناداری نہیں،ادب جیسی میراث کوئی نہیں اورمشورہ جیسی دانش مندی کوئی نہیں۔
۷۵۔صبردو طرح کا ہوتا ہے،ایک وہ صبر جو کسی ناگوار صورت کے پیش آنے پر کیا جائے اور دوسرا وہ صبر جو کسی محبوب چیز سے محرومی پر کیا جائے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۸)
۷۶۔مال تمام شہوات کا مادہ اور بنیاد ہے۔
۷۷۔زبان ایک درندہ ہے،اگر اسے آزاد چھوڑدیا جائے تو ہلاک کردے گا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۸)
۷۸۔محبوب لوگوں کو کھودینا انسان کو وطن میں بھی پردیسی بنادیتا ہے۔
۷۹۔جب عقل کامل ہوجاتی ہے تو کلام کم ہوجاتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۴۹)
۸۰۔مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید ہوبیٹھا ہے ؛حالانکہ اس کے پاس استغفار موجود ہے،جس کے ذریعے وہ اپنے گناہوں کو معاف کروا سکتا ہے۔
۸۱۔جوشخص اپنے اور اللہ تعالی کے تعلق کو درست کرلےگا اللہ تعالی اس کے اور لوگوں کے تعلق کو درست کردے گا،جوشخص آخرت کے معاملہ کو درست کردے گا اللہ تعالی اس کی دنیا کے معاملہ کی اصلاح فرمادے گا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۵۲)
۸۲۔کامیاب فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے نا امید نہ کرے ،اور انہیں اللہ کے عذاب سے مامون نہ کرے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۵۳)
۸۳۔تقویٰ کے ساتھ تھوڑا عمل بھی بہت ہے،جو چیز قبول ہوجائے وہ تھوڑی کیسے ہوسکتی ہے۔
۸۴۔اللہ تعالی پر یقین کے ساتھ سوجانا شک کی نماز سے بہتر ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۵۴)
۸۵۔دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے،اس کاظاہر نرم وملائم اور دلکش ہے جبکہ اس کے اندر ہلاکت خیز زہر چھپا ہوا ہے،بےوقوف جاہل اس میں دلچسپی رکھتا ہے جب کہ سمجھدار اوردانش مند شخص اس سے دور بھاگتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۵۹)
۸۶۔جس شخص کے دل میں خالق کی عظمت ہوتی ہے ساری مخلوق اس کی نگاہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔
(نھج البلاغۃ،السحرہ الرابع:۵۶۱)
۸۷۔جسے چار چیزیں عطا کردی جائیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں ہوسکتا(۱)جسے دعا عطا کردی جائے وہ عطا سے محروم نہیں ہوتا۔(۲)جس توبہ عطا کردی جائے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا۔(۳)جسے استغفار عطا کردیا جائے وہ مغفرت سے محروم نہیں ہوتا۔ (۴)جسے شکر عطا کردیا جائے وہ زیادتی سے محروم نہیں ہوتا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۶۲)
۸۸۔صدقہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے رزق طلب کرو۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۶۴)
۸۹۔اپنے آپ کو تہمت کی جگہوں پر لے جانے والا اس شخص کو ملامت نہ کرے جو اس کے بارے میں بد گمانی کرتا ہے۔
۹۰۔فقر بڑی موت ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۶۳)
۹۱۔لوگ جس چیز سے ناواقف ہوں اس کے دشمن ہوتے ہیں۔
۹۲۔سینہ کا کشادہ پن سرداری کا زینہ ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۷۰)
۹۳۔جیسے جہالت کی بات کرنا خیر سے خالی ہے اسی طرح دانش مندی کی بات نہ کرنے میں بھی خیر نہیں۔
۹۴۔جسے صبر فائدہ پہنچاسکے اسے بے صبری ہلاک کردیتی ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۷۱)
۹۵۔ہر برتن کی یہ حالت ہے کہ جب اس میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ تنگ ہوتا ہے،لیکن علم کا برتن ایسا ہے کہ جب اس میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے وہ کھلتا چلاجاتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۷۴)
۹۶۔مختلف حالات کے الٹ پلٹ ہونے میں آدمی کے جواہر کا پتہ چلتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۷۴)
۹۷۔لالچی ذلت کی بیڑیوں میں جکڑارہتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۷۷)
۹۸۔اگر کوئی شخص آپ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو آپ اس کے گمان کو سچا کرکے دکھائیں۔
۹۹۔میں نے اللہ تعالیٰ کو ارادوں کے ٹوٹنے اور نیتوں کے بکھرنے سے پہچانا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۸۰)
۱۰۰۔تمہارے دوست بھی تین ہیں اوردشمن بھی،تمہارے تین دوست یہ ہیں۔ (۱)تمہارا دوست (۲)تمہارے دوست کا دوست (۳)تمہارے دشمن کا دشمن،تمہارے تین دشمن یہ ہیں۔ (۱)تمہارا دشمن (۲)تمہارےدوست کا شمن(۳)تمہارے دشمن کا دوست
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۹۴)
۱۰۱۔غیرت مند آدمی کبھی زنا نہیں کرتا۔
۱۰۲۔موت بہترین پہرے دار ہے۔
۱۰۳۔آدمی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالی کے خزانوں پر اس کا اعتماد اپنے پاس موجود چیزوں سے زیادہ نہ ہوجائے۔
۱۰۴۔تنہائیوں میں گناہ کرنے سے بچو؛ کیونکہ جو تمہیں دیکھ رہا ہے فیصلہ اسی کو کرنا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۵۹۸)
۱۰۵۔ہرآدمی کے مال میں دوشریک ہوتے ہیں ایک وارث اوردوسرا حوادثات زمانہ۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۰۰)
۱۰۶۔کسی کے استحقاق سے بڑھ کر اس کی تعریف کرنا خوشامد ہے اور استحقاق سے کم تعریف کرنا حسد۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۰۱)
۱۰۷۔بغیر عمل کے دعوت دینے والا ایسے ہے جیسے بغیر کمان کے تیر پھینکنے والا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۰۰)
۱۰۸۔کسی کی زبان سے برائی کا کوئی کلمہ نکلے تو اس کے بارے میں اس وقت تک بد گمانی نہ کرو جب تک اس کی بات میں بھلائی کا احتمال موجود ہے۔
۱۰۹۔علم عمل کے ساتھ ملا ہوا ہے،پس جو علم حاصل کرے وہ عمل بھی کرے، علم عمل کی طرف پکارتا ہے اگر اس کی پکار سن لی جائے تو وہ ٹھہرجاتا ہے اور اگر اس کی پکار پر لبیک نہ کہا جائے تو علم رخصت ہوجاتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۰۴)
۱۱۰۔بخل تمام خرابیوں کو جمع کرنے والا ہے،یہ ایک لگام ہے جس کے ذریعہ انسان کو تمام خرابیوں کی طرف ہنکایا جاسکتا ہے۔
۱۱۱۔جب آدمی کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو وہ اسے مل ہی جاتی ہے اگر ساری نہ بھی ملے تو کچھ نہ کچھ تو ہاتھ آہی جاتا ہے۔
۱۱۲۔وہ خیر کوئی خیر نہیں جس کے بعد جہنم ہے اور وہ شر کوئی شر نہیں جس کے بعد جنت ہے،دنیا کی ہر نعمت جنت کے مقابلہ میں حقیر ہے اوردنیا کی ہر مصیبت جہنم کی مصیبتوں کے مقابلہ میں عافیت ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۱۰)
۱۱۳۔جو دنیا مل جائے وہ لے لو اور دنیا کی جو چیز تم سے دورہے تم بھی اس سے دور رہو۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۱۱)
۱۱۴۔جو حق سے مقابلہ کرے گا حق اس کو پچھاڑ کر رکھ دے گا۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۱۲)
۱۱۵۔رزق کی دو قسمیں ہیں ایک رزق طالب ہے اوردوسرا رزق مطلوب ہے،جو شخص دنیاکو طلب کرتا ہے موت اس کی طالب بن جاتی ہے،یہاں تک کہ اسے دنیا سے نکال دیتی ہے اور جو شخص آخرت کا طالب بن جاتا ہے دنیا اس کی طالب بن جاتی ہے،یہاں تک کہ اسے اپنا رزق ضرورت کے مطابق مل جاتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۱۶)
۱۱۶۔جو چھوٹی مصیبتوں پر صبرنہ کرے اللہ تعالیٰ اسے بڑی آزمائشوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔
۱۱۷۔انسان کا کیا فخر کرنا ؟ اس کی ابتداء ناپاک پانی ہے اورانتہاء مردار لاش ہے،نہ اپنا رزق خود پیدا کرسکتا ہے اورنہ اپنی موت کو دور کرسکتا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۱۹)
۱۱۸۔سب سے خطرناک گناہ وہ ہے جسے اس کا کرنے والا ہلکا سمجھے۔
۱۱۹۔بدترین دوست وہ ہے جس کے لئے تکلف کرنا پڑے۔
۱۲۰۔جب کسی مومن کو اس کا بھائی شرمندہ کرے یا غصہ دلائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کی جدائی کا وقت قریب آگیا ہے۔
(نھج البلاغۃ،الجزء الرابع:۶۲۴)
۱۲۱۔عقل مند اپنے آپ کو پست کرکے بلندی حاصل کرتا ہے اور نادان اپنے آپ کوبڑھاکرذلت اٹھاتا ہے۔
۱۲۲۔دوستی ایک خود پیدا کردہ رشتہ ہے۔
۱۲۳۔گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹادیتا ہے اور نیکیوں پر مغرور ہونا ان کو برباد کردیتا ہے۔
۱۲۴۔بے کاری میں عشق بازی یاد آجاتی ہے۔
۱۲۵۔معافی نہایت اچھا انتقام ہے۔
۱۲۶۔غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔
۱۲۷۔تجربے کبھی ختم نہیں ہوتے اور عقل مند ان میں ترقی کرتا ہے۔
۱۲۸۔مصیبت میں گھبرانا کمال درجے کی مصیبت ہے۔
۱۲۹۔جلدی سے معاف کرنا انتہائے شرافت اور انتقام میں جلدی کرنا انتہائے رذالت ہے۔
۱۳۰۔شریف کی پہچان یہ ہے کہ جب کوئی سختی کرے تو سختی سے پیش آتا ہے اورجب کوئی نرمی کرے تو ڈھیلا ہوجاتا ہے اورکمینے سے جب کوئی نرمی کرےتو سختی سے پیش آتا ہے اور جب سختی کرے تو ڈھیلا ہوجاتا ہے۔
۱۳۱۔انسان جوحالت اپنے لئے پسند کرتا ہے اسی حالت میں رہتا ہے۔
۱۳۲۔بُرا آدمی کسی کے ساتھ نیک گمان نہیں رکھتا؛ کیونکہ وہ ہر ایک کو اپنے جیسا گمان کرتا ہے۔
۱۳۳۔جب تک کوئی بات تیرے منہ میں ہے تب تک تو اس کا مالک ہے،جب زبان سے نکال چکا تو وہ تیری مالک ہے۔
۱۳۴۔اول عمر میں جو وقت ضائع کیا ہے آخر عمر میں اس کا تدارک کر؛تا کہ انجام بخیر ہو۔
۱۳۵۔جس شخص کے دل میں جتنی زیادہ حرص ہوتی ہے اس کو اللہ تعالی پر اتنا ہی کم یقین ہوتا ہے۔
Jan 16 2015
(۳) کھانا اتنا کھانا چاہئے جس سے زندگی قائم رہے۔
(۴) کپڑے پہننے میں نمائش باعثِ عذاب ہے۔
(۵) رہائش کے لئے محلات بنانے سے جنت نہیں مل سکتی۔
(۶) وہ علم بیکار ہے جس پر عمل نہ کیا ہو۔
(۷) مومن وہ ہے جو کاروبار زندگی میں بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو۔
(۸) کاش تمام مخلوقات کا غم میرے دل پر ہوتا تاکہ سب فارغ البال ہوتے۔
(۹) اگر کوئی اپنے ادب سے عاجز آتا ہے تو دوسروں کے ادب سے ہزار بار عاجز آتا ہے۔
(۱۰) تم کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن کا فعل ان کے قول سے مطابق نہیں رکھتا، مگر بہت کم ایسے بھی ملیں گے جن کا فعل و عمل ان کی زبان سے عین مطابق ہو۔
(۱۱) سب سے بڑا دانشور وہ ہے جو کلام اللہ شریف کی آیات مبارکہ پر غور و فکر کرے اور ان سے تدبر و تفکر کو کام میں لائے۔
(۱۲) جو اپنے نفس کا طیع ہوجاتا ہے اس کے لئے تباہی کے سواء کچھ نہیں ہے۔
(۱۳) جو شخص اپنے آپ کو بلند مرتبہ کہلوانا پسند کرے نگاہِ حق سے گرجاتا ہے
(۱۴) حسنِ خُلق یہ ہے کہ خلقت تجھ سے راضی ہو۔
(۱۵) محض گمان پر کسی سے علاحدگی اختیار مت کرو۔
(۱۶) بغیر عتاب کے کسی کی صحبت مت چھوڑو۔
(۱۷) اس شخص سے بچو جو باعزت ہو کر مجلس میں بیٹھے اور بے عزت ہوکر نکالا جائے۔
(۱۸) عشق حقیقی تو وہ ہے جو جذبہ عمل کو تیز کردے۔
(۱۹) حق پر چلنے والے کا پاؤں شیطان کے سینہ پر ہوتا ہے۔
(۲۰) علم کی مثال سمندر جیسی ہے خواہ کتنا ہی خرچ کرو کم نہ ہوگا۔
(۱)جو شخص چاہتا ہے کہ اس کا دین سالم رہے اور اس کا بدن آرام سے رہے اور رنج و غم میں ڈالنے والے کلام کے سننے سے بچا رہے تو اس کو چاہئے کہ لوگوں سے الگ تھلگ ہوجائے اس لئے کہ یہ زمانہ عزلت اور وحدت کا ہے ۔
(۲)سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ تم اپنے نفس پر غالب آجاؤ اور جو شخص اپنے نفس کی تادیب سے عاجز ہے تو پھر اپنے غیر کی تادیب سے بدرجہ اولیٰ عاجز ہوگا ۔
(۳)تین چیزیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی علامت ہیں : لہو و لعب کی کثرت ، ہنسی مذاق اور غیبت و شکایت ۔
Feb 2 2015
Tawheed – Wahdatul Wujud
Tawheed – Wahdatul Wujud
حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ
آریوں نے مسلمانوں پر یہ الزام لگا کر ’’وہ نیستی سے ہستی کے پیدا ہونے کے قائل ہیں‘‘ اپنا ایک خود تراشیدہ وہم یہ پیش کیا ہے کہ ’’عالم صرف خدا سے نہیں بلکہ مادّہ سے بھی ظاہر ہوا ہے‘‘، سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اس فطری یقین کومحفوظ رکھنے کے لئے کہ ’’ہستی ہستی ہی سے پیدا ہوتی ہے‘‘ خدا کی ہستی کیوں کافی نہ تھی جو مادّہ کے وجود کا اضافہ کیا جاتا ہے، یہ سچ ہے کہ ہستی کو ہستی ہی سے پیدا ہونا چاہئے، یہی پیغمبروں کا مشاہدہ بھی ہے کہ موجودہ نظامِ ہستی اس ہستی سے ظاہر ہوا ہے جس کا نام خدا ہے، پھر خدا کے پہلوں میں کسی فالتو ہستی (مادّہ یا روح) کے اضافہ کی کیا ضرورت ہے؟ قرآن پاک میں توحید کے جہاں وار دلائل بیان کئے گئے ہیں ان میں زیادہ زور اسی دلیل پر ہے کہ ہستی کی پیدائش کے لئے خدا یعنی ایک خود بخود ہستی کے ماننے کے لئے تو آدمی یقیناً مجبور ہے لیکن اس ہستی کےسواء کسی اور خود بخود ہستی کی ضرورت کیوں بتائی جاتی ہے؟ قرآن کا ارشاد ہے کہ کسی کے پاس کوئ دلیل، کوئی شہادت ہو تو پیش کرے:
أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُلْ لَا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ۔ (الانعام:۱۹)
یہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے تراش لئے ہیں، اللہ نے اس کے متعلق کوئی دلیل نہیں اُتاری، یہ مشرکین صرف اٹکل پچو باتوں اور اپنی حواہش کے پیچھے چلے جارہے ہیں، حالانکہ ان کے پروردگار کی رہنمائی ان کے سامنے آچکی ہے۔ایک اور جگہ مسلمانوں سے چیلنج دلایا گیا ہے کہ ان کے فالتو معبودوں کے متعلق ان مشرکین کے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کریں:
توحید کے سلسلہ میں قرآن کا لازوال اور لاجواب مطالبہ:
بہرحال اسی ملک کی طرف قرآن نے اعلان کیا ہے کہ:
توحید کے متعلق قرآن اس ٹھوس مطالبہ سے بھرا ہوا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اس مطالبہ کا کوئی جواب کسی نے اب تک دیا ہے اور نہ کبھی کوئی دے سکتا ہے، صرف خیر و شر کی تقسیم سے مغالطہ کھاکر قدیم ایرانی فلاسفروں کے ایک گروہ نے یزدان کے ساتھ اہرمن کے وجود کے اضافہ کو عقل کا تقاضا ٹہرانا چاہا ہے، اس مسئلہ پر ہم فلسفۂ غم کے تحت میں کافی بحث کریں گے، لیکن پارسیوں سے اتنا اس وقت بھی پوچھتے چلنا چاہئے کہ تمہاری مراد خیر و شر سے کیا ہے؟ اگر خیر سے نفع بخش اور شر سے ضرر رساں چیزیں مراد ہیں تو کیا اس قسم کے خیر کا وجود شر سے علاحدہ ہوکر پایا جاتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو شاید شر کے لئے علاحدہ خالق کی تلاش ممکن بھی تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں جس آگ سے ہمارے گھر جلتے ہیں اسی سے کھانا بھی پکتا ہے، اور جس پانی سے اناج پیدا ہوتا ہے اسی سی طوفانی مصائب بھی ؤتے ہیں، اور علی ھٰذا القیاس جس آفتاب کے نور و حرارت سے روشنی ملتی ہے، توانائی پیدا ہوتی اور کھیتی پکتی ہے اسی کی حرارت سے کھیتیاں جھلس بھی جاتی ہیں۔الحاصل ایک ہی چیز کے صحیح استعمال سے نفع بھی ہوتا ہے اور استعمال کی غلطی سے وہی چیز چر بھی بن جاتی ہے۔
اضداد کی باہمی آویزش توحید پر گواہ ہے:
بہر حال جب خیر کا وجود شر سے علاحدہ ہوکر نہیں پایا جاتا ہے بلکہ استعمالی غلطی سے خیر ہی شر بن جاتا ہے تو ایک کے لئے دو خالق کی تلاش نہ صرف فضول بلکہ قطعاً غلط ہے، لہٰذا پارسیوں کے دو خداؤں میں سے بھی ایک اُسی طرح فالتو ہوجاتا ہے جس طرح آریوں کا مادہ اور روح، ہاں اگر بجائے خیر و شر کے یہ جائے (اور غالباً ایرانی فلاسفہ کی یہی مراد بھی ہوگی) کہ نظامِ عالم کی بنیاد متضاد قوتوں پر مبنی نظر آتی ہے، نیستی کے ساتھ ہستی اور حیات کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے، حرارت کے ساتھ برودت اور رطوبت کے ساتھ یبوست، علیٰ ھٰذا سکون کے ساتھ حرکت اور ضعف کے ساتھ قوت کے مظاہرے یہاں ہر آن اور ہر لمحہ دیکھے جاتے ہیں تو ان تماشوں کا کون انکار کرسکتا ہے، بلکہ سچ یہ ہے کہ مظاہرِ فطرت میں شاید ہی کوئی ایسی صورت ہوگی جس کی ضد یہاں موجود نہ ہو، لیکن کیا اس سے بچجائے ایک کے دو کی ضرورت ثابت ہوتی ہے؟ تم اضداد کو دیکھتے ہو لیکن ان اضداد کی باہمی آویزشوں اور پیچیدہ پیوستگیوں سے آنکھیں کیوں بند کرلیتے ہو؟ غور تو کرو! بیچاری عقل جو دو ضدوں کے باہمی اجتماع کو سوچ بھی نہیں سکتی، اسی کی پیٹھ پر کائنات کے ان غیر محدود و لا متناہی اضداد کی کثرتوں کے اجتماع کے بجھ کو کیسے لادا جاسکتا ہے جب تک کہ کسی شیزازۂ وحدت کے ساتھ انہیں جکڑا نہ جائے؟ قرآن نے
اسی حقیقت کی طرف ان لفظوں میں اشارہ کیا ہے:
اگر خدا نخواستہ ایسا ہوتا تو ہستی کے جس نظام کی بنیاد انہیں اضداد پر قائم ہے کیا وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی قائم رہ سکتا تھا؟ رطوبت کے مظہر پانی کو یا حرارت کی مظہر آگ کو، الغرض اس قسم کے اضداد کے مظاہر میں سے کسی ایک چیز کو نکاللو! تو کیا پھر یہ دنیا یہی دنیا رہ سکتی ہے؟ قرآن میں وحی کا اگر یہ تجربہ پیش کیا ہے کہ:
خود غور کرنا چاہئے کہ پیغمبروں کے اس مشاہدہ کے سواء کیا عقل کچھ اور بھی سوچ سکتی ہے یا مان سکتی ہے؟ بلاشبہ ہم سے وہی منوایا گیا جس کے سواء ہم کچھ مان ہی نہیں سکتے اور وہی سمجھایا گیا جس کے سواء ہم کچھ سمجھ ہی نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ اضداد کے جس ایرانی فلسفہ کو پیغمبروں کے تجربۂ توحید میں شک انداز کے لئے پیش کیا گیا تھا، کیسی عجیب بات ہے کہ یہی فلسفہ الٹ کر شرک کے گلے کا پھندا بن گیا اور لے دے کر توحید کےدشمنوں کے ہاتھ میں یہی ایک حربہ تھا، آخر اضداد کا یہ مجموعہ جو باہم اتنی سختیوں کے ساتھ جکرا ہوا ہے، موحِّد اگر اُسے جکڑا ہوا مانتا ہے تو کیا بکھرا ہوا مانے؟ سچ کو جھوٹ نہیں بنایا جاسکتا اور بلاشبہ وحی اور نبوت کے تجربات اور مشاہدات کا انکار بغیر اس کے ہو نہیں سکتا،قرآن مجید نے سچ فرمایا ہے:
پارسیوں کو اپنی کتاب کا صحیح علم نہیں ہے، ورنہ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ ان کو اپنی کتابوں میں بھی ملتا، زنداوستا میں زرتشترا کی طرف یہ عبارت منسوب کی گئی ہے:’’نیک اندیشوں اور سچے خیال والوں کے نزدیک اہرمزدرا ربِّ دو جہاں ہے، جو لوگ بتوں کے خیال میں منہمک رہتے ہیں اور مشرک ہیں یا وہ جو شرارت یا بدنفسی میں مبتلا رہتے ہیں رذیل ہیں‘‘۔ (ژنداوستا، حصہ پاسا)
الحاصل حق سبحانہ تعالیٰ کا خود بخود موجود ہونا، ہمیشہ ہمیشہ سے ہونا، ایک ہونا، نبوت کے یہ ایسے روشن تجربات ہیں جن کے اقرار پر وہ بھی مجبور ہیں جو بے دیکھے بے جانے خدا کا بلاوجہ انکار کرنا چاہتے ہیں اور اسی لئے میں نے کہا تھا کہ ان حدود تک مذہب اور لامذہبیت میں کوئی اختلاف نہیں، پیغمبروں سے جو باغی ہیں ان کو بھی یہا ماننا پڑتا ہے اور ایمان لانے والوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔
مسئلۂ صفاتِ باری تعالیٰ:
یہی مسئلہ خدا پرستوں اور منکروں کے درمیان خطِ اختلاف ہے، بہر حال مادّہ اور خدا کے متعلق یہاں تک جتنے جھگڑے ہیں صرف لفظوں کی لڑائی ہے، البتہ اس کے بعد پیغمبرانہ تجربات نے حق تعالیٰ کے لامحدود کمالات اور صفاتِ اعلیٰ یا اسماءِ حسنیٰ کے متعلق جن واقعات کا مشاہدہ اور علم حاصل کیا ہے حقیقی اختلاف کی سرحد یہیں سے شروع ہوتی ہے اور در اصل پیغمبروں اور دہریوں کی بحت کا اصل خطِ جنگ یہی ہے، انبیاء علیہ السلام کا مشاہدہ ہے کہ جس خود بخود ہستی کی یہ عالم نمائش گاہ ہے وہ ان تمام کمالات سے موصوف ہے، جن کو ہم کائنات کے طویل و عریض سلسلہ میں مختلف نوعیتوں کے ساتھ مختلف پیمانوں پر مشاہدہ کر رہے ہیں، مثلاً یہاں زندگی، حیات، علم، بینائی، شنوائی، ارادہ، قدرت، اختیار، قوت اور اسی قسم کے جتنے کمالات اور فیوض ہیں جن کی غیر محدود موجیں مختلف صورتوں سے محسوسات کے مختلف مظاہر میں چاروں طرف سے اُبل رہی ہیں، پیغمبروں کا دعویٰ ہے کہ انہی کمالات کے ساتھ حق سبحانہ و تعالیٰ اپنی شانِ اعلیٰ کے مطابق موصوف ہیں، لیکن مادہ پرست، منکرِ مذہب، اس کے برخلاف مدعی اور صرف مدعی ہے۔
کیونکہ بالتفصیل معلوم ہوچکا ہے کہ سرچشمۂ صفات تک عقل و حواس کے ذریعہ سے رسائی قطعاً ناممکن ہے، بہر حال مادہ پرستوں و منکرینِ خدا کا یہ گروہ بے دیکھے، بے جانے اور بے سمجھے اپنے اس وہم میں گرفتار ہے کہ وہ خود بخود ہستی جس پر نظامِ کائنات کی انتہاء ہوتی ہے ان کمالات سے مفلس و عاری ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنے آپ کو پیغمبروں سے جُدا کرنے کے لئے اس خود بخود ہستی کا نام بجائے خدا کے مادّہ رکھا لیا ہے، مادہ کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ خود بخود ہستی جس پر نظامِ عالم کی بنیاد قائم ہے اور ان تمام کمالات سے وہ معرّٰی ہے جو خدا کے لئے ثابت کئے جاتے ہیں، قرآن پاک کی جن دلیلوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اثباتِ خدا کے دلائل ہیں در اصل ان کا زیادہ تر تعلق صفات ہی کے اثبات سے ہے، میں چاہتا ہوں کہ قرآن روشنی میں نبوت کے اس مشاہدہ اور تجربہ کے متعلق یہ دکھاؤں کہ عقل و فطرت میں بھی ان دعوؤں میں سے کس دعوے کے ماننے کی گنجائش ہے اور کس کے انکار پر ہم مجبور ہیں۔
نابود کے نمود کا دعوئے غلط:
مسئلہ صفات کے متعلق مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مرادآبادی رحمہ اللہ نے یہ عجیب و غریب سوال پیش کیا کہ: ؎ ’’نہ تھا تو ہوا کہاں سے؟‘‘
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ہم جن کمالات و اوصاف کو ہستی کے مختلف مظاہر میں محسوس کر رہے ہیں مثلاً ارادہ، اختیار، حیات، علم، بینائی، شنوائی اور قدرت وغیرہ کے متعلق مادہ پرستوں کا یہ وہم یعنی بغیر جانے ہوئے یہ ادعاء ہے کہ ابتداء میں ہستی ان کمالات سے بالکل مفلس تھی، اس میں نہ زندگی تھی نہ علم تھا، نہ ارادہ اور نہ شعور، غرض کچھ نہ تھا، پھر رفتہ رفتہ ارتقاء کے مختلف مدارج کو بخود طے کرتے ہوئے ان نابود اور معدوم صفات کا اس میں نمود اور بود شروع ہوا، جس کا حاصل یہی ہوا کہ ان لوگوں کے نزدیک جو نہ تھا وہ ہوا اور ہو رہا ہے، سوچنا چاہئے کہ وہی عقل جو نیست محض کے ہست ہونے کو سوچ نہیں سکتی تھی، جس کےنزدیک نیستی سےہستی کی پیدائش ایک ناقابلِ تصور خیال تھا، اُسی عقل اور اُسی فطرت میں کیا یہ عجیب و غریب دعویٰ سما سکتا ہے کہ جو نہ تھا اس کے ہونے کا یقین کرے، آخر جس میں زندگی نہ تھی اُس میں زندگی، جس میں علم نہ تھا اس میں علم، جس میں ارادہ نہ تھا اس سے ارادہ، جس میں اختیار نہ تھا اس سے اختیار، جس میں قدرت نہ تھی اس سے قدرت نکلنے کے کیا یہی معنیٰ ہوئے کہ جو نہ تھا وہ ہوا، جو نیستی تھی وہ ہستی بنی؟
پروفیسر اسٹارٹ ذہنی صفات کی نیرنگیوں کا اندازہ کرتے ہوئے اس بے ربطی کو جو مادہ اور ذہنی مظاہر میں ہے ان الفاظ میں ادا کرتا ہے ’’جہاں کہیں سے بھی ذہن شروع ہوتا ہوا سمجھا جائے وہ اس طرح ناگہانی طور پر نمودار ہوتا ہے، جس طرح طپنچہ سے گولی جو طپنچہ میں پہلے سے موجود نہ ہو، ذہن کا مادہ سے پیدا ہونا مادی دنیا میں فطرت کےسارے نظام کے منافی و مناقض ہے، یہ گویا عدم سے وجود کی تخلیق کے معجزہ کا قائل ہونا ہے۔ (مرتب۔ازکتاب: مائنڈ اینڈ مانیٹر:۱۱۰، ۱۱۹)
سچ یہ ہے کہ انسان جب تک اپنی موجودہ عقل اور فطرت کو برباد نہ کرے اس وہمی دعوے کے آگے سر جھکانے کے لئےکسی طرح آمادہ نہیں ہوسکتا، کسی نے کہا ہے کہ ’’لامذہبیت کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان میں لاعقلیت پیدا ہوجائے‘‘، اب آؤ اس کے مقابلہ میں ان تجربات اور مکاشفات کو سن جو دنیا کے ہر خطّہ اور ہر آبادی کے برگزیدہ اور راست باز انسان نے ان انسانوں نے پیش کئے ہیں جن پر فطرتِ انسانی نے سب سے زیادہ اعتماد کیا ہے، یعنی وحی اور نبوت والوں کا ارشاد سن،
ابھی اس سے بحث نہیں کہ زندگی کیا چیز ہے؟ علم کیا حقیقت کیا ہے؟ ارادہ کی کیا تعریف ہے؟ لیکن اتنا تو سب کو معلوم ہے کہ ہستی کے یہ وہ اوصاف ہیں جنہیں وجود کا کمال اور اس کی خوبی سمجھی جاتی ہے، جس سے بینائی جاتی رہتی ہے ہم اس اندھے کو ناقص کہتےہیں، یہی حال تمام کمالات کا ہے۔
بود ہی کی نمود ہے!
بہر حال پیغمبروں کا یہ دعویٰ ہے کہ انسان جن چیموں کو کمال سمجھتا ہے یا کمال سمجھ سکتا ہے، کائنات کا بنیادی وجود ان تمام کمالات سے ازلاً اور ہمیشہ سے موصوف ہے مطلب کیا ہے؟ یہی کہ ہمارے سامنے ’’نابود‘‘ کی ’’نمود‘‘ نہیں بلکہ ’’بود‘‘ ہی کی ’’نمود‘‘ اور ’’بود‘‘ ہو رہی ہے، جو نہ تھا وہ نہیں ہوا بلکہ جو تھا وہی ہوا وار وہی ہو رہا ہے، اب غور کرنا چاہئے کہ ’’جو تھا وہی اور وہی ہو رہا ہے‘‘ عقل کے لئے اس کا ماننا آسان ہے یا ’’جو نہ تھا وہ ہوا اور ہو رہا ہے‘‘ اس دشوار اور جھوٹی حقیقت کو فطرت اپنے اندر اُتار سکتی ہے؟ اس مسخرے نے سچ تھا کہ میں بھینس سے انڈا اور انڈے سے روغنِ گل اور روغنِ گل کے ساتھ کل دوائیں بھینس کے انڈے سے کس طرح نکالوں؟ مگر مادہ پرست اسی کے ماننے پر آدمی کو مجبور کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہی عقل کی بات ہے، سوچو! کیا اس سے بڑے درجہ کی بھی کوئی سفاہت اور دیوانگی ہوسکتی ہے؟
تمام صفات کا ظہور ذاتِ واحد سے ہے!
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ قرآن مجید کی پہلی سورۃ سورۂ فاتحہ کی پہلی آیت ہے، جس میں بجائے ذات کے (جو متفقہ مسئلہ ہے) خدا کی صفات کے اثبات سے مذہب کے درس کی ابتداء کی گئی ہے، کیونکہ مذہبیت و لامذہبیت کے اختلاف کا پہلا اصولی نقطہ جیسا کہ معلوم ہوچکا یہی ہے۔ (اسی مقام سے اس راز کا انکشاف ہوسکتا ہے کہ قرآن نے اپنے درس کی ابتداء الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے کیوں کی؟ جیسا کہ میں نے عرض کیا: ذات کی حد تک تو خدا کے ماننے والوں میں کوئی اختلاف ہی نہیں ہے، دونوں ہی عالم کےاس نظام کو ایک خود بخود ہستی کا نظام ماننے والا اسی خود بخود ہستی اس نظام کو ختم کرتے ہیں، پس مانی ہوئی چیزیں منوانے کی حاجت ہی کیا تھی؟ اختلاف کا نقطہ تو صفات سے شروع ہوتا ہے، اسی لے قرآن نے اسی سے اپنی بحث کا آغاز کیا۔مرتب)
آیت کا حاصل یہ ہے کہ جس کسی کی جہاں کہیں بھی کوئی تعریف و ستائش کی جائے وہ اسی اللہ کے لئے ہے جو عالمین (یعنی تمام وہ چیزیں جو ہمارے علم کی گرفت میں آرہی ہیں) کی تربیت کرنے والا ہے، یعنی بتدریج کسی کمالِ الٰہی کا اُسے مظہر بنا رہا ہے، مثلاً ایک نطفہ میں بتدریج ان کمالات کی نمائش کرتا ہے جسے ہم انسانی کمالات کہتے ہیں، لوگ جب ابتداء میں قرآن کے اس دعوے کو سنتے ہیں تو انہیں حیرت ہوتی ہے، کیونکہ اس دنیا کا ہر ذرہ کوئی نہ کوئی کمال رکھتا ہے اور ہر ایک اپنے اپنے کمال کے مطابق سراہا جاتا ہے، تو پھر یہ کہنا کہ سارے کمالات اور ان کمالات کی ساری تعریفیں خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہیں ایک عجیب سی بات ہے، لیکن بات سمجھی نہیں گئی یہی تو قرآن پوچھنا چاہتا ہے، کہ ہستی کے ہر ذرہ میں جن کمالات اور خوبیوں کی نمائش ہورہی ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ نہ تھے اور ہوگئے ہیں؟ کیا تمہاری عقل اس بات کو سوچ سکتی ہے کہ نیسی سےہستی بنی؟ پس جب ایسا نہیں ہے تو یق ین کرو کہ جہاں کہیں، جس کسی میں، جب کوئی ایسا کمال نظر آتا ہےجس کی تعریف کی جاتی ہے تو ان سب کا مرجع اور چشمہ وہی ازلی وجود ہے جو ان کمالا سے ازلاً و ابداً موصوف تھا اور ہے، اور جو ہمارے تمام محسوسات و معموملات (عاملین) کے آئینہ میں اپنے کمالات کو مختلف طریقوں سے چمکا رہا ہے اور وہ جو کائنات کے ہر ذرّہ کی ستائش و حمد کے گیت گاتے ہیں، لیکن اپنی بدعقلی سے جو ان کا بنیادی وجود اور حقیقی سرچشمہ ہے اس کا مادّہ نام رکھ کر ہر قسم کےکمالات سے اُسے بہ بہرہ سمجھتے ہیں یا سمجھنا چاہتے ہیں، صرف یہی نہیں کہ جو نہ تھا اس کے ہونے کا دعویٰ کرکے انسان کے اندرونی احساسات کو زیر و زبر کر رہے ہیں، بلکہ اگر غور کیا جائے تو فطرت پر ان کے جاہلانہ مظالم کا سلسلہ بہت وسیع نظر آئے گا۔
مثلاً:
اونٹ کے گذرنے کے لئے صرف یہ کہہ دینا کہ سوراخ موجود تھا اس لئے گذر گیا، کیا عقل کی تسلیم کے لئے اتنا کافی ہے؟ عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ سوئی کے ناکہ میں بھی چونکہ سوراْ موجود ہے اس لئے اونٹ کو اس سے گذر جانا چاہئے؟ اس کی تسلیم سے عقل کیوں سرتابی کرتی ہے؟ ظاہر ہے کہ سبب و مسبب اور اثر و مؤثر میں کوئی تناسب نہیں ہے، پھر سوئی کے ناکے سے اونٹ کے گذرجانے پر اصرارِ عقل کے ساتھ اگر ظالمانہ چیرہ دستی ہے تو کیا یہی ظلم عقلِ انسانی پر وہ نہیں کر رہے ہیں جو ہر قسم کے کمالات سے مفلس مادّہ سے کائنات کے اس محیر العقول حیرتناک نظام کو نکالنا چاہتے ہیں؟ آسمان و زمین، ثوابت و سیارے، دریا، پہاڑ، حیوانات و انسان وغیرہ کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ یہ سب کہاں سے آئے؟ اب جو اس کے جواب میں مجبور و لاچار اور بے علم و بے جان مادّہ کا نام بغیر کسی مشاہدہ اور تجربہ کے لیتا ہے، بتاؤ اس نے اپنی عقل پر پتھر مارا یا جو اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر خدائے قادر و توانا کا نام جپتا، اس نے ہماری فہم کے فطری قوانین کے ساتھ انصاف کیا؟ قرآن اپنے مختلف صفاحات میں تناسب کے اس قانون پر غور کرنے کے لئے کہتاہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی اثر اور معلول کے لئے کسی مؤثر کسی علت کا صرف فرض کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ علت و معلوم اور اثر و مؤثر میں تناسب کا لحاظ بھی ضروری ہے، کسی مجذوب نے سچ کہا تھا کہ ’’تم انگور سے ہاتھی کب تک ٹپکاؤ گے‘‘۔
تخلیقی نظم خود وحدت پر گواہ ہے!
کیسی عجیب بات ہے کہ اس عالم میں دیکھتے ہیں کہ آنکھیں بن رہی ہیں، چند خاص پردوں کے ساتھ بن رہی ہیں، ہر پردہ خاص قوانین کے تحت بن رہا ہے، یہی آنکھیں حیوانات میں بھی بن رہی ہیں، انسانوں میں بھی بن رہی ہیں، امریکہ میں بن رہی ہیں، ایشیاء میں بھی بن رہی ہیں، ہر جگہ ہر پردہ اپنے اپنے قوانین کے تحت بن رہا ہے، الغرض جس چیز کو دیکھوگے اس میں ایک خاص قسم کی ترکیب، یکسانیت اور ہمواری نظرآئے گی، اور کیسی ترکیب، کیسی ہمواری؟ بقول بعض ’’فطرت کے قوانین کیا ہیں؟ ایک بلیغ نظم، ایک ایسا موزوں شعر کہ اگر اس کا ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے نکال دیا جائے تو سارا نظمِ شعری بگڑ جاتا ہے‘‘، یہی حال اس علم کا ہے، کسی ایک چیز کو نکال کر دیکھو اور اندازہ کرو، بہر حال پوچھا جاتا ہے کہ یہ کس کی قدرت کے کرشمے ہیں؟ اب عقل کے ساتھ کیا یہ تمسخر نہیں ہے کہ اس کے جواب میں اس کا نام لیا جائے جس کو ہر قسم کی قدرت سے مفلس فرض کیا جاتا ہے۔
أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔ (ابراہیم:۱۰)
تاؤ انسانی عقل کی تشنگی اس سے بجھتی ہے ؟یا اس جواب سے کہ کہا جائے:ذٰلک اتفاق المجبور الجاھل۔ یہ ایک لاچار اور علم و قدرت سے یکسر عاری مادّہ کے اتفاقی اثرات کا نتیجہ ہے۔
اور سچ یہ ہے کہ اس قسم کے مضحکہ انگیز حماقتوں کا صدور انہی لوگوں سے ہوسکتا ہے جنہوں نے فطرت اور اس کے نازک استوار قوانین پر کبھی غور ہی نہیں کیا یا جن کی زندگی صرف فسق و فجور، مسخرے پن اور اوباشی میں گذری ہو، ورنہ سچے سوچنے والوں نے ہمیشہ یہی کہا جسے پیغمبروں نے دیکھا، عہدِ جدید کا سب سے بڑا مفکر نیوٹن جس نے اپنے ایک معلوم کردہ قانون کے ذریعہ سے انسانی سمجھ کا رخ پھیردیا تھا، قانون جذب و کشش کی تشریح کرنے کے بعد لکھتا ہے:
’’کائنات کے اجزاء میں باوجود ہزاروں انقلاباتِ زمان و مکان کے جو ترتیب اور تناسب ہے وہ ممکن نہیں کہ بغیر کسی ایسی ذات کے پایا جاسکے جو سب سے اوّل صاحبِ علم و ارادہ و با اختیار ہو‘‘۔
’’ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے خدا کو اس وقت جانا جس وقت وہ اس کا شائد نام بھی نہیں رکھ سکتے تھے‘‘۔
خدا سے متعلق ایک اور سوال!
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اصلی بحث اسی نقطہ پر ختم ہوجاتی ہے، لیکن وسواسی انسان اسی پر بس کرنا نہیں چاہتا، وہ خدا کے متعلق کچھ اور سوالات بھی رکھتا ہے۔ دنیا کے عام مذاہب نے غالباً غیر ضروری سمجھ کر ان سوالات کو نہیں چھیڑا یا چھیڑا بھی تو اس کے مختلف پہلوؤں کو اتنا روشن نہیں کیا گیا جس کے وہ مستحق تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے مختلف زمانوں میں بجائے وحی و نبوت کے عقل و حواس ہی کی اس روشنی میں ان سوالات کو حل کرنا چاہا جو ہمیشہ ’’عالمِ غیب‘‘ میں جاکر گل ہوجاتی ہے، نظیروں اور مثالوں کی غلط رہنمائی نے مختلف غلطیوں کے خندقوں میں لوگوں کو گرادیا، مگر قرآن مجید جو غیبی حقائق کی تشریح کی آخری روشنی ہے، اس نے وضاحت کے ساتھ ان سوالات کو اُٹھایا اور وہ جوابات دئے ہیں جنہیں فطرت و عقل بے چینی کے ساتھ ڈھونڈھتی تھی، اس سلسلہ میں جو کچھ کہا جائے گا ممکن ہے کہ ڈھونڈھنے سے دوسرا مذاہب کی الہامی یاد داشتوں میں بھی اس کے تعلق
کچھ تسلی مِل سکے، لیکن جہاں تک میری جستجو کا تعلق ہے قرآن کریم کا بیان اس باب میں جتنا روشن ہے یقیناً یہ روشنی کسی دوسری جگہ میسر نہیں آسکتی۔ پہلا سوال یہی ہے، مطلب یہ کہ وجود کے سرچشمہ سے ہر لحظہ اور ہر لمحہ جو گوناگوں موجیں علویات و سفلیا، جمادات و نباتات اور حیوانات و انسان وغیرہ کی شکل میں پیدا ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی آخر ان کی پیدائش کی نوعیت کیا ہے؟ اسی سوال کی اجمالی تعبیر یہ ہے ؎ خدا نے عالم کو کس طری پیدا کیا؟ تقریباً یہ سوال ہر اس دل میں پیدا ہوتا ہے جو اس عالم کی انتہاء خدائے قدوس پر ختم کرتا ہے، بلاشبہ یہ ایک فطری سوال تھا، لیکن اسی کے ساتھ کیا یہ بھی غیر فطری راہ نہیں تھی کہ بجائے وحی و نبوت کے اس سوال کا جواب عقل و حواس سے طلب کیا جائے، انسان نے ظلم کیا کہ اپنے محدود معلومات و مشاہدات کو سامنے رکھ کر اس کا جواب دینا، اس کے بعد غلط جوابوں کا جو طلسم قائم ہوا وہ عجیب و غریب تھا، اور یہی وہ طلسم ہے جس کی تعبیر مذہبی دنیا میں ’’مسئلۂ وحدۃ الوجود‘‘ سے کی جاتی ہے۔
(تعبیروں کی غلطی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک قابلِ احترام سنجیدہ گروہ میں وحدۃ الوجود کا لفظ قریب قریب ہوّے کی شکل اختیار کرچکا ہے، ابن خلدون جیسے متبحر انصاف پسند عالم نے اپنے مشہور علمی مقدمہ میں ’’وحدۃ الوجود‘‘ کی تشریح میں جو الفاظ نقل کئے ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کائنات کی ان گوناگونیوں کو صوفیہ صرف نظر کا دھوکہ اور انسانی احساس کا ایک غیر واقعی تاثر قرار دیتے ہیں، اس نے لکھا ہے کہ دنیا سے اگر انسان اور اس کے احساسات غائب ہوجائیں تو وحدۃ الوجود والوں کے نزدیک عالم کا یہ نظام بھی باقی نہ رہے گا، لکھا ہے کہ خواب میں خواب دیکھنے والوں کے نزدیک یہی حال بیداری کا بھی ہے، اس کے الفاظ ہیں ’’یعتبروں ذٰلک بحال المنام فاذا انام و فقد الحسو و فقد کل محسوس‘‘ جب گھر والوں کی بدگمانیوں کا یہ حال ہو تو غیروں کا کیا گلہ کیجئے؟ آئندہ معلوم ہوگا کہ غلط فہمیوں کے سوا یہ اور کچھ نہیں۔ مرتب)
ربطِ خالق و خلق یا مسئلۂ وحدۃ الوجود:
وحدۃ الوجود کے ایک تو سیدھے سادے معنی ہیں کہ نظام ہستی کی بنیاد دو وجودوں مثلاً یزداں و اہرمن، یا خدا اور مادّہ پر نہیں؛ بلکہ صرف ایک خدا پر قائم ہے، سب چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں اور اسی پر ختم ہوتی ہیں، ظاہر ہے کہ وحدۃ الوجود کا اگر یہی مطلب ہے تو خدا کے ماننے والوں میں ایسا کون ہے جو اس کا انکار کرسکتا ہے؟ (بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ وحدۃ الوجود کے یہ وہ معنیٰ ہیں جس کے اقرار پر وہ بھی مجبور ہوئے ہیں جنہوں نے عالم کا سرچشمہ بجائے خدائے تعالیٰ حیّ و قیوم کے مادّہ کو ٹھہرایا ہے، آخر مادّہ پرستوں کا خیال اس کے سواء اور کیا ہے کہ عالم میں جو کچھ ہے صرف ایک ہی ہستی اور ایک ہی وجود یعنی مادّہ ہی کی یہ نیرنگیاں ہیں، بھلا اس سے بھی زیادہ کوئی بدیہی مسئلہ الٰہیات کا ہوسکتا ہے جس کے ماننے پر مادّہ پرستوں کے دل و دماغ بھی مجبور ہیں۔مرتب) لیکن واقعہ یہ نہیں ہے، لوگ جواب کا تو ذکر کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس جواب سے وہ کس سوال کو حل کرنا چاہتے ہیں، پس جیسا کہ میں نے عرض کیا مسئلہ وحدۃ الوجود اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ ’’عالم ایک وجود سے پیدا ہوا ہے یا دو سے؟‘‘ بلکہ یہ مسئلہ در اصل اسی سوال کا جواب ہے جسے میں نے عنوان میں درج کیا ہے کہ یعنی ’’خدا نے عالم کو کس طرح پیدا کیا؟‘‘ قبل اس کے کہ اس بات میں قرآنی تشریح کو پیش کروں اُن غلط تاویلوں کا پیش کرنا مناسب ہے جن کی وجہ سے عموماً اس مسئلہ کی جانب سے لوگوں میں غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے، سوال کے متعلق تو معلوم ہوچکا، وہ صرف اس قدر ہے کہ خدا نے عالم کو کس طرح پیدا کیا؟ ظاہر ہے کہ انسان اور انسان کے علمی ذرائع، عقل و حواس نہ اس وقت موجود تھے جس وقت کائنات کی بنیاد پڑی اور نہ اس وقت عالم کے اس سرچشمہ تک ان کی رسائی ہے جہاں سے نت نئی ہستیاں مختلف صفات و کمالات کو لے لے کر برآمد ہو رہی ہیں، اب جو صرف عقل و حواس کے ذریعہ اس سوال کو حل کرنا چاہے گا تو اس کے لئے بجز اس کے اور کیا چارۂ کار ہے کہ اپنی محدود معلومات کو سامنے رکھ کر کچھ مثالوں اور تشبیہات سے اس کا جواب دے اور یہی کیا بھی گیا، مختلف نظیروں کو سامنے رکھ کر مختلف لوگوں نے جوابات دئے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
بعض غلط تشریحات اور تشبیہات:
بعضوں نے کہا کہ (معاذ اللہ) خدا کی مثال ایک انڈے کی سی تھی اور جس طرح انڈا پھٹ کر مرغی بن جاتا ہے اسی طرح خدا بھی پھٹ کر عالم بن گیا، کہا جاتا ہے کہ یہ ہندوستان کے فلسفۂ ویدانت کی تعبیر ہے، وید کی ایک مشہور عبارت سے اس کی تائید پیش کی جاتی ہے، ’’یُجروید‘‘ میں لکھا ہے: ’’اس پرماتما کی نابھی (ناف) سے درمیانی عالم ’سر سے بالائی عالم‘ پاؤں سے زمین اور کانوں سے سمت بن گئے، اسی طرح وہ سب لوگوں کو پیدا کرتا ہے‘‘۔ (یجروید، اُدھیائے نمبر:۲۱)
یہ اور اسی قسم کی اور بھی تشبیہیں ہیں جو عوام الناس میں مشہور ہیں، مثلاً خدا اور عالم کی باہمی نسبت کو کبھی دریاء اور موج اور کبھی عنکبوت اور اس کے رات اور کبھی سیاہی اور حروف وغیرہ سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے بظاہر یہ خیال گذرتا ہے کہ ان تشبیہات والے فلسفۂ ویدانت کی اتباع میں گویا اس کے قائل ہوگئے ہیں کہ خدا یا اس کا کوئی حصہ عالم بن گیا ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ مکڑی جس طرح باہر سے نہیں بلکہ اندر سے رطوبت خارج کرتی ہے اور اسی سے اپنے ارد گرد جالا تنتی ہے، یونہی (معاذ اللہ) خدا نے بھی اپنے اندر سے بعض اجزاء خارج کئے ہیں، انہی سے عالم بنایا ہے، سیاہی اور حروف والے کہتے ہیں کہ مختلف حروف مثلاً الف، ب، ت ہے، اگر یہ اپنی اپنی صورتوں اور خصوصیتوں کے لحاظ سے باہم مختلف ہیں، لیکن سیاہی سب ہی میں مشترک ہے، یونہی جمادات و نباتات، حیوانات و انسان ویرہ گو اپنی اپنی صورتوں اور خصوصیتوں کے لحاظ سے مختلف ہیں، لیکن خدا یا وجود ان سب میں مشترک ہے، بعض یوں بھی کہتے ہیں کہ اعداد کے مراتب اگرچہ مختلف ہیں لیکن اکائی سب میں مشترک ہے، یہی حال خدا کا ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ ساری باتیں خدا اور عالم کے صحیح تعلق کو واضح نہیں کریں، مگر مکڑی والی تشبیہ میں لازم آتا ہے کہ خدا کو مختلف اجزائے مرکب سے مانا جائے، دریا اور موجو والی مثال بھی اسی لئے سمجھ میں نہیں آتی کہ دریا طول و عرض اور عمق رکھتا ہے، اسی لئے تقسیم کو قبول کرتا ہے اور اسی لئے اس کے جزو میں ایک موج بنتی ہے وہ اس جزو سے مختلف ہوتا ہے جس پر دوسری موج کی ہیئت قائم ہوتی ہے، علیٰ ھٰذا القیاس سیاہی کو حروف میں مشترک قرار دینا بھی مغالطہ ہے، سیاہی کے مختلف اجزاء اور قطرات سے مختلف حروف بنتے ہیں، اسی لئے جس قطرہ سے مثلاً الف بنتا ہے وہ اس قطرہ سے مختلف ہوتا ہے جس سے ب اور ت وغیرہ حروف لکھے جاتے ہیں، یونہی اعداد اکائیوں کے مجموعہ کا نام ضرور ہے لیکن دو میں اگر دو اکائی ہوتی ہیں تو تین میں تین، پھر کیا عالم میں بھی ہر ہستی کے ساتھ خدا کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے؟ در اصل یہ ناقص تشبیہات ہیں جن سے لوگ مغالطہ میں مبتلا ہوگئے۔مرتب) حالانکہ عیاذًا باللہ اگر ایسا واقعہ ہے تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ خدائے کامل و قادر حیّ و قیّوم آخر کیا ہوا کہ وہ خود بیٹھے بٹھائے بغیر کسی مجبوری کے ناقص مجبور اور معذور بن گیا، دُکھ، درد، گندگی و ناپاکی اور ہر قسم کے عیوب میں لتھڑ گیا، جو کامل تھا ناقص ہوگیا، جو زندہ تھا مردہ بن گیا، پاک تھا ناپاک ہوگیا؟ کیونکہ عالم اور اس کے اجزاء کا تقریباً یہی حال ہے۔
معاذ اللہ خدا غائب!
بلکہ اگر زیادہ غور کیا جائے تو گویا اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ جب تک عالم نہ تھا اس وقت تک تو خدا موجود تھا؛ لیکن جب عالم پیدا ہوگیا تو خدا عائب ہوگیا، آخر مرغی یا درخت کے پیدا ہونے کے بعد کیا انڈا یا تخم باقی رہتا ہے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ جس مذہب کا خدا ہی معدوم ہوگیا وہ مذہب مذہب اور دھرم کہلانے کا مستحق کس طرح ہوسکتا ہے؟ نہ معلوم ایسے مذاہب میں کسی کی پوجا کی جاتی ہے اور کس کے احکام و قوانین کی پابندی کو فرض ٹھہرایا جاتا ہے۔
خدا کے ایک امر انتزاعی یعنی صرف مخلوق ذہنی ہونے کا نظریہ:
اسی سلسلہ میں بعض کا بیان ہے کہ خدا ایک وجودِ کلی ہے اور عالم اس کی جزئیات اور تفصیلات کا نام ہے، اس کو یوں سمجھا جاتا ہے مثلاً انسان ایک کلّی یا حقیقت مطلقہ ہے، جس طرح اس کا تحقیق یعنی پایا جانا زید و عمر وغیرہ کی شکل میں ہوتا ہے، اسی طرح خدا بھی عالم کے مختلف افراد کی شکل میں رونما ہوتا ہے،لیکن اگر غور کیا جائے تو اس تشبیہ کے لحاظ سے خدا کوئی واقعی ہستی باقی نہیں رہتا بلکہ جس طرح مختلف افراد مثلاً زید و عمر کے اشتراکی اوصاف کو پیش نظر رکھ کر ایک مفہوم مشترک ان سب سے پیدا کرلیا جاتا ہے، جس کا وجود بجز ذہن کے اور کہیں نہیں ہوتا، گویا خدا بھی اسی طرح ہمارے دہن کا ایک خود تراشیدہ مفہوم ہے، ظاہر ہے کہ اس بنیاد پر خالق نہیں بلکہ ہمارے ذہن کی ایک خود تراشیدہ مخلوق بن جاتا ہے۔
معمار و کمہار وغیرہ کی تمثیل یا آریائی نظریہ اور اس کی لغویت:
اس سوال کے حل کی ایک راہ وہ ہے جو گذشتہ مثالوں میں دکھائی گئی، اس کے مقابلہ میں ایک دوسری جماعت ہے جو اسی مسئلہ کا جواب اس مثال سے دینا چاہتی ہے کہ جس طرح صانع مصنوعات بناتا ہے، مثلاً معمار مکان یا کمہار برتن بناتا ہے، گویا اسی طرح خدا نے عالم کو بنایا ہے، عوام کے ذہن میں عالم اور خدا کی باہمی نسبت کے متعلق کچھ اسی قسم کا خیال ہے، اس پر کھلا ہوا سوال ہوتا ہے کہ صانع مصنوع کو بغیر مادّہ کے پیدا نہیں کرسکتا، کمہار بغیر مٹی کے اور نجّار بغیر لکڑی کے کیا اپنی صنعتی قوت کا اظہار کرسکتا ہے؟ اور جب خدا اسی طرح کا صانع ہے تو اس نے بغیر مادّہ کے کسی طرح عالم کو بنایا؟ ہندو فلاسفروں کی ایک جماعت نے اسی بنیاد پر یہ مان لیا کہ ابتداء میں صرف خدا نہ تھا بلکہ خدا کی طرح مادّہ بھی خود بخود موجود تھا، اسی مادّہ سے خدا نے عالم کو پیدا کیا، آریہ کے نام سے اس زمانہ میں ہندوؤں میں جو ایک نیا فرقہ پیدا ہوا ہے اس نے قدیم ہندی فلسفہ کے اسی مکتب خیال کو اپنا مذہبی عقیدہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہ خیال اتنا مہمل ہے کہ فلسفہ اور مذہب کی کسی جماعت میں بھی اس خیال نے اعتماد پیدا نہیں کیا، فلسفہ والے تو یہ کہتے ہیں کہ جب ابتداء میں مادّہ کو مان لیا گیا تو اب عالم کی پیدائش کے لئے خدا کا وجود فالتو ہوجاتا، اسی لئے یورپ کے مادّیّین صرف اس کے قائل ہوگئے اور مذاہب چونکہ توحید کے حامی ہیں سا لئےان کے لئے مشکل ہے کہ مادّہ کو خدا کی مخلوقیت سے نکالیں، کیونکہ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب مادّہ ہی خدا کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے تو مادہ کی مختلف صورتیں جس کا نام عالم ہے اس کو خدائی مخلوق کہنے کے کیا معنیٰ ہوسکتے ہیں؟ پھر قطع نظر اس کے اگر عالم اور خدا میں نسبت مان لی جائے جو صانع اور مصنوع میں ہے تو ایک مشاہدہ ہے کہ صانع یعنی معمار کے مرجانے بعد مصنوع یعنی مکان معدوم نہیں ہوتا، یعنی مصنوعات کے موجود اور پیدا ہوجانے کے بعد صانع کا وجود بے ضرورتہوجاتا ہے، پس اس نظریہ کی بنیاد پر کہ عالم کو خدا نے اس طرح پیدا کیا جیسے معمار مکان بناتا ہے، یہ لازم آتا ہے کہ پیدائش عالم کے لئے ممکن ہے کہ ابتداء میں دنیا کو خدا کی ضرورت ہو لیکن اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، حالانکہ تمام مذاہب عالم کو بہر نوع خدا کا محتاج ہر حال اور زمانہ میں قرار دیتے ہیں۔
جوابی تمثیلات سے گمراہی آئی!
وہی سوال کہ خدا نے عالم کو کس طرح پیدا کیا؟ اس کے وہ جوابات تو تم سن چکے جو غیر اسلامی دائروں سے دئے گئے، اب آؤ اور دیکھو کہ قرآن اس کا کیا جواب دیتا ہے؟ قبل اس کے کہ قرآنی تصریحات کو پیش کروں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کے اندر پیچیدگی کیوں پیدا ہوگئی؟ بات یہ ہے کہ انسان میں جہاں اور بہت سی فطری خصوصیات ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ بغیر نظیر اور مثال کے کسی چیز کے ماننے میں اُسے سخت دشواری پیش آتی ہے، یوں ماننے کے لئے کہا جائے تو جبراً قہراً آدمی سب ہی کچھ مان سکتا ہے اور مان لیتا ہے، لیکن اطمینان و تشفّی کے لئے وہ نمونہ اور مثال و نظیر کا بالکلی محتاج ہے، اسی مسئلہ میں دیکھئے، واقعہ تو یہی ہے کہ مسلمان ہو یا ہندو، عیسائی ہو یا یہودی الغرض کسی مذہب کا آدمی ہو نہ تو کوئی پیدائشِ عالم کے بعد خدا کو معدوم سمجھتا ہے اور نہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ گندگیوں، نجاستوں اور عیوب و نقائص میں مبتلا ہوگیا ہے، حتی کہ آریوں کے سواء کوئی سچا ہندو بھی یہ نہیں مانتا ہے کہ مادۂ عالم کا خالق خدا نہیں ہے؛ بلکہ سب کے سب کائنات کی تمام کثرتوں کو ایک ہستئ واحد پر ختم کرتے ہیں، دنیا کے تمام مذاہب کا اس پر اتفاق ہے، لیکن اس کے باوجود جب آفرینش عالم کی کیفیت کے متعلق سوال اُٹھا تو انہوں نے غلط مثالوں اور نظیروں کے ذریعہ اس کو حال کرنا چاہا، جن سے ان پر ایسے الزامات قائم ہوگئے جن کے خود وہ قائم نہیں ہیں، ابھی ’’یجروید‘‘ کی عبارت گذری جس میں بظاہر خدا کو تخم فرض کرکے عالم کے درخت کو اس سے اُگایا گیا ہے، اس کے بعد لازم آتا تھا کہ پیدائشِ عالم کے بعد خدا غائب ہوگیا، لیکن یجروید کے اسی فقرہ کے آخر میں ’’اسی طرح وہ سب کو پیدا کرتا رہتا ہے‘‘ کا اضافہ کرکے ظاہر کردیا گیا کہ خدا عالم کو پیدا کرنے کے بعد بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح اس سے پہلے تھا۔
قرآن مجید کا خاص طریقۂ تفہیم:
لیکن قرآن نے اس قسم کے مسائل میں رہنمائی بخشنے کے لئے ایک کلیّہ ہمارے لئے پیش کردیا ہے، مشہور صوفی شاعر مغربیؔ نے اس کی طرف اپنے اس شعر میں اشارہ کیا ہے: ؎
چو نیست چشمِ دولت تا جمالاو بینی
نگرِ خوبصورت خود تا مثال او بینی
ان کا اشارہ قرآن کی اس حقیقت کی طرف ہے کہ ’’خدا نے انسان کو اپنا خلیفہ اور نمائندہ قرار دیا ہے‘‘، میرے نزدیک حدیث شریف میں اسی کی یہ تفسیر کی گئی ہے کہ خلق اللہ آدم علی صورتہ۔ (پیدا کیا اللہ نے آدمؑ کو اپنی صورت پر‘‘ واضح رہے کہ یہاں صورت سے مراد وہی ہے جو میں نے متن میں عرض کیا ہے کہ انسان اس عالم میں خدا کے افعال و صفات کا ایک نمونہ ہے نہ کہ معاذ اللہ جسمانی اور مادّی صورت کہ وہ اس سے وراء الوراء ہے، نیز حدیثوں کے سواء یہ فقرہ بائبل میں بھی پایا جاتا ہے۔ مرتب)
مطلب یہ ہے کہ خدا کے افعال و صفات کی مثال اگر مل سکتی ہے تو باہر نہیں بلکہ آدمی کے اندر کچ مل سکتی ہے، مرزا بیدلؔ نے سچ کہا ہے: ؎
ستم است اگر ہوست کشد کہ بہ سیرِ سرو و سمن در آ
تو زغنچہ کم ندمیدۂ در دلکشا بچمن در آ
خارجی مثالوں کے بجائے اپنے ذہنی تخلیقی کرشمہ میں غور و فکر کرو!
یہ اہم سوال کہ خدا نے عالم کو کس طری پیدا کیا؟ اس کے جواب کے لئے بھی بجائے بیرونی مثالوں اور خارجی نظیروں کے یہ مناسب ہوگا کہ ہم اپنے ’’تخلیقی افعال و اعمال‘‘ پر غور کریں، عام مسلمانوں نے ایک حد تک یہی کیا بھی ہے، لیکن انہوں نے خلق (پیدا کرنا) اور صنعت (بنانا) میں فرق نہیں کیا، خدا کس طرح خلق کرتا یا پیدا کرتا ہے؟ اس سوال کو انہوں نے اس مثال سے حل کرنا چاہا کہ انسان کس طرح بناتا ہے؟ اور گو خود اس کے قائل نہیں ہیں کہ عالم اور خدا میں وہ نسبت ہے جومعمار اور مکان میں ہے، (ہر مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے اور اس کو رکھنا چاہئے کہ جس طرح عالم اپنی پیدائش میں خدا کا محتاج ہے، اسی طرح اپنی بقاء میں بھی ہر وقت ہر لحظہ وہ خدا کا دست نگر ہے) لیکن انہوں نے مثال دی ہے اس سے لازم آجاتا ہے کہ عالم صرف اپنے بننے میں خدا کا محتاج ہو، بننے کے بعد اب اُسے خدا کی اسی طرح ضرورت نہ رہی جس طرح مکان کو معمار کی نہیں رہتی ہے۔
پس اصل یہ ہے کہ اگر کوئی اس سوال کو حل کرنا چاہتا ہے تو اس پر غور کرنا چاہئے کہ انسان اپنی ’’مخلوقات‘‘ کو کس طرح پیدا کرتا ہے؟ شائد لوگوں کو تعجب ہو کہ کیا انسان بھی کوئی چیز پیدا کرتا ہے یا کرسکتا ہے؟ آپ کو یاد ہوگا ان دروس کے ابتداء میں میں نے ہی آپ کو بتایا تھا کہ انسان صرف جان سکتا ہے، کسی چیز کے پیدا کرنے کی اس میں صلاحیت نہیں ہے، مگر سچ یہ ہے کہ انسان کے تمام اندرونی اور بیرونی افعال پر ابھی غور نہیں کیا گیا، یہ درست ہے کہ باہر کی چیزوں کے حساب سے انسان اُن پر صرف صنعتی عمل ہی کرسکتا ہے، قوانین فطرت کو جان کر ان کی صلاحیتوں کو کھول سکتا ہے، مثلاً وہ پتھر پیدا تو نہیں کرسکتا لیکن پتھر میں مورت یا صورت بننے کی وجہ صلاحیت ہے اُسے پتھر اور لوہے کے قوانین جاننے کے بعد ظاہر کرسکتا ہے۔
یہ تو باہر کا حال ہے (اور اسی لحاظ سے میں نے پہلے وہ بات کہی تھی) مگر اب اس کے اندرونی افعال پر غور کرو، انسان جب عالم خیال میں عمل کرتا ہے اس وقت سوچو کہ وہ کیا کرتا ہے؟ دیکھو! نہ اینٹ ہوتی ہے نہ چونا نہ پتھر ہوتے ہیں اور نہ اور کچھ لیکن آدمی چاہتا ہے کہ مثلاً چار مینار (یہ حیدرآباد کی ایک مشہور تاریخی عمارت کا نام ہے، اس کی تاریخیت ہی کا یہ اثر ہے کہ سلطنتِ آصفیہ کے طلائی و نقروی سکّوں پر اسی عمارت کی تصویر طبع ہوتی ہے، طلبۂ جامعہ عثمانیہ قدرۃً اس عمارت سے مانوس ہیں، اسی لئے درس میں تفہیم کے لئے اسی عمارت کا انتخاب کیا گیا، عام ناظرین بجائے چارمینار کے کسی اور عمارت یا چیز کو فرض کرسکتے ہیں، لا مشاحۃ فی الامثال) کو (ذہن کی دنیا میں) پیدا کروں، ارادہ کرتا ہے اور چارمینار کو اپنے سامنے کھڑا پاتا ہے اور اسی طرح اپنے علم میں بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی ہر قسم کی چیزوں کو وہ پیدا کرتا ہے۔
احمقوں کا ایک گروہ ہے جو خیال کرتا ہے کہ دیکھنے کے بعد مثلاً چار کا عکس ہمارے دماغ میں چَھپ جاتا ہے اور جب ہم التفات کرتے ہیں تو وہی عکس ہمارے سامنے آجاتا ہے، لیکن کاش وہ سوچتا کہ اگر چارمینار کا عکس ہمارے دماغ میں اُترتا ہے تو انسانی بھیجے کی تشریح و تحلیل سے یہ عکس اس سے کیوں برآمد نہیں ہوتا؟ اگر واقعی دماغ میں تصویروں کے چھپنے کا سلسلہ جاری ہے تو ایک کھوپڑی کے توڑنے کے بعد یہ چاہئے کہ تصویروں کا ایک انبار ہمارے دماغوں سے اُبل پڑے، حالانکہ یہ مشاہدہ کے خلاف ہے اور یہی نہیں، انطباع کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ ایک پلیٹ یا ایک چیز پر جب کسی چیز کی تصویر چَھپ چکتی ہے تو پھر اسی پلیٹ پر اگر دوسری تصویر چھپے گی تو دونوں تصویروں کے باہمی اختلاط سے دونوں ہی کی اصل حقیقت بگڑ جائےگی، حالانکہ عالمِ خیال (یا علمی عالم) میں ہر ایک چیز دوسری سے ممتاز اور اپنی اصلی حالت میں محسوس کی جاتی ہے، یہ عجیب لوگ ہیں، اتنا بھی خیال نہیں کرتے کہ ہم قوتِ تخیل سے جب چارمینار کو اپنے ذہن میں پیدا کرلیتے ہیں، تو وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے سینکروں گز لمبی چوڑی عمارت ہوتی ہے، پھر کیا چند انچ کے دماغ میں اتنی لمبی چوڑی وسعی و کشادہ عمارت سما سکتی ہے۔
پس واقعہ یہ ہے کہ چیزوں کے چھپنے اور انطباع کا قانون قطعاً ایک بازاری اور عامیانہ خیال ہے، بلکہ صحیح بات وہی ہے جیسا کہ فلاسفۂ اسلام اور صوفیہ کا نظریہ ہے کہ انسان کو جب کسی چیز کا علم حواس کے ذریعہ سے ہوتا ہے تو اس علمی اثر کے بعد انسان میں اس کی قدرت پیدا ہوجاتی ہے کہ اپنی معلوم کی ہوئی شئے کو اپنی خیالی قوت سے پیدا کرے اور یہی انسان کا ’’تخلیقی عمل‘‘ ہے، تفہیم کے لئے ہم اپنی اصطلاح میں اس تخلیقی قوت کا نام ’’کُن فیکونی قوت‘‘ رکھتے ہیں، ولامشاحۃ فی الاصطلاح۔
(شیخ اکبر اپنی کتاب فصوص الحکم میں فرماتے ہیں ’’بالوھم یخلق کل انسان فی قوۃ خیالہ ما لا وجود لہ الا فیھا و ھذا ھو الامر المغام‘‘ فتوحات مکینہ اسفار اربعہ میں وغیرہ میں اس مسئلہ کی تفصیلات پڑھئے۔)
قرآن کا بیان ہے کہ اس کن فیکونی قوت سے خدا بھی اپنی مخلوقات کو پیدا کرتا ہے، ارشاد ہے:
اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے خیالی اور علمی یا ’’کن فیکونی مخلوقات‘‘ سے جس قسم کے تعلقات انسان کے ہوتے ہیں، قرآنِ پاک نے ان روابط کو خدا اور عالم کے درمیان ثابت کیا ہے، میں ان تعلقات اور نسبتوں میں سے بعض کو یہاں درج کرتا ہے۔(۱) پہلا تعلق قرآن کا دعویٰ ہے کہ حق تعالیٰ نے عالم کو بغیر مادّہ کے پیدا کیا ہے، جیسا کہ بدیع السمٰوات و الارض کے قرآنی الفاظ کا اقتضاء یہ ہے، اسی کی تفسیر حدیث میں ہے کہ کان اللہ و لم یکن معہ شئی جس کی معنیٰ یہی ہیں کہ آسمان و زمین کچھ نہ تھے اور پھر پیدا ہوگئے۔
حاصل یہ ہے کہ ابتداء میں خدا کے سواء کچھ نہ تھا، یعنی مادہ وغیرہ کچھ نہیں تھا اور پھر خدا نے قوۃ کن سے اس عالم کو پیدا کیا، ٹھیک جس طرح ہمارے خیال (یا علم) میں کچھ نہیں ہوتا ہے، پھر محض اپنے ارادۂ کن سے اپنی معلومات کو ہم وجود عطا کرتے ہیں، پس اگر خدا نے بھی ایسا ہی کیا تو اس کے سواء اور کیا کہا جاسکتا ہے؟
(۲) اسی طرح قرآن کا بیان ہے:
ہم بھی جب اپنے خیالی اور علمی مخلوق مثلاً اسی چارمینار کو جسے خیال میں پیدا کرتے ہیں اگر برباد کرنا چاہیں تو اس کے لئے لمح بصر (پلک چھپکانے) سے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں، صرف توجہ کا ہٹالینا کافی ہے، توجہ ہٹالینے کے ساتھ ہی ہمارے خیالی مخلوقات معدوم ہوجاتے ہیں اور بغیر کسی مادّہ چھوڑنے کے بعد معدوم ہوجاتے ہیں۔(۳) ہماری خیالی اور علمی مخلوق مثلاً چارمینار جس طرح پیدا ہونے میں ہمارے ارادہ اور توجہ کی محتاج ہے، ٹھیک اسی طرح ہر لحظہ اور ہر لمحہ اپنے قیام و بقاء میں بھی ہماری توجہ اور التفات کی دست نگر ہے، یہی قرآن کا بھی بیان ہے کہ خدائے تعالیٰ عالم کا صرف خالق ہی نہیں ہے بلکہ قیّوم بھی ہے، یعنی وہی اُسے تھامے ہوئے ہے (یعنی عالم اسی سے قائم ہے)۔ اگر ادنیٰ التفات اس کی طرف سے ہٹالے تو نظامِ عالم درہم برہم ہوجائے گا، جیسا کہ ارشاد ہے:
قیّوم ہے، (یعنی عالم کو تھامے ہوئے ہے، ایسا خالق نہیں ہے کہ معمار مکان کا یا صانع مصنوع کا، بلکہ وہ خالقِ قیوم ہے) اُسے نہ غنودگی پکڑتی ہے اور نہ نیند چھوتی ہے، (کیونکہ اگر ایسا ہو تو نظامِ عالم قائم نہیں رہ سکتا)۔ خیال میں کسی مخلوق کو پیدا کرکے اگر کوئی انگھ جائے یا سوجائے تو اس کی یہ پیدا کی ہوئی مخلوق کیا باقی رہ سکتی ہے؟(۴) اب اس پر غور کیجئے کہ مثلاً زید اپنی ’’کن فیکونی قوت‘‘ سے عالمِ خیال میں جس وقت چارمینار پیدا کرتا ہے کیا زید چارمینار ہوجاتا ہے، چارمینار زید بن جاتا ہے؟ ہم بالبداہۃ جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے، (آخر خود غور رکنا چاہئے کہ اپنے ذہن میں جو کوئی مثلاً گدھے کا تصور کرتا ہے کیا اس وقت وہ گدھا بن جاتا ہے یا گدھا وہ ہوجاتا ہے، کھلی ہوئی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوتا، پس خالق قیوم کے متعلق بھی یہ باور کرنا کہ قیومی نسبت کی وجہ سے وہی عالم ہے اور عالم وہی ہے اپنی ہی حماقت ہے، تعالیٰ اللہ عن ذٰلک علواً کبیراً۔) لیکن اسی کے ساتھ اس کو چوئے کہ اس خیالی اور علمی چارمینار کا وجود زید کے وجود اور ارادہ سے کیا جدا ہے؟ اس کے ہونے کے معنیٰ بجز اس کے اور کیا ہیں کہ اس کا ارادہ اور اس کی توجہ اس کی طرف ہے، یہ نہ ہو تو چارمینار کی نہ دیواریں ہوں، نہ محراب اور نہ مینار ….. تو اسی طرح سمجھئے کہ نہ عالم خدا بن گیا ہے نہ خدا عالم بن گیا ہے، لیکن عالم کا وجود بجز اللہ کے وجود و ارادہ کے کچھ نہیں ہے۔
(۵) اس پر بھی غور کیجئے کہ آپ جس وقت اپنی خیالی مخلوق کو ذہن میں پیدا کرتے ہیں، کیا اپنے آپ کو اس خیالی مخلوق کے کسی فوقانی، تحتانی اور ظاہری و باطنی حصہ سے غائب پاتے ہیں؟ غور کیجئے کہ آپ جس طرح اپنے کو اس کی دیواروں کی جڑ کے پاس پاتے ہیں، اسی طرح اس کے میناروں پر بھی یقیناً پائیں گےآپ کو جو نسبت اس کے ظاہر سے ہے اس کے باطن سے بھی وہی نسبت آپ کو ہوگی، قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ خالقِ قیوم، عالم کے اوّل میں بھی ہے اور آخر میں بھی، ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی، ارشاد ہے:
(۶) اب دیکھئے چارمینار ایک طویل و عریض عمارت ہے، آپ اپنے ذہن میں جس وقت اُسے پیدا کرتے ہیں اس کے طول و عرض کے ساتھ پیدا کرتے ہیں، اس لمبائی اور چوڑائی کے باوجود آپ اپنے کو کیا اس کے ذرّہ ذرّہ پر محیط نہیں پاتے، لیکن کیا اگر اس ذہنی چارمینار کو آپ دو حصّوں میں تقسیم کردیں گے تو اس کی تقسیم کی وجہ سے آپ کے بھی دو حصّے ہوجاتے ہیں؟ قرآن بھی یہی کہتا ہے:
(۷) اسی طرح آپ اپنی ذہنی و علمی چارمینار کے کسی مینار کو توڑ دیجئے یا اس کے کسی حصہ میں کوئی گندگی اور نجاست وغیرہ مثلاً فرض کیجئے، پھر کیا اس شکست و ریخت اور اس گندگی و نجاست کا اثر آپ پر بھی مرتب ہوتا ہے؟ یقیناً نہیں!پھر اگر قرآن خدا کو عالم کی ہر چیز کے ساتھ ہر جگہ مانتا ہے، لیکن باوجود اس کے عالم کے کسی تغیّر، کسی عیب و نقص کا اثر خدا کی ذات پر نہیں پڑتا تو کیا ’’کُن فیکونی‘‘ مخلوقات کے ساتھ خالق کے تعلقات کی یہی نوعیت نہیں ہوتی؟
(۸) آپ جس وقت اپنے ذہن میں کسی پہاڑ یا کسی شہر کو پیدا کرتے ہیں، کیا اُس ذہنی خیالی یا علمی مخلوق میں کسی دوسرے کے ارادہ سے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہل سکتی ہے، غور کیجئے اس کا ہر ذرّہ آپ ہی کی مرضی اور آپ ہی کے ارادہ کا پابند ہے، دوسرے کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔
یعنی اس عالم کے کسی حصہ میں کوئی واقعہ بھی ہو بغیر ارادہ و اِذنِ حق کے نہیں ہوسکتا اور کسی دوسرے کا تصور یا ارادہ یا فعل اس میں قطعاً مؤثر نہیں ہوسکتا، تو کیا عقل اس کے سواء کچھ اور بھی سوچ سکتی ہے؟(۹) آپ جب خیالی چارمینار کو پیدا کرتے ہیں تو جہاں آپ ہوتے ہیں کیا چارمینار بھی وہیں نہیں ہوتا، جب ایسا ہے تو خدا نے جب عالم کو پیدا کیا اور خدا کا اس کا خالق اور وہ اس کا مخلوق ہے تو اُس کے بعد یہ سوال کتنا بے معنیٰ ہوجاتا ہے کہ عالم کہاں ہے اور خدا کہاں ہے؟
یہ سچ ہے کہ ایک ہی نوعیت یا ایک ہی ظرف کے دو وجود یعنی دو مخلوق یا اگر دو خالق فرض کئے جاسکتے ہوں تو ایسے دو ہم ظرف و ہم مثل وجودوں کی ایک ہی فضاء یا ایک ہی مکان میں گنجائش ناقابلِ تصوّر ہے، لیکن دو ہستیوں میں ایک خالق اور دوسری مخلوق ہو تو ایسی حالت میں مخلوق کے پائے جانے کے لئے خالق کا علم و ارادہ اور اس کی توجہ ہی کافی ہوتی ہے، جب قرآن میں فرمایا گیا کہ: وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تو لوگوں کو تعجب ہوا کہ جہاں ہم ہوتے ہیں وہیں خدا کسی طرح ہوسکتا ہے؟ لیکن لوگ اپنے مخلوقات کے متعلق نہیں سوچتے کہ جہاں وہ ہوتے ہیں وہاں ان کے مخلوقات اُن سے باہر ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ اگر آدمی اپنے ذہنی مخلوقات کے متعلق غور کرے تو کیا اپنے آپ کو ان کے نیچے یا اوپر کسی اور سمت میں پاتا ہے؟ یقینا خالق و مخلوق میں کوئی ایسی سمتی نسبت نہیں پیدا ہوتی پھر کیا ہوا اگر قرآن میں اعلان کیا گیا کہ: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ۔ یعنی ’’جدھر تم رخ کروگے وہیں خدا ہے‘‘ سوچنا چاہئے کہ آخر اس کے سواء اور کیا کہا جاتا؟ (عموماً موجودات کی تقسیم یوں کی جاتی ہے کہ ان کا وجود انسانی ارادہ اور خیال کا اگر تابع ہے، مثلاً ذہنی اور خیالی مخلوقات کا جو حال ہے انہی کا نام موجودات ذہنیہ رکھا جاتا ہے، سمجھا جاتا ہے کہ ان کے وجود کا ظرف انسان کا ذہن ہے لیکن انسانی ارادہ اور خیال تابع اگر ان کا وجود نہ ہو، بلکہ حق تعالیٰ کے تخلیقی ارادہ اور ایجادی قیّومیت کے ساتھ ان کا وجود وابستہ ہو تو انہی کو خارجی موجودات کے نام سے موسوم کرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کے تحقق اور یافت کا مقام و ظرف خارجی ہے، یعنی انسانی ذہن و خیال سے ان کا وجود خارج ہے، ان ذہنی اور خارجی موجودات کے سواء ایک وجود حق تعالیٰ کا ہے جو ظاہر ہے کہ خود بخود ہے اور حق تعالیٰ کے تخلیقی ارادہ کا تابع نہیں ہے، لیکن عام اربابِ فکر اس تیسری قسم سے غافل ہوکر وجود کو صرف دو ہی قسموں خارجی و ذہنی میں منحصر سمجھتے ہیں، اسی لئے خالق اور مخلوق کے وجود میں نوعیت اور ظرف و مقام کے لحاظ سے ان کو کوئی فرق نظر نہیں آتا، گویا دو مخلوق وجودوں میں جو تعلق ہوتا ہے سمجھتے ہیں کہ یہی تعلق خالق و مخلوق کے وجود میں بھی ہے، یہی بے تمیزی لغزش اور مغالطہ کا مقام ہے۔مرتب)
الحاصل:
خدا نے عالم کو کس طرح پیدا کیا؟ وہ عالم کو کس طرح محیط ہے؟ وہ ہر چیز کے ساتھ کس طرح ہے؟ عالم کے ہر ذرّہ کی حرکت و سکون حق کے ارادہ کے ساتھ کس طرح وابستہ ہے؟ وہ اپنی مخلوقات کے ظاہر و باطن میں کس طرح پایا جاتا ہے؟ ان سارے سوالات کا حل بجائے باہر کے اگر آدمی سوچے تو خود اپنی اندر پاسکتا ہے، اور یہ مطلب ہے اس فقرہ کا کہ ’’عالم کا وجود بجز وجودِ حق کے اور کچھ نہیں‘‘، صحیح حدیث میں الا کل شیئ ماخلا اللہ باطل (ہاں! ہر چیز اللہ کے سواء ہیچ ہے) کے مصرعہ کی توثیق فرمائی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود نہ خدا عالم بنا ہے اور نہ عالم خدا بن گیا ہے، اور آپ نے دیکھا کہ خالق و مخلوق کی باہمی نسبتوں پر غور کرنے کے بعد فطرتِ انسانی اس اسلامی اور قرآنی بیان کے سواء کسی اور راہ سے کیا تسلّی پاسکتی ہے؟ اسی مسئلہ کو ’’مسئلۂ قومیت‘‘ کہتے ہیں، عارف جب اثر و مؤثر اور خالق و مخلوق میں ان نسبتوں کا مشاہدہ کرتا ہے تو چیخ اٹھتا ہے: ؎
ندیم و مطرب و ساقی ہمہ اوست
خیالِ آب و گل در رہ بہانہ (العارف الشیرازی)
یعنی آب و گل خدا کا خیالی یا تخلیقی عمل ہے، مغربی نے اور واضح لفظوں میں تشریح کی ہے، ان کی اسی غزل کا ایک شعر یہ بھی ہے جس کے مطلع کا ذکر پہلے آچکا ہے، فرماتے ہیں: ؎
خیال بازئ او بیں کہ پردۂ او خیال
فگندہ بر رُخ خود تا خیال او بینی
ربوبیت:
ایسا خالق قیوم اگر اپنی مخلوقات کو دفعۃً نہیں بلکہ آہستہ آہستہ پیدا کرتا ہو، مثلاً دفعۃً درخت کو نہ پیدا کرے بلکہ تجریدی طور پر مثلاً تخم سے درخت بنائے اور درختوں میں پھل لگائے تو اب وہ علاوہ قیوم کے رب بھی ہے، ایسی صورت میں مخلوقات صرف باقی رہنے ہی میں خالق کی محتاج نہیں رہتی ہیں؛ بلکہ اپنے کمال تک پہنچنے میں بھی ہر آن و ہر لحظہ مسلسل ارادۂ کن اور فیض تخلیقی کی انہیں ضرورت ہوتی ہے اور اسی تدریجی تخلیق کی وجہ سے اُس شئے کا تخیل یا توہم ہوتا ہے، جسے ہم ’’زمانہ‘‘ کہتے ہیں جس کے متعلق فلسفیوں کو اب تک نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ کیا ہے اور کس حاسّہ کے معلومات سے اس کا تعلق ہے؟ مسئلۂ ربوبیت پر غور کرنے کے اس کا سمجھنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔ (زبان کا مسئلہ فلسفہ کے مہمات شمار کیا جاتا ہے، قدیم و جدید دونوں فلسفوں میں زمانہ اور ٹائم کا مسئلہ (جذرِ اصم) بنا ہوا ہے، ارسطو کا مشہور قول ہے کہ زمانہ کا شمار ان چیزوں میں ہے جو بدیہی الانیۃ اور غریق فی النظریۃ ہیں، سب ہی جمعہ جمعرات، دن رات، صبح شام اور ماہ و سال کو جانتے ہیں لیکن جس چیز کی تعبیر ان الفاظ سے کی جاتی ہے، اس کا علم آدمی کو کس حاسّہ سے ہو رہا ہے؟ عجب سوال ہے، ظاہر ہے کہ جمعہ کو نہ آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے نہ کانوں سے سنا جاتا ہے، نہ ناک سے سونگھا جاتا ہے اور نہ ہاتھ سے چُھوا جاتا ہے، مگر باوجود اس کے سب جانتے ہیں کہ جمعہ کو ہم جان رہے ہیں۔)
راست قیّومی تخلیق معجزہ اور بواسطۂ ربوبیت کو ’’قانونِ فطرت‘‘ کہتے ہیں:
اور یہی قیّومی تخلیق جب ربوبیت کی شکل میں ظہور پذیر ہوتی ہے، تو اس کا نام ’’قانونِ فطرت‘‘ رکھ دیا جاتا ہے، پھر چونکہ اس عالم میں عموماً تخلیق کا عام طریقۂ قانون ربوبیت کے زیر اثر انجام پارہا ہے، اس لئے صرف ’’قیومی تخلیق‘‘ کے سمجھنے سے لوگ گھبراتے ہیں، مثلاً اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ لکڑی کیمیائی عمل کے بعد مٹی ہوگئی اور مٹی گیہوں اور گیہوں روٹی، پھر روٹی مرغی کا بچہ بن کر سانپ کی غذاء بنی اور اس میں سانپ کا نطفہ بن کر بالآخر وہی لکڑی سانپ کی صورت میں لہرانے لگی، تو عوام الناس کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہوتی، لیکن اسی سلسلہ کو ربوبیت کی تدریجی منزلوں سے ہٹا کر اگر یوں کہہ دیا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ہاتھ کی لکڑی سانپ بن گئی تو بازاریوں کھلبلی مچ جاتی ہے اور ’’ناممکن‘‘، ’’ہو نہیں سکتا‘‘ کا شور افلاک تک پہنچ جاتا ہے، حالانکہ ان دونوں شکلوں میں بجز ربوبیت اور قیومیت کے اور کوئی فرق نہیں؛ بلکہ انسان اپنی تخلیقی کارناموں پر اگر غور کرے تو اُسے نطر آئے گا کہ قیومی تخلیق ربوبی تخلیق سے بدرجہا آسان اور سہل ہے، قیومی تخلیق خالق کی صرف معمولی توجہ اور التفات کی دست نگر ہے، بخلاف ربوبی تخلیق کے کہ اس میں کامل توجہ مسلسل اور غیر منقطع التفاتِ تام کی حاجت ہے، حیرت ہے کہ ربوبی تخلیق پر ہم جس ذات کو بدرجۂ اتم قادر اور مقتدر دیکھ رہے ہیں جب اُسی کی طرف کبھی کبھی قیومی تخلیق کی نسبت کی جاتی ہے تو نافہم اس کو ناممکن سمجھتے ہیں، بہر حال یہ ایک ذیلی بات تھی لیکن ضروری تھی اس لئے ضمناً یہاں اس ذکر کردیا گیا۔
چند اور ذیلی سوالات کے جوابات:
پہلا سوال:
(۱) ہمارے ذہنی مخلوقات کا وجود تو فقط ذہنی ہوتا ہے، ان کا اثر نہ ہمارے حواس پر پڑتا ہے اور نہ دوسرے اس کو محسوس کرسکتے ہیں، برخلاف خدائی مخلوقات کے کہ ان کا مشاہدہ ہر شخص کر رہا ہے؟
جواب:
مگر ظاہر ہے کہ ہماری تخلیقی قوت اتنی زوردار نہیں ہوسکتی یا نہیں ہے، جتنی خالق عالم کی ہے، اسی لئے اگر ہمارے ذہنی مخلوقات بیرونی وجود نہ حاصل کرسکیں تو یہ ہماری تخلیقی قوت کے ضعف کا نتیجہ ہے، اور یہ ضعف اس سے بھی ظاہر ہے کہ ہم عام طور پر کسی خیالی مخلوق پر چند سیکنڈ سے زیادہ اپنی توجہ کو قائم نہیں رکھ سکتے، لیکن وہ جو دیر تک کسی ایک نقطہ پر توجہ کو مرتکز کرنے کی مشق بہم پہنچالیتے ہیں آپ کو معلوم ہوگا کہ بتدریج ان کے ذہنی مخلوقات بھی خارجی وجود کا بھیس بدلنے لگتے ہیں، حتی کہ دوسروں کو بھی اس کا مشاہدہ ہونے لگتا ہے، مثلاً عموماً مسمریزم کی جو لوگ مشق کرتے ہیں وہ تھوڑی دیر کے لئے اپنے خیالی تصورات کا عکس دوسروں کے حواس پر بھی ڈال دیتے ہیں اور جو ان سے بھی قوی تر ہوتے ہیں وہ کچھ دیر کے لئے نہیں بلکہ اس سے زیادہ مستقل ٹھوس اور نمایاں قسم کے کام انجام دینے لگتے ہیں۔
شیخ اکبر فصوص الحکم میں لکھتے ہیں:
دوسرا سوال:اس سلسلہ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ پیدائش سے پہلے خدا کو عالم کا علم کس طرح ہوا؟ حتی کہ کن فیکونی قوت سے اس کی تخلیق پر وہ قادر ہوا؟ کیونکہ جو چیز موجود نہ ہو اس کے معلوم ہونے کی کوئی نظیر ہماری سامنے نہیں ہے؟
جواب:
ظاہر ہے کہ اس سوال کی بنیاد حق تعالیٰ کے علمِ ازلی کے انکار پر مبنی ہے جس میں قادرِ ذو الجلال کو کمزور انسان پر قیاس کیا گیا ہے، گویا جس طرح انسان کسی چیز کو اس کے موجود ہونے سے پیشتر نہیں جان سکتا، سمجھا گیا ہے کہ یہی حال خدا کا بھی ہے، حالانکہ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ چیونٹی جس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتی اس پر قیاس کرکے ہاتھی کے لئے بھی اس بوجھ کا اٹھانا ناممکن بتلایا جائے، نیز یہ کلیہ بھی صحیح نہیں کہ کسی چیز کا معلوم ہونا اس کے موجود ہونے پر موقوف ہے، ہم بہت سی ایسی چیزیں سوچتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں جن کو کبھی نہیں دیکھا، مثلاً جزو کو دیکھ کر کل کے متعلق سوچتے ہیں، موجودہ عالم کو معدوم فرض کرسکتے ہیں، حالانکہ عالم کو جب ہم نے دیکھا موجود ہی دیکھا، پس ج سطرح ہم موجود کو معدوم خیال کرسکتے ہیں کیا ہوا اگر خدا نے معدوم بھی معدوم عالم کو موجود فرض کرلیا۔ اور تو یہ اجمالی جواب تھا، مسئلہ کی صحیح تحقیق کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اس پر غور کرنا چاہئے کہ جس چیز کو ہم عالم یا کائنات کہتے ہیں خود اس کی حقیقت کیا ہے؟ سنا ہوگا کہ قدیم سطحی فلسفیوں نے تمام چیزوں کی آخری حقیقت خاک و باد، آب و آتش قرار دی تھی، پھر اس خیال میں ترمیم ہوئی اور اَسّی (۸۰) یا تراسّی (۸۳) کیمیائی بسائط کا نظریہ قائم کیا گیا اور اب کہا جاتا ہے کہ تمام کائنات کی آخری تحلیل برق پاروں پر ختم ہوتی ہے، اور بعضووں نے تو اب اس کا بھی اعلان کیا ہے کہ یہاں جو کچھ ہے صرف انرجی اور توانائی کی مختلف شکلیں ہیں …… بہر حال حقیقتِ عالم کے متعلق یہاں تک سائنس والوں کی پرواز ہے۔ نیز آپ کو یاد ہوگا کہ ابتدائے درس میں میں نے فلسفیوں کے اس گروہ کا ذکر کیا تھا جو سارے عالم کو چند گنے گنائے اوصاف پر ختم کردیتے ہیں، ان کی نارنگی میں زردی، ترشی، طول و عرض وغیرہ چند صفات کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا، وہ شجر و حجر، ثوابت و سیارات اور شمس و قمر سب کو صرف رنگ و روشنی کے مختلف مظاہر سمجھتے ہیں، ان کا بیان ہے کہ ان دو صفتوں یعنی رنگ و روشنی کو عالم سے سلب کرلو تو پھر آنکھ کے لئے یہاں کچھ بھی نہیں رہتا، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ رنگ بھی بالآخر روشنی ہی کے چند بھیسوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ الغرض کثرت کی ان گوناگوں اور لامحدود موجوں کو جن کا دوسرا نام کائنات یا عالم ہے وحدت کے سمندر میں گُم ہوتے ہوئے وہ بھی پاتے ہیں جنہوں نے واقعتاً اب تک کچھ نہیں پایا ہے، لیکن جس شخص کی پہلی یافت الحمد للہ رب العالمین کی ہو اور جو اس حقیقت کو سمجھ چکا ہو کہ اس عالم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اصلاً نہ تھی بلکہ یہاں ساری ’’نمود‘‘ ’’بود‘‘ ہی کی ہے اور اس عالم میں جہاں کہیں جو کمال اور جو صفت ج سشکل میں بھی نظر آتی ہے وہ اس کا ذاتی کمال یا صفت نہیں بلکہ سب رب العالمین کے شئون، صفات و کمالات اور حسنات کی مختلف شانیں ہیں جو مختلف مدارج کے لحاظ سے مختلف پیمانوں پر نمایاں ہورہی ہیں، پس جس نے اس حقیقت کو پالیا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ عالم کی پیدائش کے لئے عالم کے جاننے کی ضرورت نہیں بلکہ حق تعالیٰ کو اپنی ذات و صفات کا جاننا اور ان کا علم بس یہی کافی ہے کہ یہی کمالات و شئون اور صفات در اصل عالم کی حقیقتیں ہیں۔ الغرض ظاہر ہے کہ ازل میں خدا تھا اور خدا کے ساتھ اس کے لامحدود کمالات و صفات تھے، وہ ان تمام چیزوں أذات و صفات) کا عالم تھا، پس اس نے اپنی جن صفات کو جس پیمانے پر جن دوسرے صفات کے ساتھ جس ترتیب کے ساتھ تصور کیا (اسماء و صفات کی باہمی ترکیبوں سے لاتعداد و لا تحصٰی جو صورتیں علم الٰہی میں پیدا ہوئیں انہی کا نام اعیانِ ثابتہ اور اسمائے کونیہ وغیرہ ہے، کن فیکونی قوت کے زیرِ اثر آنے سے پہلے اجمال و تفصیل کے حساب سے علمِ الٰہی کی ان صورتوں کے جومراتب فرض کئے جاسکتے ہیں انہی کی تعبیرِ علمی تصوف میں احدیت، وحدیت اور واحدیت وغریہ اصطلاحی الفاظ سے کی جاتی ہے، لیکن ان اصطلاحات سے واعات کے سلجھانے میں بظاہر کوئی مدد نہیں ملتی، اس لئے میں نے ان غیر ضروری تفصیلات کا ذکر بھی غیر ضروری خیال کیا) اور جب اور جس وقت چاہا اس تصور کو کن فیکونی قوت سے خلق و آفرینش کا رنگ دے کر ظاہر فرمایا تو اس کے لئے خدا کا خود اپنی ذات و صفات کا علم یقیناً کافی ہے، گویا بقول عراقیؒ باہر سے نہیں بلکہ پیدائشِ عالم کے لئے: ؎
نخستیں بادہ کا ندر جام کردند
ز چشمِ مست ساقی وام کردند
یعنی خود ساقی کی چشمِ مست سے وام و قرض لیا گیا۔
قرآن نے اسی مسئلہ کی طرف اپنی مشہور آیت اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ میں اشارہ کیا ہے، نیز مشہور حدیث ہے:
مطلب یہ ہے کہ اسماءِ حسنیٰ جس قدوس و سبوح کے ساتھ مخصوص ہیں اور جس کے کمالات یا کلمات کے لکھنے کے لے نہ سمندر کا پانی اور نہ دنیا کے درخت کافی ہوسکتے ہیں اور جس کے متعلق خود سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوا: لا احصی ثناً لک انت کما اثنیت علی نفسک۔ یعنی تیری خوبیوں کو میں تو گن نہیں سکتا، بس تو ایسا ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے متعلق فرمایا ہے۔پس اسی حیّ و قیّوم نے اپنے غیر محدود اسماء اور بے شمار صفات کو جب اپنا غیر فرض کیا تو اسی کا نام عالم ہوگیا، اگر چہ حق تعالیٰ مثل سے پاک ہے لیکن صرف سمجھنے سمجھانے کے لئے یہ مثال دی جاسکتی ہے کہ جس طرح کبھی کبھی شاعر اپنی بینائی کو نرگس میں، گویائی کو سوسن میں، شنوائی کو غنچہ میں، حسرت و درد کو لالہ میں، اپنے استقلال کو ساحل میں اور بے چینی کو دریا میں فرض کرتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ کبھی کبھی تنہائی میں خود اپنی ذات کو اپنا غیر اعتبار کے گھنٹوں اس سے سوال و جواب بھی کیا کرتا ہے، تو ظاہر ہے کہ اپنی ذات و صفات کے متعلق اس عمل کرنے سے ہماری ذات یا صفت میں کوئی عیب یا نقص نہیں پیدا ہوجاتا، مثلاً اگر ہم کسی میں اپنی صفت بینائی فرض کریں تو اس فرض کی وجہ سے میری بینائی میں تو کوئی کمی پیدا نہیں ہوجاتی، پھر اگر غیر محدود اسماء و شیون، صفات و کمالات والے نے مختلف مدارج کے لحاظ سے ان کو اپنا غیر فرض کیا تو اس سے ذاتِ حق کی طرف کیا نقص عائد ہوتا ہے؟ کیا اس میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہے؟ البتہ اتنافرق ضرور ہے کہ ہماری ارادہ قوت اور کن فیکونی طاقت چونکہ کمزور ہوتی ہے اس لئے ہمارے مفروضات صرف مفروضات بن کر رہ جاتے ہیں اور ان سے واقعی آثار کا ظہور نہیں ہوتا، مثلاً ہم آگ کو اپنے ذہن میں پیدا کرلیتے ہیں لیکن اس سے سوزش اور روشنی کے آثار ظاہر نہیں ہوتے، برخلاف حق تعالیٰ کے کہ اپنی جس صفت جس کمال کے جس درجہ کو جس جگہ جس مقدار میں فرض فرماتے ہیں، اسی حد تک ان کا یہ فرض خلق اور آفرینش بن جاتا ہے، مثلاً جس میں اپنی صفتِ حیات جس مقدار میں فرض کرتے ہیں وہ اسی حد تک زندہ ہوجاتی ہے اور جس میں علم فرض کرتے ہیں اس میں علم پیدا ہوجاتا ہے، ….. الیٰ غیر ذٰلک، بہر حال ان کے مفروضات مخلوقات بن جاتے ہیں اور ان سے واقعی آثار کا ظہور ہونے لگتا ہے۔ الحاصل ’’عالم کو خدا نے کس طرح پیدا کیا؟‘‘ اس کا جواب تو مسئلہ قیّومیت تھا۔
تیسرا سوال:
خدا نے عالم کو کس چیز سے پیدا کیا؟
جواب:
اب ایک اور دوسرا مستقل سوال ہے کہ خدا نے عالم کو کس چیز سے پیدا کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کثرت کی بنیاد ان غیر متناہی اسماءِ حسنیٰ اور بے شمار کلمات پر قائم ہے جو ہر لحظہ و ہر آن کل یومٍ ھو فی شأن کے سرچشمۂ جلال سی اُبل رہے ہیں، بقول جامیؔ ؎
زاں سایہ کہ افگندی بر خاک گہ جلوہ
دارند ہمہ خوباں سرمایۂ زیبائی
اسی کی طرف مغربی نے بھی اشارہ کیا ہے ؎
ز دریا موج گوناگوں بر آمد
ز بے چونی برنگ چوں بر آمد
گہے در کسوتِ لیلی فرو شد
گہے در صورتِ مجنون بر آمد
رہ گئی یہ بات کہ عالمِ کثرت کی کونسی چیز حق تعالیٰ کی کس صفت اور کس اسم کی آئینہ بردار ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا بتانا آسان نہیں ہے، کامل طور پر اس کا علم اسی کو ہوسکتا ہے جو اسماءِ حسنیٰ میں سے ہر اسم کے ہر درجہ کا علم رکھتا ہو اور اسی طرح عالم کی بھی ہر چیز کی آخری حقیقت کی معرفت بھی اُسے حاصل ہوئی ہو ………. میں بتا چکا ہوں کہ علم و معرفت کا یہ وہ مقام ہے کہ جہاں انسانیت کی آخری رسائی (یعنی ذاتِ اقدس رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی ما عرفناک حقَّ معرفتک کا اقرار کیا ہے۔ ؎ ’’تا بہ دیگراں چہ رسد‘‘ ایک عامی انسان کی لذت پذیری کے لئے معرفت کی یہ اجمالی روشنی بھی ؎
دیدہ آئینہ دارِ طلعتِ اوست
دل سرا پردۂ محبت اوست
کا حال پیدا کرنے کے لئے کافی ہے، تفصیلی طور پر سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن حواس ظاہر یا باطنی سب پر ’’ہر جا کہ نظر کردم سیمائے قومی بینم‘‘ کی خنگ اور شیریں موجیں ٹکراتی رہتی ہیں۔ (حقیقت تو یہ ہے کہ جب تحلیل و تجزیہ کے بعد عالم کی تعمیر کا آخری سرمایہ صرف صفات و اسمائے حق ٹھہر تے ہیں، پھر انہی کی باہمی ترکیب سے جو مختلف صورتیں عالم الٰہی میں مرتب ہوئیں حق تعالیٰ اپنے انہی معلومات کی شکل میں متجلّی ہوا ہے، مظاہر تو حقائق عالم ہیں لیکن ظاہر اس میں خود ذاتِ حق ہے، علی الخصوص جب خالق کسی شعوری مخلوق کی شکل میں ظاہر ہو اور اسے اپنی کن فیکونی مخلوق بنائے تو ایسی مخلوق کے شعور سے عالم کا علم جدا نہیں ہوسکتا، اسی لئے صوفیہ کے نزدیک حق کی یافت کی قریب ترین شکل یہ ہے کہ اپنے ’’انا‘‘ میں ان کےشعور کو بیدار رکھا جائے، اجمالاً اس کا شعور اگرچہ ہر عامی کو ہوتا ہے اسی لئے حق تعالیٰ کو مخاطب کرنے کے لئے اپنی شعوری توجہ کو ہر شخص کافی سمجھتا ہے، لیکن صوفیہ اسی اجمال کی تفصیل کی مشق کرا کے دوامِ حضور کے مقام پر مرید کو پہنچادیتے ہیں۔ حدیث انت الاولیٰ فلیس قبلک شیئ و انت الآخر فلیس بعدک شیئ انت الظاہر فلیس نوتک شیئ و انت الباطن فلیس دونک شیئ یعنی تو ہی پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ہے، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں ہے، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کچھ نہیں ہے اور تو ہی باطن ہے تیرے آگے کچھ نہیں ہے، یا حدیث احفظ اللہ تجدہ تجاھک یعنی خدا کو یاد رکھو اُسے اپنے سامنے پاؤگے، وغیرہ میں انہی اعتبارات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے) اور قرآن کی تعلیم کا سب سے پہلا ابتدائی سرا ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ جو بہتوں کے لئے تقلیدی معرفت کی حیثیت رکھتا ہے، مگر جاننے والوں کے لئے حقیقت کے آغاز کا ابتدائی نقطہ یہی ہے، جس نے یہ پالیا وہ انشاء اللہ آخر تک پاتا چلا جائے گا، لیکن جسے الفاظ کے علاوہ قرآن کی اس اساسی و افتتاحی تعلیم میں معنیٰ کا کوئی حصہ نہ ملا مشکل سے آئندہ بھی اُسے کوئی ایسی چیز مل سکے گی جس کا ملنا دراصل ملنا ہے، بہر حال بجائے تفصیل کے اس مسئلہ میں ہمارے لئے اجمال بھی بہت کچھ ہے، تاہم اس اجمال کے باوجود صفاتِ الٰہی کے ظہور کی دو کلی شکلوں کی طرف قرآن میں بھی اشارہ کیا گیا ہے، صوفیہ اسلام کی اصطلاح میں اسی کی تعبیر آفاق و انفس سے کی جاتی ہے۔
آفاق و انفس:
درحقیقت ان دونوں اصطلاحوں کا مأخذ بھی قرآن ہی کی وہ مشہور آیت ہے جس میں حق تعالیٰ نے اپنی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
تصوف کی کتابوں میں اس کی تفصیل مل سکتی ہے کہ کس طرح اس چھوٹے پیمانے میں وہ سب چیزیں اُتر آئی ہیں جو وسیع سے وسیع تر پیمانوں پر عالمِ کبیر میں پائی جاتی ہیں، کم از کم اتنا تو ہر عامی بھی جانتا ہے کہ انسانی وجود ان تمام خواص و آثار کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، جن کے مظاہر عام طور پر جمادات و نباتات اور حیوانات وغیرہ مرکبات ہیں، اسی طرح کون نہیں جانتا کہ انسان سے باہر اگر مٹی ہے، پانی ہے، ہوا ہے اور حرات ہے تو تاریخ کے نامعلوم زمانہ سے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہماری جسدی ترکیب میں بھی یہ سباری چیزیں شریک ہیں، اور جب یہ ہیں تو جن کیمیائی بسائط سے ان عناصر کی ترکیب ہوئی ہے کیا کوئی اس کا انکار کرسکتا ہے کہ وہ بھی انسانی بدن کے اجزاء نہیں ہیں، بلکہ عہدِ جدید کے کیمیائیوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جتنے کیمیائی بسائط انسان سے باہر پائے جاتے ہیں ان کا ایک بڑا حصہ ہماری جسدی تعمیر میں خرچ ہوا ہے، البتہ بعض بسائط کا اب تک ان کو پتہ نہیں چلا ہے، لیکن جو معلوم نہیں ہیں کیا ضروری ہے کہ وہ موجود نہ ہوں، بہر حال کم از کم ہر شخص اتنا تو ضرور جانتا ہے کہ انسانی وجود ان تمام خواص و آثار کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے جو عام طور پر حیوانات، جمادات اور نباتات وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔الحاصل جمادات ہو یا معدنیات، نباتات ہو یا حیوانات بلکہ وہ ساری چیزیں جو جو اس کی گرفت میں آسکتی ہوں کون نہیں جانتا کہ انسانی ہستی (وجود) ان تمام طبقاتِ محسوس کے آثار و خواص کی ’’کتابِ مجمل‘‘ اور ’’نسخۂ جامع‘‘ ہے، بلکہ کہا جاتا ہے کہ علاج و معالجہ اور طبی دواؤں کی بنیاد عالمِ صغیر و کبیر کی اسی باہمی مناسبت پر قائم ہے، حتٰی کہ وہ نورانی اجرام جو ایتھر کے لامحدود سمندر میں تیر رہے ہیں یا جو ان کے پیچھے ہیں گو عوام الناس کو اس کا علم نہ ہو لیکن جن لوگوں نے انسان کے باطنی قویٰ کو کریدا ہے انہیں اس چھوٹے قالب میں عالمِ انوار کے وہ سارے نظامات منکشف ہوئے ہیں جو اس سے باہر پائے جاتے ہیں۔
الحاصل صفاتی لحاظ سے جن جن چیزوں کا مظاہرہ آفاق میں ہوا ہے انفس میں کسی نہ کسی طرح وہ سب چیزیں کسی نہ کسی پیمانے میں ضروری پائی جاتی ہیں، صوفیہ کے نزدیک بھی یہی مطلب ہے، قرآن کی اس آیت کا جس میں حضرت آدم علیہ السلام کےمتعلق ارشاد ہوا کہ لما خلقت بیدی یعنی میں نے آدم کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ بالفاظِ دیگر اپنے تمام صفاتِ جلالی و جمالی اور سلبی و ایجابی کا اُسے مظہر بنایا ہے، لیکن یہ صرف صفات کی حد تک بات تھی، الحاصل آفاق میں بھی انہی صفات کو فرض کرکے کُن فیکونی عمل کے زیرِ اثر ایجاد کا رنگ بخشا گیا اور پھر چھوٹی تقطیع پر اس عمل کا ظہور انفس میں بھی ہوا۔
خلافت:
اب صرف ایک بات رہ گئی کہ اب تک خدا نے اپنے اسماء و صفات کو اپنے سے باہر فرض کیا یا پیدا کیا لیکن خود اپنی ذات کو اپنی غیر فرض کرکے کوئی مخلوق نہیں بنائی، یہی وہ ارادہ تھا جس کااعلان ملائکہ کے سامنے ازل میں إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً سے کیا گیا اور یہی ہوا کہ صفات کےاس نسخہ جامعہ میں یا عالمِ صغیر میں خود اپنے آپ کو اپنا غیر فرض کرکے وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي کا اعلان کیا گیا اور جمادات سے لے کر ملائکہ تک کو اس کے آگے جھکنے کا حکم ہوا، اور اب جاکر پیکرِ آدم احسن تقویم کے سانچے میں ڈھل کر خدا کا خلیفہ بن کر آیا، یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس کا پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے، یعنی خلق اللہ اٰدم علی صورتہ (پید کیا آدمؑ کو اللہ نے اپنی صورت پر)۔ پس شخصِ کبیر یا آفاق کے لئے جس طرح ایک روح نقطۂ مرکزی یا انا (خدا) تھا اور ہے اسی طرح اس شخص صغیر میں بھی ایک ایسا شعوری نقطہ پیدا ہوگیا جس کو ہر شخص ہم میں سے اَنا یا میں وغیرہ، الفاظ سے تعبیر کرتا ہے، جس میں وہ سارے شیون و اوصاف ہیں جن پر شعوری یا غیر شعوری طور پر الوہیت کا دھوکہ ہوتا ہے اور خدا جانے کتنوں کو ہوا ہے۔
انسانیت کا یہی بلند مقام ہے جس کی بلندی کا اظہار روم کے عارف نے ان لفظوں میں فرمایا:
منِگر بہ ہر گدائے کہ تو خاص ازانِ پاکی
مَفروش خویش ارزاں کہ تو بس گراں بہائی
بعصا شکاف دریا کہ تو موسئِ زمانی
! بدر آں قبائے مہ را کہ تو نورِ مصطفائی
بخراش دستِ خوباں کہ تو یوسفِ جمالی
چو مسیح دم فرو دم کہ تو نیز ازاں ہوائی
بصف اندر آئی تنہا کہ سفندیار وقتی
درِ خیبر است برکن تو علِّ مرتضائی
چو خلیل رَو در آتش کہ تو خالصیّ و دل کش
چو خضر بہ آب حیواں کہ تو جوہرِ بقائی
بگسل ز بے اصولائی مشنو فریبِ غولاں
کہ تو آں شریفِ اصلی کہ تو از بلند جائی
تو ز نور لایزالی ز د رُو نہ خوش جمالی
تو ز فیضِ ذو الجلالی کہ تو پرتوِ خدائی
تو ہنوز ناپدیدی کہ جمال خود نہ دیدی
سحرے چو آفتابی ز درونِ خود برائی
تو ز خاک سر بر آور کہ درخت بس بلندی
تو بپر بکوہِ وحدت کہ شریف تر ہمائی
توئی آں دُرے کہ فانی دوہزار بحر در تست
توئی بجز بیکرا نہ ز صفاتِ کبریائی
(منقول از دیوان مولانا رومیؒ کہ مشہور بہ دیوان شمس تبریز است)
حقیقتِ محمدیہ:
یہی خلافتِ الٰہیہ ہے جس کا انسان مظہر ہے، لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ شیونِ الٰہی اپنے مدارج کے لحاظ سے غیر محدود ہیں، اسی طرح خلافت عامہ تو ہر انسان کو حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ مدارج کے اختلاف نے اس کو بے شمار افراد میں بانٹ دیا ہے، تاہم عقل یہ تجویز کرتی ہے کہ خلاف کے درجات کو مکمل ہوتے ہوئے بالآخر ایک ایسی ہستی پر ختم ہونا چاہئے جو تمام اسماء و صفات اور ذات کا مظہرِ اتم ہو، اور وہی ’’دُرِّ فرید‘‘ نوع انسانی کا کامل ترید فرد ہو بلکہ تکوین و تخلیق کا آخری نتیجہ قرار پاسکتا ہے، کائنات کے ارتقائی درجات و طبقات کی رفتار کو دیکھ کر نہ صرف وجدان و بصیرت والے بلکہ عقلی روشنی کے سہارے چلنے والوں نے بھی کبھی کبھی اس فردِ کامل کو انسانیت کی طویل الذیل تاریخ میں تلاش کیا ہے، حتی کہ متأخرینِ فلاسفہ میں جرمنی کے مشہور مفکر نیٹشے نے تو اپنے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی ارتقاء کی اسی آخری تقویم یا قالب کی تلاش پر رکھ کر مافوق البشر کا نظریہ قائم کیا، لیکن جس مسئلہ میں عقل سے زیادہ نورِ ایمان کی روشنی درکار ہے وہاں صرف عقلی احتمالات سے کسی یقینی نتیجہ تک پہنچنا مشکل ہے۔ کاش اُسے معلوم ہوتا کہ اس سے بہت پہلے آسمانی آواز نے خُلق عظیم والے کو عالمین (سارے جہاں) کے لئے رحمت بناکر دنیا میں یہ کہتے ہوئے متعین کردی ہے کہ وہی کمالات انسانی جو رفتہ رفتہ ارتقاء پاکر نبوت و رسالت تک پہنچتے ہیں اب نبیوں کے انہی کمالات کا خاتمِ نسل آدم میں آکر سارے اسماء و صفات کے تخلیقی دائرہ کا انتہائی اور آخری نقطہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ظاہر ہوگیا اور یوں عالمین کے رب کی ساری حمد، ساری ستائش اور سارے کمالات مخلوق بن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر میں مکمل ہوگئے ……. اسی لئے کہا جاتا ہے کہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف نام ہی نہیں بلکہ قدرت کا آخری کام بھی ہے۔
By silsilaekamaliya • Important Articles, wahdatul wujud • Tags: Wahadatul Wujud, Wahdat al Wajood, Wahdat ul wajood